ظلم کا انجام (۲)
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ جو شخص ظالم کے ظلم میں مدد کرتا ہے یا کسی مسلمان کا حق چھینتا ہے یا کسی کا حق چھیننے کا طریقہ بتاتا ہے تو ایسا شخص عذاب الٰہی کو دعوت دیتا ہے اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا۔
حضرت سفیان ثوریؓ فرماتے ہیں کہ اگر تو ستر گناہ لے کر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے جب کہ وہ گناہ معصیت خداوندی سے متعلق ہوں یہ اس سے آسان ہے کہ تو ایک وہ گناہ لے کر جائے جو تیرے اور بندے کے درمیان ہو۔
حضرت فضیل بن عیاض ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی ایک آیت مبارکہ تلاوت کر کے اس پر عمل کرنا مجھے ہزار قرآن خوانی کرنے سے اچھا لگتا ہے ، مومن کو خوش کر کے اور اس کا کام کر کے مجھے ساری عمر کی عبادت سے زیادہ پسند ہے اور دنیاسے بے رغبتی مجھے زمین و آسمان کی عبادت سے زیادہ پسند ہے اور حرام کی ایک بات چھوڑنا مجھے حلال مال سے کیے گئے سو حج سے زیادہ پسند ہے۔
حضرت ابو بکر الوراق ؓ فرماتے ہیں لوگوں کا ایمان ان تین چیزوں کی وجہ سے کمزور ہو جاتا ہے۔ اسلام جیسی عظیم نعمت کا شکر ادا نہ کرنا ، اسلام کے جانے پر خائف نہ ہونا اور مسلمانوں پر کیے جانے والے ظلم کی پرواہ نہ کرنا۔
حضرت فقیہ ؓ فرماتے ہیں کہ ظلم سے بڑھ کر کوئی دوسرا گناہ نہیں ہے یہ اس لیے کہ جو گناہ تیرے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور کرم سے معاف فرما کر تجھے بخش دے گا مگر جو گناہ تیرے اور بندے کے درمیان ہو گا تو پھر اس کے سواکوئی اور راستہ نہیں کہ تو اپنے رفیق کو راضی کرے۔ ظالم پر لازم ہے کہ وہ ظلم سے توبہ کرے اور مظلوم سے دنیا میں ہی معافی مانگ لے اور اگر وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا تو پھر ہر دعا میں اس کے لیے استغفار کرے۔ اس طرح یہ شخص ظلم سے چھٹکارا پا لے گا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نہ ہی کبھی کسی کے لیے اچھائی کی ہے اور نہ کبھی کسی کے لیے برائی کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے :جو صالح عمل کرتا ہے وہ اپنے لیے ہی کرتا ہے اور جو برائی کرتا ہے وہ بھی اپنے لیے ہی کرتا ہے اور تمہارا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔(سورۃ حم السجدہ )۔
ظلم کا انجام ہمیشہ بھیانک ہوتا ہے۔ ظالم چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالی کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے جابر اور ظالم لوگوں کو زمین بوس کر دیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں