منگل، 2 جون، 2026

عید الاضحی اور قربانی(۳)

 

عید الاضحی اور قربانی(۳)

اسلام میں قربانی کے لیے تین ایام 10 ، 11 ،12 ذی الحجہ کے دن مختص کیے گئے ہیں۔ ان تین ایام کے علاوہ کی جانے والی قربانی جائز نہیں۔ عید کی نماز سے قبل قربانی کرنا جائز نہیں۔ اگر کسی نے نماز عید سے پہلے قربانی کی تو وہ قربانی نہ ہو گی اس پر دوبارہ قربانی واجب ہے۔ ایسے دیہات جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی وہاں نماز فجر کے بعد قربانی جائز ہے لیکن وہاں بھی قربانی سورج طلوع ہونے کے بعد کی جائے۔ 
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کی تو اس نے اپنے لیے کی۔ (یعنی گوشت کھانے کے لیے ) اور جس نے نمازکے بعد قربانی کی، اس کی قربانی ہو گی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پا لیا۔(بخاری )۔
قربانی کے بے شمار معاشرتی فوائد بھی ہیں۔حضور نبی کریم ﷺ نے قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنے کا حکم فرمایا۔ ایک حصہ اپنے لیے ، دوسرا رشتہ داروں کے لیے اور تیسرا غریب اور مستحق افراد کے لیے۔ لہٰذا قربانی کے موقع پر ہمیں معاشرے کے نادار اور مستحق لوگوں کو بھی  ان خوشیوں میں شامل کرنا چاہیے اور ان تک بھی گوشت پہنچانا چاہیے تا کہ مساوات کا عملی مظاہرہ ہو سکے۔ 
 عید لاضحی کے موقع پر صفائی اور ماحول کا خیال رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ اسلام پاکیزگی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے۔ قربانی کے بعد  الائیشیں سڑکوں اور گلیوں میں پھینک دینا نہ صرف بیماریوں کا سبب بنتا ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ہمیں چاہیے کہ اس بابرکت اور پْر مسرت موقع پر صفائی کا خاص خیال رکھیں اورآلائشوں کو مناسب طریقے سے تلف کریں تا کہ ماحول صاف ستھرا رہے۔ 
قربانی سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی محبوب ترین چیز بھی قربان کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ آج کے دور میں ہمیں جانورقربان کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہوئے اپنی خود غرضی ، انا اور نفس کی خواہشات کو بھی قربان کرنا چاہیے۔ 
قربانی ایک زندہ پیغام ہے۔ یہ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فرمانبرداری اور حضور نبی کریم ﷺ کی  سنت مبارکہ کی یاد دلاتی ہے۔ اگر مسلمان قربانی کی اصل روح کو سمجھ لیں تو ان کے اندر اخلاص ، تقویٰ ، ایثار ، صبر اور اللہ تعالیٰ سے محبت کے  جذبات بیدار ہو سکتے ہیں۔
 اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی روح کو سمجھنے اور اخلاص کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری قربانیاں اپنی پاک بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین۔

پیر، 1 جون، 2026

عید الاضحی اور قربانی(۲)

 

عید الاضحی اور قربانی(۲)

قربانی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے اور یہ انسانی فطرت میں موجود خود غرضی ، مادہ پرستی اور دنیا کی محبت کو ختم کرتی ہے۔لہٰذا وہی قربانی اللہ تعالیٰ کے حضور قابل قبول ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کی جائے۔ قربانی کا جانور کتنا ہی مہنگا کیوں نہ ہو اور کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو اگراس میں دکھلاوا اور ریاکاری شامل ہے تو اللہ کے نزدیک ایسی قربانی کی کوئی اہمیت نہیں: ارشاد باری تعالیٰ : تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ ( سورۃ الکوثر )۔
سورۃ الحج میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’اللہ کو ہرگز نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کے خون۔ ہاں تمہاری پرہیز گاری اس تک پہنچتی ہے ‘‘۔ (سورۃ الحج :آیت ۳۷)۔
سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبو ب ﷺ سے فرمایا : ’’(اے محبوبﷺ ) تم فرمائو میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا  مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے ‘‘۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ  فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یوم النحر میں ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک قربانی کرنے سے زیادہ محبوب نہیں۔ اوروہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتا ہے۔ لہٰذا اسے خوش دلی سے کرو۔ ( ترمذی )۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عرض کی یا رسول اللہ ﷺ یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم ؑ کی سنت ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا اس سے ہم کو ثواب ملے گا ؟آپ ﷺ نے فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے عرض کیا اور اون؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ اون کے ہر بال کے بدلے میں بھی ایک نیکی ہے۔( مسند احمد )۔
ان آیات مبارکہ اور احادیث مبارکہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ قربانی کرنا ہر عاقل بالغ اور استطاعت رکھنے والے مسلمان پر واجب ہے اور  اس کی ادائیگی سے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اس کے بر عکس جو شخص مالی استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہیں کرتا نبی کریم ﷺ نے ایسے شخص کے لیے وعید فرمائی ہے : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص قربانی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو اور پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ ( ابن ماجہ )۔

اتوار، 31 مئی، 2026

عید الاضحی اور قربانی(۱)

 

عید الاضحی اور قربانی(۱)

عید الاضحی مسلمانوں کے عظیم ترین مذہبی تہواروں میں سے ایک ہے یہ صرف خوشی و مسرت کا دن نہیں بلکہ ایثار ، قربانی ، اطاعت الٰہی اور انسانیت کی خدمت کا عظیم پیغام بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ دن ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال قربانی کی یاد دلاتا ہے۔جب ایک باپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے لخت جگر کو قربان کرنے کا ارادہ کیا اور ایک بیٹے نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے اس عظیم جذبہ اطاعت کو قبول فرمایااور رہتی دنیا تک اسے مسلمانوں کے لیے سنت اور شعار بنا دیا۔ 
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کی : الٰہی مجھے لائق اولاد دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا فرمایا۔ بڑھاپے میں اولاد کا ملنا بہت بڑی نعمت ہے۔لیکن جب حضرت اسماعیل ؑ جوانی کو پہنچے اور اپنے باپ کا سہارا بنے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل ؑ کو ذبح کرنے کا حکم فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہو گیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیارائے ہے‘‘۔ (الصفٰت )۔
قربان جائیں حضرت اسماعیل کے جواب پر آپ ؑنے اللہ تعالیٰ کی رضا پر قربان ہونے کا کمال شوق سے اظہار کرتے ہوئے فرمایا :
" اے میرے باپ کیجیے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے خدا نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے "۔ ( الصفٰت)۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب کو سچ کر دکھایا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ’’اور جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم۔بیشک تو نے خواب سچ کر دکھائی ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو۔بیشک یہ روشن جانچ تھی۔اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچا لیا۔ اور ہم نے پچھلوں میں بھی اس کی تعریف باقی رکھی۔ سلام ہو ابراہیم پر۔ ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکو ں کو۔بیشک وہ ہمارے اعلی درجہ کے کامل ایمان والے بندوں میں ہیں ‘‘۔ (الصفٰت)۔
اس موقع پر شیطان نے حضرت ہاجرہ ؑ، حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے دلوں میں وسوسے ڈالنے کی کوشش کی تاکہ آپ  اللہ تعالیٰ کاحکم پورا نہ کر سکیں لیکن آپ نے شیطان کو کنکریاں مار کر بھگا دیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش میں کامیاب ہوئے۔

ہفتہ، 30 مئی، 2026

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام (۲)

 

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام (۲)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا ایک ایمان افروز واقع اور آزمائش یہ بھی ہے کہ جب آپ حضرت ہاجرہ ؑ اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ کر آئے جہاں نہ پانی تھا اور نہ ہی کھانا ۔جب آپؑ دونوں کو چھوڑ کر واپس  جانے لگے توحضرت ہاجرہ نے پوچھا ہمیں کس کے سہارے چھوڑے جا رہے ہو۔ آپؑ نے فرمایا اللہ کے ۔حضرت ہاجرہ نے پوچھا کیا یہ اللہ کا حکم ہے تو حضرت ابراہیم ؑ نے  ہاں میں جواب دیا  اس پرحضرت ہاجرہ نے کہا کہ اللہ تعالی ہمیں ضائع نہیں کرے گا ۔ حضرت ابراہیم اللہ تعالی کی طرف سے اس امتحان میں بھی کامیاب ہوئے ۔ 
آپ ؑ کی بڑی آزمائش حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی تھی ۔بڑھاپے میں اولاد عطا ہونا بہت بڑی نعمت تھی مگر اللہ تعالی نے پیارے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا ۔ ارشاد باری تعالی ہے : الہی مجھے لائق اولاد دے ۔ تو ہم نے اسے خوش خبری سنائی ایک عقل مند بیٹے کی ۔ پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہو گیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے۔ کہا اے میرے باپ کیجیے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے۔ خدا نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ (الصفٰت)۔
یہ فیضان نظر تھایا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی۔یہ باپ اور بیٹے کی عظیم اطاعت اور ایمان کی مثال ہے جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے پیشانی کے بل لٹایا تو اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل کی جگہ دنبہ بھیج دیا اور آپ کی قربانی قبول فرمالی ۔ارشاد باری تعالی ہے :اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم بیشک تونے خواب سچ کردکھایا، ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو۔ بیشک یہ روشن جانچ  تھی۔اور ہم نے ایک بڑ اذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچا لیا ۔(الصفٰت)۔
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تو اللہ تعالی کے حضور عرض کی یا اللہ اپنے پاک گھر کو آباد کرنے والا بھیج دے ۔اللہ تعالی نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور نبی آخرالزمان نبی کریم ﷺ کو آپ کی اولاد میں  مبعوث فرمایا ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ سچا ایمان صرف دعوؤں کا نام نہیں بلکہ عمل ، قربانی اور استقامت کا تقاضا کرتا ہے ۔ آپؑ نے ہر آزمائش میں االلہ تعالی پر بھروسہ کیا اور ہر امتحان میں کامیاب ہوئے ۔

جمعہ، 29 مئی، 2026

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام (۱)


 

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام (۱)

جدالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عظیم المرتبت نبی ہیں۔ آپؑ کی ساری زندگی ایمان ، قربانی ، صبر ، توحید اور اطاعت الٰہی کا ایسا نمونہ ہے جس کی مثال تاریخ انسانیت میں نہیں ملتی۔آپ علیہ السلام کی ساری زندگی آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی مگر ہر امتحان میں آپ علیہ السلام کامیاب ہو ئے اور خلیل اللہ کہلائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں فرمایا میں تمہیں لوگوں کاپیشوا بنانے والا ہوں۔( سورۃ البقرۃ )۔
اس آیت مبارکہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ امامت اور عظمت کا مقام آسانیوں سے نہیں بلکہ مسلسل قربانیوں اور آزمائشوں سے حاصل ہوتا ہے۔آپ علیہ السلام کی زندگی کا ہر باب انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے ہر قربانی معمولی ہے۔ 
حضرت ابراہیمؑ ایسے ماحول میں پیدا ہوئے جہاں شرک ، بت پرستی اور گمراہی عام تھی۔ یہاں تک کہ آپ کے گھر میں بھی بت تراشے جاتے تھے۔قوم پتھروں کے بنائے ہوئے بتوں کو سجدہ کرتے اور ان سے مرادیں مانگتی تھی۔ آپ علیہ السلام نے قوم سے کہا کہ یہ چاند ،سورج ، ستارے جو فنا ہوجاتے ہیں اور بت جو کچھ بول نہیں سکتے یہ کبھی حقیقی معبود نہیں ہو سکتے۔حقیقی معبود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 
جب اپنے باپ سے بولا اے میرے باپ کیوں ایسے کو پوجتا ہے جو نہ سن سکتا ہے اور نہ دیکھ سکتا اور نہ کچھ تیرے کام آئے۔ ( سورۃ مریم)۔
دعوت حق اور وہ بھی اپنے گھر سے پہلی بڑی آزمائش تھی کیونکہ خاندان ، معاشرے اور پوری قوم کے خلاف کھڑے ہونا انتہائی مشکل ہوتا  ہے مگر آپؑ نے ہر مشکل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے برداشت کیا۔
جب قوم بت پرستی سے باز نہ آئی تو آپؑ نے ایک میلے کے موقع پر جب سارے وہاں جمع تھے بت خانے میں جا کر سارے بت توڑ دیے اور کلہاڑا بڑے بت کے اوپر رکھ دیا۔ جب قوم واپس آئی تو بتوں کی یہ حالت دیکھ کر بہت غصے میں آگئے اور آپؑ سے پوچھا یہ کام کس نے کیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا : ان کے اس بڑے نے کیا ہو گا تو ان سے پوچھو اگر بولتے ہوں۔ ( سورۃالانبیاء )۔
قوم نے آپ علیہ السلام سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا اور ایک بہت بڑی آگ جلائی۔آگ کی شدت کا یہ عالم تھا کہ کوئی بھی اس کے قریب نہیں جا سکتا تھا۔آپؑ کو منجنیق کے ذریعے آگ میں پھینکا گیا تو للہ تعالیٰ نے آگ کو حکم فرمایا :’’ہم نے فرمایا اے آگ ہو جا ٹھنڈی اور سلامتی والی ابراہیم پر‘‘(سورہ الانبیاء )۔

اتوار، 24 مئی، 2026

خطبہ حجۃ الوداع انسانیت کے لیے ابدی منشور(۱)

 

خطبہ حجۃ الوداع انسانیت کے لیے ابدی منشور(۱)

ہفتہ، 23 مئی، 2026

فضائل مدینہ منورہ (2)

 


فضائل مدینہ منورہ (2)

ارشاد باری تعالیٰ ہے : اپنی جانوں پر ظلم کرنے والو نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائو پھر اللہ پاک سے معافی مانگو اور رسول پاکﷺ تمہاری شفارش کر دیں تو تم اللہ پاک کو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم فرمانے والا پائو گے۔گویا گنہگاروں کے لیے بخشش اور نجات کا ذریعہ و وسیلہ نبی پاک کی بار گاہ میں حاضری ہے جہاں دن رات رحمتوں کی برسات ہوتی ہے۔ پریشان حال ، دکھی اور غم کے ماروں کیلئے اطمینان اور سکون و راحت کا مقام۔ مسجد نبوی شریف میں حدیث درج ہے کہ میری شفاعت بڑے گنہگاروں کے لیے بھی ہے۔ 
آپ کی بارگاہ میں سلام پیش کرنا ہر مسلمان کی شدید خواہش ہوتی ہے۔ جہاں جہاں آپ کے قدم مبارک لگے اللہ پاک نے جنت کے باغوں میں سے باغ بنا دیا جسے ریاض الجنہ کہتے ہیں۔ جہاں نفل ادا کر نا بہت بڑی سعادت ہے۔ اس مقام کے ساتھ اصحاب صفہ کا چبوترا ہے جہاں رسول پاک کے غلام علم وحکمت اور عرفان کی منزلیں حاصل کرتے تھے۔ 
اس حجرہ مقدس کے اندر محبوب خدا کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق اور حجرت عمر فاروق رضوان اللہ علیھم اجمعین آرام فرما ہیں۔ اس کے ساتھ قدمین شریفین کی طرف عشاقان رسول اپنی حاضری کو بڑا اعزاز سمجھتے ہیں۔ 
مسجد نبوی میں ایک کھجور کا خشک تنا تھا جس کے ساتھ ٹیک لگا کر نبی کریمﷺ خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ جب صحابہ کرم نے ممبر بنوایا تو یہ کجھو ر کا تنا نبی پاک کی جدائی اور غم میں رویا تو نبی پاک نے اس کو اپنے قلددہ میں لے کر تسلی دی۔مسجد نبوی کے ایک طرف کچھ فاصلے پر جنت البقیع ہے جہاں حضرت بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا اور حضرت عثمان غنی ، صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کے مزارات ہیں۔ احد پہاڑ : نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ احد پہاڑ مجھ سے محبت کرتا ہے اور میں اس سے محبت کرتا ہو ں۔ احد پہاڑ پر نبی اکرمﷺ کے پیارے چچا حضرت حمزہ اور شہدائے احد کے مزرات ہیں۔ مسجد قبا : مسجد قبا مدینہ منورہ میں ہے جس میں دو رکعت نماز پڑھنے سے عمرہ کا ثواب ملتاہے۔ مسجد قبلتین: جہاں اللہ کریم نے اپنے محبوب ﷺ کو اپنا رخ بیت المقدس سے کعبۃ اللہ کی طرف پھیرنے کا حکم فرمایا۔
گویا قدم قدم پر برکت اور سعادت کے نشان موجود ہیں۔ عشاقان رسول بڑے احترام و عقیدت سے حاضری کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔


جمعہ، 22 مئی، 2026

فضائل مکہ مکرمہ

 

فضائل مکہ مکرمہ

جمعرات، 21 مئی، 2026

فضائل مدینہ منورہ (1)

 

فضائل مدینہ منورہ (1)

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کا حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا  منبر میرے حوض پر ہے ـ‘‘۔
’’حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور ﷺ نے فرمایا : حضرت ابراھیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں دونوں کالے پتھروں والے میدانوں کے درمیان مدینہ منورہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔ نہ وہاں کوئی درخت اور جھاڑی کاٹی جائے اور نہ ہی وہاں کوئی جانور شکار کیا جائے ‘‘۔
’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ  نے فرمایا : جو شخص اہل مدینہ کو تکلیف دینا چاہے گا تو اللہ تعالی دوزخ میں اسے اس  طرح پگھلائے گا جس طرح آگ میں سیسہ پگھلتا ہے ‘‘۔
’’حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی : اے اللہ ! مدینہ منورہ میں اس سے دوگنا برکت عطا فرما جتنی تو نے مکہ مکرمہ میں رکھی ہے ‘‘۔
’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جو شخص مدینہ منورہ کی سختیوں اور مصیبتوں پر صبر کرے گا قیامت کے دن میں اس کا گواہ ہوں گا یا اس کی شفاعت کروں گا ‘‘۔ 
’’حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جو مدینہ میں مر سکے تو اسے چاہیے کہ اس میں مرے کیو نکہ میں اس کی شفاعت کرو ں گا جو  یہاں مرے گا ‘‘۔ 
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ساری عمر یہ دعا کرتے رہے اے اللہ مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت دے اور رسول اللہ ﷺ کے شہر میں مرنا نصیب فرما۔  صحابہ کرام رضوا ن اللہ علھیم اجمعین حیرا ن تھے کہ جہا دتو میدانوں میں ہوتے ہیں اور آپ شہادت کی موت کی التجا کر رہے ہیں اور وہ بھی مدینہ میں ۔ لیکن اللہ پاک نے ان کی دعا قبول فرمائی اور مسجد نبوی میں مصلہ رسول پر ان کو ایک مجوسی نے شہید کر دیا ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ساری زندگی مدینہ شریف میں گزاری۔ بس ایک فرض حج کے لیے  مکہ مکرمہ تشریف لے گئے ۔ آپ دو گھونٹ پانی پیتے اور معمولی کھانا کھاتے تا کہ رفع حاجت کے لیے کم از کم مدینہ منورہ سے باہر جانا پڑے اور مدینہ منورہ سے باہر موت نہ آئے ۔ مدینہ منورہ کی گلیوں میں جوتا اتار کر دیواروں کے ساتھ چلتے تا کہ کسی ایسی جگہ پاؤ ں نہ آ جائے جہاں  آپ ﷺ کے قدم مبارک لگے ہیں ۔  
  میں گنبد خضرا کی طرف دیکھ رہا ہوں 
                                                کوثر میرے نزدیک یہ میری معراج نظر ہے

بدھ، 20 مئی، 2026

حج کے افعال (4)

 

حج کے افعال (4)

رمی جماز: میدان منی میں تین جمرے ہیں جن کو کنکریاں ماری جاتی ہیں یہ اللہ تعالی کا حکم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔ 
حدیث شریف میں ہےکہ : بیت اللہ کا طواف ، سعی صفا و مروہ اور رمی جمار ذکر الہی کو قائم کرنے کے لیے ہیں ۔ ( مشکوۃ )۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے حکم سے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے لگے تو شیطان آپ ؑ کے دل میں وسوسے ڈال کر اللہ تعالی کے حکم سے پھیرنا چاہتا تھا ۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شیطان کو کنکریاں مار کر بھگایا ۔ اللہ تعالی کو آپ کی یہ ادا پسند آئی اور اسے حج کا رکن بنا دیا ۔ 
اب دل میں اگر یہ خیال آئے کہ ان کے سامنے تو شیطان تھا ہمارے سامنے تو شیطان نہیں ہے تو میں کنکریاں کیوں ماروں اس بارےمیں امام غزالی لکھتے ہیں کہ : یہ خیال خود شیطان کا پیدا کردہ ہے تو ان جمروں پر مار تاکہ شیطان کی کمر ٹوٹ جائے ۔ کیونکہ شیطان کی کمر  اسی وقت ٹوٹے گی جب تو اپنے رب کا فرمانبردار بندہ بن جائے گا۔ اپنے ذاتی تصرف اور عقلی بیان کو چھوڑ اور اللہ کے حضور سر جھکا اور  رمی جمار کر کے یہ سمجھ کہ تو نے واقعی شیطان کو مغلوب کر لیا ہے۔ اور کنکریاں مارنا شیطان اور شیطانی قوتوں سے اظہار نفرت ہے۔ بندہ  اعلان کرتا ہے کہ مولا جو بھی تیرے راستہ میں رکاوٹ بنے گا میں اس سے بیزار ہوں ہر اس قوت سے نبردآزما رہوں گا جو تیری نافرمانی کرے گی ۔ 
اس کے بعد حاجی قربانی کرتے ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال فرمانبرداری کی یادگار ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ ۔
اور ہم نے ندا فرمائی اے ابراہیم بیشک تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو ۔ بیشک یہ روشن جانچ تھی ۔ اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچا لیا ‘‘۔( سورۃ الصفٰت )۔
حلق یا قصر : اس کے بعد حاجی اپنے سر منڈواتے ہیں اور عورتیں تھوڑے بال کٹواتی ہیں ۔حضور نبی کریم ﷺ نے سر منڈوانے والوں اور بال کٹوانے والوں کی لیے دعا فرمائی ۔ 
حج کے تمام افعال انسان کی روحانی تربیت کرتے ہیں ۔ احرام صبر سکھاتا ہے ، طواف محبت الہی پیدا کرتا ہے ، سعی جدو جہد کا درس دیتی ہے ، عرفات توبہ کی کیفیت پیدا کرتا ہے اور رمی جمار شیطان سے نفرت سکھاتی ہے اور قربانی ایثار کا جذبہ بیدار کرتی ہے ۔ حج انسان کے دل سے تکبر ، حسد ، نفرت اور دنیا پرستی کو ختم کرتی ہے ۔

منگل، 19 مئی، 2026

حج کے افعال (۳)

 

حج کے افعال (۳)

سعی صفا و مروہ :صفاو مروہ نوعیت کے اعتبار سے عام پہاڑیوں کی ہی طرح ہیں لیکن ان کی نسبت اللہ تعالی کے نیک بندوں سے ہوئی تو اللہ تعالی نے اسے اپنی نشانی قرار دیا ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے حکم سے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہم السلام  کو خانہ کعبہ کے قریب ویرانے میں چھوڑ کر آئے اور ساتھ میں چند کھجوریں اور پانی تھا ۔ جب پانی ختم ہو گیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیاس لگی ارد گرد دور تک کوئی بھی آبادی کے آثار موجود نہیں تھے ۔ حضرت ہاجرہ پانی کی تلاش میں کبھی صفا کی پہاڑی پر جاتیں اور کبھی مروہ کی پہاڑی پر۔جب حضرت اسماعیل ؑ سامنے ہوتے تو آہستہ چلتیں اور جب آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے تو تیز دوڑتیں۔ اللہ تعالی کو اپنی نیک بندی کی یہ ادا پسند آئی تو اسے حج کا رکن بنا دیا جب بھی حاجی حج کرنے آئے گا تو ان پہاڑیوں پرایسے ہی چکر لگائے گا جیسے حضرت ہاجرہ نے لگائے تھے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ’’ بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو اس کے گھر کا حج یا عمرہ کرے گا اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے ‘‘ ۔ (سورۃ البقرۃ )۔
اسی دوران حضرت سماعیل علیہ السلام اپنی ایڑیوں کو رگڑ رہے تھے تو اللہ تعالی حضرت ہاجرہ کی پریشانی کو دور کرنے کے لیے آب زم زم کا چشمہ جاری فرما دیا ۔ 
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی حجۃ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ اب اس نعمت کا شکر ادا کرنا ان کی اولاد اور ان کے تابعین پر لازم ہے ۔تا کہ اس آیت خارقہ کو یاد کر کے ان کی بہمیت ختم ہو اور اللہ تعالی تک پہنچنے کا راستہ حاصل ہو ۔ اور اس سے بہتر کوئی چیز نہیں کہ دل کو ان دونوں کے ساتھ کسی ایسے ظاہر فعل کے ساتھ لگا لے کہ جو ظاہر ہو اور قوم کی عادت مالوفہ کے خلاف ہو اور منضبط ہو ۔جس میں مکہ کے اندر پہلے داخلہ کے وقت خشوع ہو اور یہ مشقت اور جہد کی حکایت ہے ۔ اور اس قسم کے امور میں زبانی ذکر کرنے سے زیادہ مفید و موثر حال کا نقل کرنا ہے ۔ 
وقوف عرفات :نو ذوالحجہ کو میدان عرفات میں ٹھہرنا حج کا بنیادی اوررکن اعظم ہے ۔ دنیا کے کونے کونے سے آئے لاکھوں عازمین حج میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں اور خیمہ بستی قائم ہوتی ہے۔حاجی اللہ تعالی کے حضور گڑ گڑا کر دعائیں مانگتے ہیں اور بخشش و مغفرت طلب کرتے ہیں ۔جو یہاں قیام نہیں کرے گا اس کا حج نہیں ہو گا ۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اراشاد فرمایا : حج عرفات ہی کا نام ہے ۔

پیر، 18 مئی، 2026

حج کے افعال (۲)

 

حج کے افعال (۲)

تلبیہ :احرام کے بعد آتی ہے تلبیہ جب بندہ سادہ لباس میں دنیاوی زیب و زینت کو چھوڑ دیتا ہے اور سادگی کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر بلند آواز سے تلبیہ کہتا ہے۔
’’لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک ولملک لا شریک لک ‘‘۔
ترجمہ :حاضر ہو ں اے اللہ میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہو ں۔ بیشک سب تعریفیں تیرے لیے ہی ہیں سب نعمتیں تیری ہی ہیں۔اور ساری بادشاہی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں‘‘۔ 
جب حاجی اللہ تعالی کی ربوبیت کا اعلان کرتے اور اس کی کبریائی کے گن گاتے ہوئے مکہ مکرمہ میں حاضر ہوتے ہیں، بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں۔نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا : طواف بیت اللہ بھی نماز ہی ہے صرف فرق یہ ہے کہ تم اس میں بول سکتے ہو  مگر نیک بات کے سوا اس حالت میں کچھ نہ کہو۔( ترمذی )۔
امام غزالی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں طواف اور سعی کی مثال ان بیچاروں کی سی ہے جو بادشاہوں کے دربار جا کر ادھر ادھر چکر کاٹتے ہیں تا کہ موقع پا کر اپنی عرضی پیش کر سکیں اور جلوت خانے میں کبھی آتے ہیں اور کبھی جاتے ہیں اور کسی ایسے شخص کی تلاش میں رہتے ہیں جو ان کی شفاعت کر سکے اور ساتھ ساتھ اس بات کے بھی امید وار ہوتے ہیں کہ شاید اتفاقیہ طور پر باد شاہ کی نظر ان پر پڑجائے اور وہ ان پر مہر بان ہو جائے۔( نسخہ کیمیا )۔
طواف کے پہلے تین چکرو ں میں حاجی رمل کرتے ہیں یعنی کندھے ہلا کر اکڑ کر چلتے ہیں۔ مسلمان جب ہجرت کے بعد مکہ مکرمہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے آئے تو اہل مکہ نے کہا کہ یثرب کے بخار نے مسلمانوں کو کمزور کر دیا ہے تو اس وجہ سے نبی کریمؐ نے رمل کا حکم دیا تا کہ دشمن پر رعب طاری ہو۔ اس کی ایک وجہ شاہ ولی حجۃ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ عبادت الہی میں اشتیاق کی تصویر بتائی۔ اور یہ بتایا کہ دور دراز کے علاقوں سے سفر کرنے اور تھکان نے ان کے شوق و رغبت کو کم نہیں کیا بلکہ مزید بھڑکایا ہے۔ 
طواف کے دوران بندہ اللہ تعالی کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگتا ہے اور حجر اسود کو بوسہ دیتا ہے۔ طواف کا ہر چکر حجر اسود کو بوسہ دے کر یا اس کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے اسے بوسہ کر کے شروع کیا جاتا ہے۔ حضور نبی کریمؐ بھی ایساہی فرمایا کرتے تھے۔ 
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے جب سے حضور نبی کریمؐ کو رکن یمانی اور حجر اسود کو چومتے دیکھا ہے تب سے ہم نے رکن یمانی اور رکن اسود کو چومنا سہولت یا دشواری، کسی بھی حالت میں کبھی نہیں چھوڑا۔ (مشکوۃ)۔

اتوار، 17 مئی، 2026

حج کے افعال (۱)

 

حج کے افعال (۱)

دین اسلام میں حج کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ حج کے ہر فعل میں اللہ تعالی کی بندگی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی اور حضرت ہاجرہ کا توکل علی اللہ نمایا ں نظر آتا ہے۔حج انسان کو ظاہری باطنی پاکیزگی عطا کرتاہے اور اسے رب کائنات کے قریب کر دیتا ہے۔ جب کوئی بندہ حج کی تیاری کرتا ہے تو اس کی کیفیت بدل جاتی ہے۔وہ روٹھے ہوئے کو مناتا ہے ،گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور زندگی میں اگر کبھی کسی کے ساتھ زیادتی کی ہو تو اس سے معافی طلب کرتا ہے۔ 
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کیمیا سعادت میں لکھتے ہیں : بندے کو چاہیے کہ جیسے ہی وہ حج کا ارادہ کرے تو پہلے توبہ کرے اور ظلم و زیادتی سے باز آجائے اور اپنے اوپر تمام قرضے ادا کر دے۔ اپنے اہل خانہ یعنی بیوی بچے اور جس کا نان و نفقہ اس کے ذمہ ہوسب کے نان و نقفے کا انتظام کرے۔ سفر کے اخراجات حلال کمائی سے حاصل کرے اور ایسے مال سے احتیاط کرے جس پہ حرام کا شبہ ہو۔ کیو نکہ مشکوک کمائی سے کیا گیا حج قبول کیسے ہو گا ؟ اور سفر کے لیے خرچ اس قدر جمع ہو کہ راستے میں درویشوں کو بھی کچھ نہ کچھ دے سکے۔ رفیق سفر کسی نیک بندے کو بنائے جسے سفر کا تجربہ بھی ہو۔ دین کی راہ اور دیگر مصلحتوں کو خوب سمجھے اور دوستوں سے الوداع  کہے اور ان سے دعائے خیر کی درخواست کرے۔ 
احرام: حج کے افعال میں سب سے پہلے احرام آتا ہے۔جب بندہ حج کے لیے روانہ ہوتا ہے تو مکہ مکرمہ کے کے ارد گرد شریعت نے کچھ مقامات مخصوص کیے ہیں جہاں حاجی اپنا لباس اتار کر احرام باندھتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حج میں احرام کی وہی  حیثیت ہے جو نماز میں تکبیر تحریمہ کی۔ جیسے تکبیر کہنے سے انسان پہ بہت سی حلال چیزیں حرام ہو جاتی ہیں ایسے ہی احرام باندھ لینے سے  بہت سی حلال چیزیں حرام ہو جاتی ہیں اور انسان اپنی نفسانی خواہشات کو ترک کر دیتا ہے۔جیسا کہ وہ شکار نہیں کر سکتا ، خوشبو نہیں لگا سکتا اور مقاربت وغیرہ نہیں کر سکتا۔ 
حج کے لیے بادشاہ بھی جاتے ہیں اور غلام بھی ،امیر بھی جاتے ہیں اور غریب بھی لیکن اس موقع پر سب برابر ہوتے ہیں سب نے ایک جیسا لباس پہنا ہوتا ہے۔کیونکہ اللہ کے نزدیک برتری کا معیار صرف اور صرف تقوی ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ سلے ہو ئے اور اس کے مشابہ کپڑے اور غیر سلے کپڑے کے درمیا ن فرق یہ ہے کہ پہلا لباس ارتفاق اور جمال و زینت ہے اور صرف پردہ پوشی۔پہلے کو ترک کرنا اللہ کے سامنے تواضع اور دوسرے کو ترک کرنا بے ادبی ہے۔ (حجۃ البالغہ)۔

ہفتہ، 16 مئی، 2026

حج کی معنویت(۳)

 

حج کی معنویت(۳)

حج میں مساوات انسانی کا عملی مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں لیکن ہم مختلف طبقات میں تقسیم ہو چکے ہیں ۔ اسلام میں رنگ و نسل ، امیر وغریب اور بادشاہ و غلا م کا کوئی تصور نہیں اسلام میں افضلیت کا معیار صرف اور صرف تقوی ہے ۔ حج کے موقع پر پوری دنیا کے مختلف خطوں ، رنگ ونسل، زبانوں کے لوگ جمع ہوتے ہیں کوئی کالا یا پھر گورا ، قوی ہے یا کمزور ، فقیر ہے یا بادشاہ سب کے سب تما م تر اختلاف بھلا کر صرف ایک ہی صدا بلند کرتے ہیں ۔ 
قریش کے کچھ افراد میدان عرفات میں وقوف کرنا اپنی عزت کے خلاف سمجھتے تھے اور وہ مزدلفہ میں ٹھہر جاتے تھے اور کہتے تھے ہم تو اللہ اور اس کے حرم کے باشندے ہیں اسی وجہ سے ہم عام لوگوں کے ساتھ نہیں ٹھہر سکتے ۔ تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :’’ پھر تم بھی وہیں سے واپس آؤ جہاں سے لوگ واپس آئیں اور اللہ سے بخشش مانگو بیشک بہت زیادہ بخشنے والا اور ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے‘‘۔ (سورۃ البقرہ)۔
حج کے موقع پر تما م تر امتیازات مٹ جاتے ہیں ۔کلمہ توحید نے سب کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے ۔یہ سب ایک ہی در کے گدا ہیں اور ایک ہی شمع کے پروانے ہیں۔ یہی مساوات انسانی حج کا ایک عظیم پیغام ہے ۔ حج کے موقع پر کھلے آسمان میں رات گزارنا انسان کو سادگی ، صبر اور قناعت کی تعلیم دیتا ہے۔ جبکہ رمی جمار کا عمل اس حقیقت کی علامت ہے کہ مسلمان کو ہر دور میں شیطان اور اس کے ہتھکنڈوں کے خلاف جدو جہد کرنی ہے ۔ 
حقیقت یہ ہے کہ حج ایک ایسی جامع عبادت ہے جس میں نماز کی روح ، روزے کا صبر ، زکوۃ کی قربانی اور جہاد کی مشقت سب جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ بندے کو دنیا کی محبت سے نکال کر اللہ تعالی کی محبت میں داخل کر دیتا ہے ۔ اگر مسلمان حج کے اسرار و حکمت کو سمجھ لے تو اس کی پوری زندگی عبادت بن سکتی ہے ۔ 
ضرورت اس امر کی ہے ہم حج کو صرف رسمی عبادت نہ سمجھیں بلکہ اس کے باطنی پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں ۔ اگر حج کے بعد بھی انسان کے اخلاق ، معاملات اور کردار میں تبدیلی نہ آئے تو وہ حج کی اصل روح سے محروم رہتا ہے ۔ کامیاب حج وہی ہے جو انسان کو اللہ کا سچا بندہ اور انسانیت کا خیر خواہ بنا دے ۔ 
اللہ تعالی ہمیں حج کے ظاہری اعمال کے ساتھ اس کے باطنی اسرار کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں کو تقوی ، محبت الہی اور اطاعت رسول ﷺ سے مزین کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

جمعہ، 15 مئی، 2026

حج کی معنویت(۲)

 

حج کی معنویت(۲)

حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ حج کی حقیقت یہ ہے کہ ایک مخصوص وقت میں صالحین ، کا ایک عظیم اجتماع ہو جو انعام یافتہ لوگوں یعنی انبیاء کرا م ، صدیقین ، شہدا اور صالحین کے احوال کو یاد کریں اور اس جگہ جمع ہوں جہاں اللہ تعالیٰ نشانیاں موجود ہیں۔ طہارت نفسانیہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی جگہ رہائش اختیار کی جائے کہ صالحین ہمیشہ اس کی تعظیم کرتے ہوں۔ اور وہاں رہ کر اس جگہ کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے آباد کرتے ہوں یہ اہل خیر کے حق میں ملائکہ کو متوجہ کرنے کا سبب ہے اور جب وہاں اترے گا تو ان کا رنگ اس پر بھی چڑھ جائے گا۔ میں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اللہ تعالی کا ذکر کرنا اور شعائراللہ کو دیکھنا اور ان کی تعظیم کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر میں داخل ہے۔ (حجۃ البالغہ )۔
دراصل حج شعائر اللہ سے عقیدتیں پختہ کرنے ، ان کی تعظیم کرنے اور اس سے جذبہ عمل پیدا کرنے ہی کا نام ہے۔ بعض اوقات انسان دنیا کی ظاہری رنگینیوں میں کھو کر لمبے عرصے تک گناہوں میں مصروف رہتا ہے لیکن انسان کی زندگی میں ایک ایسا موڑ بھی آتا ہے جب انسان بالکل بدل جاتا ہے۔ حج بھی انسان کی زندگی میں ایسا موڑ ہے جب انسان کی زندگی کا رخ بدل جاتا ہے۔ احساس ذمہ داری اور رزق حلال حج پر جانے کے لیے ضروری ہے۔کیونکہ حج فرض ہی اسی وقت ہوتا ہے کہ بندے کے پاس اتنے پیسے ہوں کہ وہ حج کے اخراجات پورے کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی ضروریات کو پوری کر سکے۔ اس سے انسا ن میں احساسِ  ذمہ داری پیدا ہوتا ہے اور سستی کرنے والا محنت سے روزی میں لگ جاتا ہے اور پھر وہ رزق حلال ہونا چاہیے کیونکہ حرام کمائی سے کیا گیا حج اللہ تعالیٰ کے ہاں باکل بھی قبول نہیں ہو گا۔ 
الترغیب الترہیب میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب حج کرنے والا حلال کمائی لیکر نکلتا ہے اور اپنا پائوں رکاب میں ڈالتا ہے اور’’لبیک اللھم لبیک ‘‘ کی صدا بلند کرتا ہے تو آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے ’’لبیک و سعد یک ‘‘ تمہارا زادراہ حلال ہے، تمہاری سواری حلال ہے، تمہارا حج مبرور ہے، اس میں گناہ نہیں ہے اور جب وہ حرام مال سے حج کے لیے نکلتا ہے اور اپنا پائوں رکاب میں رکھتا ہے اور لبیک  کہتا ہے تو آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے، تمہارا لبیک کہنا قبول نہیں، تمہارا زاد راہ حرام ہے ، تمہارا خرچ حرام ہے، تمہارا حج گناہ ہے اور  قبول نہیں۔ حج اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے اور حرام کی کمائی سے بچنے اور رزق حلال کی ترغیب دیتا ہے۔

جمعرات، 14 مئی، 2026

حج کی معنویت(۱)

 

حج کی معنویت(۱)

اسلام  کے بنیادی ارکان میں حج کو ایک منفرد مقام حاصل ہے ۔حج صرف چند عبادات اور مناسک کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی ، اخلاقی اور ایمانی سفر ہے جو انسان کی پوری زندگی کو بدل دیتا ہے ۔ حج حقیقت میں عشق الہی ، اطاعت ربانی ، اخوت انسانی اور تزکیہ نفس کا عملی مظاہرہ ہے۔
حج میں وہ روحانی حقیقتیں اور حکمتیں ہیں جو اس عظیم عبادت کے ہر رکن میں پوشیدہ ہیں ۔ ظاہری طور پر حاجی طواف ، سعی ، وقوف عرفات اور رمی جمار کرتا ہے مگر حقیقت میں وہ اپنے نفس ، خواہشات اور شیطانی قوتوں کے خلاف جہاد میں مصروف ہوتا ہے ۔ 
انسانی دل میں محبت ، لگائو ، وارفتگی اور بے قراری کے بے شمار جذبات موجزن رہتے ہیں ۔ جب یہ محبت کسی چیز کے لیے حد سے بڑھ جائے تو اسے وارفتگی کہتے ہیں ۔سورۃ البقرۃ ارشاد باری تعالی ہے : ’’ اہل ایمان سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرتے ہیں ‘‘۔ یعنی محبت کا حقیقی مرکز اللہ تعالی کی ذات ہے جب انسان کی وارفتگی کا رخ اللہ تعالی کی طرف ہو جاتا ہے تو یہی وارفتگی اس کے لیے سکون اور اطمینان کا ذریعہ بن جاتی ہے ۔دنیاوی محبتیں خواہ مال و دولت کی ہوں یا کسی انسان کی، اس سے دل کو وہ سکون و اطمینا ن نہیں ملتا جو اللہ تعالی کی محبت اور ذکر سے ملتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’ سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے ‘‘۔ ( سورۃ الرعد )۔
جب انسان شدت سے اللہ تعالی سے محبت کرتا ہے تو پھر محبوب کی ہر چیز میں اسے اپنے محبوب کے جلوے نظر آتے ہیں ۔ جیسا کہ سورۃ الحج میں اللہ تعالی فرماتا ہے : جو اللہ کی نشانیوں کی تظیم کرتا ہے تو یقینا وہ دلوں کا تقوی ہے ۔ 
شاہ ولی اللہ حجۃ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ ’’کبھی کبھی انسان کو اپنے رب سے ملاقات کا شدید شوق پیدا ہو جاتا ہے وہ ایسی چیز کا متلاشی ہوتا ہے جو اس  کے اس شوق کو پورا کرے ۔وہ رب سے ملاقات کا سامان حج کے سوا کہیں نظر نہیں پاتا ‘‘۔ 
جن چیزوں کی نسبت اللہ تعالی کے محبوب بندوں سے ہو جائے وہ بھی حق کے متلاشی کے لیے محبوب بن جاتی ہیں۔ اللہ تعالی کے محبوب بندوں کی یہ نشانیاں مخلوق خدا کے لیے برکتوں اور سعادتوں کا مرکز قرار پاتے ہیں ۔ جہاں حضرت حاجرہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے پانی کی تلاش میں دوڑیں۔ اللہ تعالی نے ان پہاڑیوں کو اپنی نشانیاں قرار دیا ۔ سورۃ البقرہ میں ارشاد باری تعالی ہے :’’ بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ مقام ابراہیم کو اللہ تعالی نے جائے مصلی بنانے کا حکم فرمایا :’’ اور مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو ‘‘۔ ( سورۃ البقرہ )۔

بدھ، 13 مئی، 2026

حج کے مقاصد (۲)

 

حج کے مقاصد (۲)

حج کے ذریعے احکام شریعت کی تعمیل ہوتی ہے۔ تلبیہ ، سعی ، رمی ، وقوف عرفہ ، مزدلفہ اور منیٰ میں مخصوص اوقات کے لحاظ سے اور احرام کی پابندی کے ذریعے انسان اپنا سر تسلیم خم کرتا ہے اور قولی اور فعلی طور پر اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا عاجز بندہ ہے اور احکام شریعت کے سامنے اس کی کوئی اوقات نہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حجر اسوود کو بوسہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے جو نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی نقصان ، میں تجھے اس لیے بوسہ دے رہا ہو ں کہ تجھے حضورﷺ نے بوسہ دیا ہے۔(بخاری شریف)۔ آپ کا یہ قول احکام شریعت کی پا بندی کی بہترین مثال ہے۔ 
حج انسان کی بخشش کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ حاجی کے تما م گناہ بخش دیتا ہے شرط یہ ہے کہ بندہ حج کے دوران فسق و فجوراوراللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچے اور کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچائے۔ 
حج کے ذریعے سے مساوات انسانی کا درس ملتا ہے۔ حج کے موقع پردنیا بھر کے مسلمان چاہے وہ عربی ہوں یا عجمی ، امیر ہوں یاغریب ، حاکم ہو یا محکوم ، پیر ہو یا مرید ، استاد ہو یا شاگرد سب کے سب ایک ہی لباس ، ایک ہی حالت اور ایک ہی مقام پر جمع ہوتے ہیں اور ایک ہی آواز میں اللہ تعالیٰ کو پکار رہے ہوتے ہیں۔ مساوات کی ایسی مثال دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں ملتی۔ 
حج اور اس کے علاوہ تمام اسلامی عبادات سے ہمیں نظم و ضبط کا درس ملتا ہے۔ نظم وضبط جیسے اوصاف مہذب اور ترقی یافتہ قوموں کی پہچان ہوتے ہیں۔ حج کے موقع پر نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کا شاندار مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے اور اس سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ اے مسلمانوں غفلت کی نیند سے جاگ جائو اور جس حقیقی مقا م و مرتبہ کے تم حقدار ہو اسے پہچانو اور اس کے حصول کے لیے کوشش کرو ورنہ تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا اور دنیا تمہیں کچلتے ہوئے آگے نکل جائے گی۔ 
حج مسلمانو ں کاایک شاندار اجتماع ہے جس کے ذریعے دین اسلام کی شان و شوکت میں اضافہ ہوتا ہے اور مسلمانو ں کو آپس میں لڑانے کی جو کوشش کی جا رہی ہے دشمنان اسلام اجتماع حج کو دیکھ کر خوف زدہ ہو جاتے ہیں کہ یہ اتحاد یونہی قائم رہا تو اسلام کے خلاف کی جانے والی ساری سازشیں ناکام ہو جائیں گی اور دین حق اسی طرح روز پھلتا پھولتا رہے
گا۔ اللہ تعالی ہم سب کو حج بیت اللہ کی سعادت زندگی میں بار بار نصیب فرمائے اور ہمیں اپنی زندگیاں احکام الٰہی کے مطابق بسر کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔

منگل، 12 مئی، 2026

حج کے مقاصد (۱)

 

حج کے مقاصد (۱)

حج ارکان اسلام میں سے پانچویں نمبر پر ہے اس کے ذریعے قرب الٰہی نصیب ہوتا ہے۔ حج صرف طواف خانہ کعبہ،سعی ، وقوف عرفہ اور رمی وغیرہ کا نام نہیں بلکہ حج یہ ہے کہ بندہ مسلمان قدم قدم پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی سے بچے اور گناہوں سے بچ کر نیک اعمال بجا لائے۔ اس کے ساتھ احکام الٰہی کو تسلیم کرنے ، صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے اور کمزور اور مساکین کا خیال رکھنے کا بھی درس ملتا ہے۔حج کے دوران مسلمان اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے۔ حج کا مقصد مسلمانوں کے دلوں میں عقیدہ توحید کو مضبوط کرنا ہے کہ وہ کفر و شرک سے بچے رہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور منادی پکارتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں میں بڑے حج کے دن کہ اللہ اور اس کارسول بیزار ہے ان مشرکو ں سے ‘‘ (سورۃ التوبہ )۔
طواف خانہ کعبہ ، سعی صفا و مروہ ، وقوف عرفات ، مزدلفہ اور منی میں فرزندان اسلام یک زبان ہو کر یہ اعلان کرتے ہیں ’’ میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں ! تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں ! یقینا تمام تعریفیں ، نعمتیں اور بادشاہی تیرے ہی لیے ہے ! تیرا کوئی شریک نہیں۔ حج کا دوسرا مقصد امت مسلمہ کے درمیان اتحاد اور یگانت کی فضا قائم کرنا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان چاہے وہ مشرق سے ہوں یا مغرب سے ، جنوب سے ہوں یا شما ل سے ان کے لیے یہ بات معنی نہیں رکھتی بلکہ وہ سب ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : مسلمان آپس میں بھائی ہیں ‘‘۔ حج ایک ایسا موقع ہے جس پر دنیا بھر کے مسلمان بغیر کسی رنگ و نسل کے اتحاد امت کا شاندار منظر پیش کرتے ہیں۔ حج مسلمانوں میں تقوی و پرہیز گاری کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمارے مال و متاع کو نہیں دیکھتا کہ کون کتنا حج پر خرچ کر رہا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں ، پرہیز گاری اور تقویٰ کو دیکھتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ اللہ کو ہر گز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ہی خون ہاں تمہاری پرہیز گاری اس تک با ریاب ہوتی ہے ‘‘۔ ( سورۃ الحج )۔
یعنی اگر حج کرنے والے کا مقصد محض دکھلاوا ہو اور یہ کہ لوگ مجھے حاجی کہیں اور قربانی کا مقصد بھی دکھلاوا ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ صرف اور صرف ہمارے اخلاص اور نیت کو دیکھتا ہے صرف وہی عمل قابل قبول ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا جائے۔

ہفتہ، 9 مئی، 2026

حج کی فضیلت و اہمیت

 

حج کی فضیلت و اہمیت

اسلام انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ دین اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں جن پر ایک مسلمان کی عملی زندگی کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ ان ارکان میں سے ایک عظیم رکن حج بھی ہے۔حج اپنی روحانی ، اخلاقی اور اجتماعی اہمیت کے اعتبار سے بے مثال اہمیت رکھتا ہے۔ حج بندہ مومن کے لیے اپنے رب کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے ، گناہوں سے پاک ہونے اور اخوت اسلامی کے عملی مظاہرے کا ایک جامع ذریعہ ہے۔حج بدنی عبادت کے ساتھ ساتھ مالی عبادت بھی ہے۔ حج زندگی میں ایک مر تبہ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر فرض ہے۔
 ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس کی استطاعت رکھیں اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے‘‘۔  ( سورۃ اٰل عمران )۔
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ کی خاطر حج کیا نہ کوئی فحش بات کی اور نہ گناہ کا مرتکب ہوا وہ گناہوں سے اس طرح پاک لوٹے گا جس طرح اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔( بخاری )۔
الترغیب التر ہیب میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حج کرنے والے کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور وہ جس کے لیے دعا کرے اس کی بھی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ 
ایک مقام پر نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک اس کے درمیان گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ تو صرف جنت ہے ہے۔ (الترغیب التر ہیب )۔
جو لوگ صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہیں کرتے ان کے لیے حضور نبی کریم ﷺ نے سخت وعید فرمائی ہے۔ الترغیب التر ہیب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس سفر کرنے کا خرچ بھی ہو اور سواری بھی ہو جس کے ذریعے وہ بیت اللہ تک پہنچ سکے اس کے باوجود وہ حج نہ کرے تو اس کا اس حالت میں مرنا یا یہودی و نصرانی ہوکر مرنا برابر ہے اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بیت اللہ کا حج کرنا ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا حق یے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔(الترغیب التر ہیب )۔
حج کا عملی تقاضا یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و فرمانبردای کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، گناہوں سے مکمل اجتناب کرے ، حقوق العباد کا خاص خیال رکھے ، سچائی ، دیانت داری اور انصاف کو اپنائے۔

جمعہ، 8 مئی، 2026

اسلامی معاشرت کے اصول (۲)

 

اسلامی معاشرت کے اصول (۲)

انسانی معاشرے میں پائی جانے والی ایک برائی بغض بھی ہے۔ بغض دل کی وہ بیماری ہے جو انسان کسی عداوت کی وجہ سے دوسرے کے خلاف اپنے دل میں رکھتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر سوموار اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے  ہیں۔ مشرک کے علاوہ ہر ایک کی بخشش کر دی جاتی ہے سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان کوئی بغض ہو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جاتا ہے جب تک یہ صلح نہ کر لیتے ان کا معاملہ رہنے دو اور یہ تین مرتبہ دہرایا جاتا ہے۔ (مسلم )
اس کے بعد مسلمانوں کو ایک دوسرے سے منہ موڑنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ نبی رحمت ﷺ نے ارشادفرمایا :کسی مسلمان کے لیے روا نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرے۔ وہ دونوں ملیں تو ایک دوسرے سے منہ پھیر لیں۔ ان میں سے بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ (بخاری )۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو روا نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھے۔جس نے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھی اور وہ اسی حال میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا۔ ( دائود )۔
نبی کریم ﷺ نے بیع پر بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ مثلا خریدار کسی سے کوئی چیز ایک سو روپے کی خرید رہا ہے تو یہ ان کا معاملہ ختم ہونے سے پہلے یا بعد میں کہے کہ میں یہ چیز اس سے کم قیمت میں دیتا ہے یا کوئی بیچنے والے کو کہے کہ میں اس سے زیادہ قیمت دیتا ہوں۔ اسلام میں یہ دونوں طریقے جائز نہیں۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی شادی کے پیغام پر شادی کا پیغام  بھیجے مگر یہ کہ دوسرا شخص اسے اجازت دے دے۔ ( مسلم )۔
آخر میں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ جیسے ایک بھائی اپنے بھائی کا خیر خواہ ہوتا ہے اسی طرح ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کا خیر خواہ ہونا چاہیے۔مسلمان اپنے مسلمان بھائی پر ظلم نہ کرے اور جب ضروت ہو اس کا ساتھ نہ چھوڑے اور اسے نفرت کی نظر سے نہ دیکھے۔ اسلامی معاشرت کے اصول ایک مکمل اور متوازن نظام پیش کرتے ہیں جو انسا ن کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی راہ دکھاتے ہیں۔

عید الاضحی اور قربانی(۳)

  عید الاضحی اور قربانی(۳) اسلام میں قربانی کے لیے تین ایام 10 ، 11 ،12 ذی الحجہ کے دن مختص کیے گئے ہیں۔ ان تین ایام کے علاوہ کی جانے والی ق...