عید الاضحی اور قربانی(۳)
اسلام میں قربانی کے لیے تین ایام 10 ، 11 ،12 ذی الحجہ کے دن مختص کیے گئے ہیں۔ ان تین ایام کے علاوہ کی جانے والی قربانی جائز نہیں۔ عید کی نماز سے قبل قربانی کرنا جائز نہیں۔ اگر کسی نے نماز عید سے پہلے قربانی کی تو وہ قربانی نہ ہو گی اس پر دوبارہ قربانی واجب ہے۔ ایسے دیہات جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی وہاں نماز فجر کے بعد قربانی جائز ہے لیکن وہاں بھی قربانی سورج طلوع ہونے کے بعد کی جائے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کی تو اس نے اپنے لیے کی۔ (یعنی گوشت کھانے کے لیے ) اور جس نے نمازکے بعد قربانی کی، اس کی قربانی ہو گی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پا لیا۔(بخاری )۔
قربانی کے بے شمار معاشرتی فوائد بھی ہیں۔حضور نبی کریم ﷺ نے قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنے کا حکم فرمایا۔ ایک حصہ اپنے لیے ، دوسرا رشتہ داروں کے لیے اور تیسرا غریب اور مستحق افراد کے لیے۔ لہٰذا قربانی کے موقع پر ہمیں معاشرے کے نادار اور مستحق لوگوں کو بھی ان خوشیوں میں شامل کرنا چاہیے اور ان تک بھی گوشت پہنچانا چاہیے تا کہ مساوات کا عملی مظاہرہ ہو سکے۔
عید لاضحی کے موقع پر صفائی اور ماحول کا خیال رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ اسلام پاکیزگی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے۔ قربانی کے بعد الائیشیں سڑکوں اور گلیوں میں پھینک دینا نہ صرف بیماریوں کا سبب بنتا ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ہمیں چاہیے کہ اس بابرکت اور پْر مسرت موقع پر صفائی کا خاص خیال رکھیں اورآلائشوں کو مناسب طریقے سے تلف کریں تا کہ ماحول صاف ستھرا رہے۔
قربانی سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی محبوب ترین چیز بھی قربان کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ آج کے دور میں ہمیں جانورقربان کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہوئے اپنی خود غرضی ، انا اور نفس کی خواہشات کو بھی قربان کرنا چاہیے۔
قربانی ایک زندہ پیغام ہے۔ یہ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فرمانبرداری اور حضور نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ کی یاد دلاتی ہے۔ اگر مسلمان قربانی کی اصل روح کو سمجھ لیں تو ان کے اندر اخلاص ، تقویٰ ، ایثار ، صبر اور اللہ تعالیٰ سے محبت کے جذبات بیدار ہو سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی روح کو سمجھنے اور اخلاص کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری قربانیاں اپنی پاک بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین۔



















