اسلام میں سستی کی ممانعت
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو فعال ، بیدار اور محنتی بنانے پر زور دیتا ہے۔اسلام میں عمل ، جدو جہد اور کوشش کو پسندیدہ قرار دیا گیا ہے جبکہ سستی اور کاہلی کو نہ صرف ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے بلکہ انسان کی روحانی ، اخلاقی اور معاشرتی ترقی میں رکاوٹ قراردیا گیا ہے۔ سستی دراصل انسان کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دیتی ہے۔ایک ایسا فرد جو اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرتا ہے نہ اپنے خالق حقیقی کا حق ادا کر سکتا ہے اور نہ ہی معاشرے کا مفید فرد بن سکتا ہے۔ اسی لیے اسلام ان تمام عادات سے منع فرماتا ہے جو انسان کو غفلت ، بے عملی اور ناکامی کی طرف لے جائیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش ‘‘ ( سورۃ النجم )۔ یعنی انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتاہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے : اے اللہ میں کمزوری ، سستی ، بزدلی اور بڑھاپے یعنی محتاجی سے تیری پناہ چاہتاہوں ،میں زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ چاہتاہو ں اور میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔( متفق علیہ )۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جب کوئی رات کو سوتا ہے تو شیطان اس کی گردن کے پچھلے حصے میں تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر اسے یہ تھپکی دیتا ہے کہ سوئے رہو ابھی بہت رات باقی ہے ،پھر اگر وہ شخص جاگ جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب نماز پڑھتا ہے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ افسردگی اور سستی کی حالت میں صبح کرتا ہے۔ ( متفق علیہ )۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓسے مروی ہے کہ نبی کریم رئوف الرحیم ؐ کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا جو صبح دیرسے جاگتا تھا یہاں تک کہ نماز فجر قضا ہو جاتی۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ وہ شخص ہے جس کے دونوں کانوں میں یا ایک کان میں شیطان پیشاب کر دیتا ہے۔ ( متفق علیہ )۔
سستی کے منفی اثرات نہ صرف فرد تک محدود رہتے ہیں بلکہ اس سے گھر ، خاندان یہاں تک کہ پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔ ایک سست اور کاہل شخص اپنے وقت اور صلاحیتوں کو ضائع کر دیتا ہے اپنے فرائض میں مالی و اخلاقی معاملات میں پیچھے رہ جاتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں