حج کے افعال (4)
رمی جماز: میدان منی میں تین جمرے ہیں جن کو کنکریاں ماری جاتی ہیں یہ اللہ تعالی کا حکم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔
حدیث شریف میں ہےکہ : بیت اللہ کا طواف ، سعی صفا و مروہ اور رمی جمار ذکر الہی کو قائم کرنے کے لیے ہیں ۔ ( مشکوۃ )۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے حکم سے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے لگے تو شیطان آپ ؑ کے دل میں وسوسے ڈال کر اللہ تعالی کے حکم سے پھیرنا چاہتا تھا ۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شیطان کو کنکریاں مار کر بھگایا ۔ اللہ تعالی کو آپ کی یہ ادا پسند آئی اور اسے حج کا رکن بنا دیا ۔
اب دل میں اگر یہ خیال آئے کہ ان کے سامنے تو شیطان تھا ہمارے سامنے تو شیطان نہیں ہے تو میں کنکریاں کیوں ماروں اس بارےمیں امام غزالی لکھتے ہیں کہ : یہ خیال خود شیطان کا پیدا کردہ ہے تو ان جمروں پر مار تاکہ شیطان کی کمر ٹوٹ جائے ۔ کیونکہ شیطان کی کمر اسی وقت ٹوٹے گی جب تو اپنے رب کا فرمانبردار بندہ بن جائے گا۔ اپنے ذاتی تصرف اور عقلی بیان کو چھوڑ اور اللہ کے حضور سر جھکا اور رمی جمار کر کے یہ سمجھ کہ تو نے واقعی شیطان کو مغلوب کر لیا ہے۔ اور کنکریاں مارنا شیطان اور شیطانی قوتوں سے اظہار نفرت ہے۔ بندہ اعلان کرتا ہے کہ مولا جو بھی تیرے راستہ میں رکاوٹ بنے گا میں اس سے بیزار ہوں ہر اس قوت سے نبردآزما رہوں گا جو تیری نافرمانی کرے گی ۔
اس کے بعد حاجی قربانی کرتے ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال فرمانبرداری کی یادگار ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ ۔
اور ہم نے ندا فرمائی اے ابراہیم بیشک تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو ۔ بیشک یہ روشن جانچ تھی ۔ اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچا لیا ‘‘۔( سورۃ الصفٰت )۔
حلق یا قصر : اس کے بعد حاجی اپنے سر منڈواتے ہیں اور عورتیں تھوڑے بال کٹواتی ہیں ۔حضور نبی کریم ﷺ نے سر منڈوانے والوں اور بال کٹوانے والوں کی لیے دعا فرمائی ۔
حج کے تمام افعال انسان کی روحانی تربیت کرتے ہیں ۔ احرام صبر سکھاتا ہے ، طواف محبت الہی پیدا کرتا ہے ، سعی جدو جہد کا درس دیتی ہے ، عرفات توبہ کی کیفیت پیدا کرتا ہے اور رمی جمار شیطان سے نفرت سکھاتی ہے اور قربانی ایثار کا جذبہ بیدار کرتی ہے ۔ حج انسان کے دل سے تکبر ، حسد ، نفرت اور دنیا پرستی کو ختم کرتی ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں