حج کی معنویت(۱)
اسلام کے بنیادی ارکان میں حج کو ایک منفرد مقام حاصل ہے ۔حج صرف چند عبادات اور مناسک کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی ، اخلاقی اور ایمانی سفر ہے جو انسان کی پوری زندگی کو بدل دیتا ہے ۔ حج حقیقت میں عشق الہی ، اطاعت ربانی ، اخوت انسانی اور تزکیہ نفس کا عملی مظاہرہ ہے۔
حج میں وہ روحانی حقیقتیں اور حکمتیں ہیں جو اس عظیم عبادت کے ہر رکن میں پوشیدہ ہیں ۔ ظاہری طور پر حاجی طواف ، سعی ، وقوف عرفات اور رمی جمار کرتا ہے مگر حقیقت میں وہ اپنے نفس ، خواہشات اور شیطانی قوتوں کے خلاف جہاد میں مصروف ہوتا ہے ۔
انسانی دل میں محبت ، لگائو ، وارفتگی اور بے قراری کے بے شمار جذبات موجزن رہتے ہیں ۔ جب یہ محبت کسی چیز کے لیے حد سے بڑھ جائے تو اسے وارفتگی کہتے ہیں ۔سورۃ البقرۃ ارشاد باری تعالی ہے : ’’ اہل ایمان سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرتے ہیں ‘‘۔ یعنی محبت کا حقیقی مرکز اللہ تعالی کی ذات ہے جب انسان کی وارفتگی کا رخ اللہ تعالی کی طرف ہو جاتا ہے تو یہی وارفتگی اس کے لیے سکون اور اطمینان کا ذریعہ بن جاتی ہے ۔دنیاوی محبتیں خواہ مال و دولت کی ہوں یا کسی انسان کی، اس سے دل کو وہ سکون و اطمینا ن نہیں ملتا جو اللہ تعالی کی محبت اور ذکر سے ملتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’ سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے ‘‘۔ ( سورۃ الرعد )۔
جب انسان شدت سے اللہ تعالی سے محبت کرتا ہے تو پھر محبوب کی ہر چیز میں اسے اپنے محبوب کے جلوے نظر آتے ہیں ۔ جیسا کہ سورۃ الحج میں اللہ تعالی فرماتا ہے : جو اللہ کی نشانیوں کی تظیم کرتا ہے تو یقینا وہ دلوں کا تقوی ہے ۔
شاہ ولی اللہ حجۃ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ ’’کبھی کبھی انسان کو اپنے رب سے ملاقات کا شدید شوق پیدا ہو جاتا ہے وہ ایسی چیز کا متلاشی ہوتا ہے جو اس کے اس شوق کو پورا کرے ۔وہ رب سے ملاقات کا سامان حج کے سوا کہیں نظر نہیں پاتا ‘‘۔
جن چیزوں کی نسبت اللہ تعالی کے محبوب بندوں سے ہو جائے وہ بھی حق کے متلاشی کے لیے محبوب بن جاتی ہیں۔ اللہ تعالی کے محبوب بندوں کی یہ نشانیاں مخلوق خدا کے لیے برکتوں اور سعادتوں کا مرکز قرار پاتے ہیں ۔ جہاں حضرت حاجرہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے پانی کی تلاش میں دوڑیں۔ اللہ تعالی نے ان پہاڑیوں کو اپنی نشانیاں قرار دیا ۔ سورۃ البقرہ میں ارشاد باری تعالی ہے :’’ بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ مقام ابراہیم کو اللہ تعالی نے جائے مصلی بنانے کا حکم فرمایا :’’ اور مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو ‘‘۔ ( سورۃ البقرہ )۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں