پیر، 18 مئی، 2026

حج کے افعال (۲)

 

حج کے افعال (۲)

تلبیہ :احرام کے بعد آتی ہے تلبیہ جب بندہ سادہ لباس میں دنیاوی زیب و زینت کو چھوڑ دیتا ہے اور سادگی کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر بلند آواز سے تلبیہ کہتا ہے۔
’’لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک ولملک لا شریک لک ‘‘۔
ترجمہ :حاضر ہو ں اے اللہ میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہو ں۔ بیشک سب تعریفیں تیرے لیے ہی ہیں سب نعمتیں تیری ہی ہیں۔اور ساری بادشاہی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں‘‘۔ 
جب حاجی اللہ تعالی کی ربوبیت کا اعلان کرتے اور اس کی کبریائی کے گن گاتے ہوئے مکہ مکرمہ میں حاضر ہوتے ہیں، بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں۔نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا : طواف بیت اللہ بھی نماز ہی ہے صرف فرق یہ ہے کہ تم اس میں بول سکتے ہو  مگر نیک بات کے سوا اس حالت میں کچھ نہ کہو۔( ترمذی )۔
امام غزالی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں طواف اور سعی کی مثال ان بیچاروں کی سی ہے جو بادشاہوں کے دربار جا کر ادھر ادھر چکر کاٹتے ہیں تا کہ موقع پا کر اپنی عرضی پیش کر سکیں اور جلوت خانے میں کبھی آتے ہیں اور کبھی جاتے ہیں اور کسی ایسے شخص کی تلاش میں رہتے ہیں جو ان کی شفاعت کر سکے اور ساتھ ساتھ اس بات کے بھی امید وار ہوتے ہیں کہ شاید اتفاقیہ طور پر باد شاہ کی نظر ان پر پڑجائے اور وہ ان پر مہر بان ہو جائے۔( نسخہ کیمیا )۔
طواف کے پہلے تین چکرو ں میں حاجی رمل کرتے ہیں یعنی کندھے ہلا کر اکڑ کر چلتے ہیں۔ مسلمان جب ہجرت کے بعد مکہ مکرمہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے آئے تو اہل مکہ نے کہا کہ یثرب کے بخار نے مسلمانوں کو کمزور کر دیا ہے تو اس وجہ سے نبی کریمؐ نے رمل کا حکم دیا تا کہ دشمن پر رعب طاری ہو۔ اس کی ایک وجہ شاہ ولی حجۃ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ عبادت الہی میں اشتیاق کی تصویر بتائی۔ اور یہ بتایا کہ دور دراز کے علاقوں سے سفر کرنے اور تھکان نے ان کے شوق و رغبت کو کم نہیں کیا بلکہ مزید بھڑکایا ہے۔ 
طواف کے دوران بندہ اللہ تعالی کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگتا ہے اور حجر اسود کو بوسہ دیتا ہے۔ طواف کا ہر چکر حجر اسود کو بوسہ دے کر یا اس کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے اسے بوسہ کر کے شروع کیا جاتا ہے۔ حضور نبی کریمؐ بھی ایساہی فرمایا کرتے تھے۔ 
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے جب سے حضور نبی کریمؐ کو رکن یمانی اور حجر اسود کو چومتے دیکھا ہے تب سے ہم نے رکن یمانی اور رکن اسود کو چومنا سہولت یا دشواری، کسی بھی حالت میں کبھی نہیں چھوڑا۔ (مشکوۃ)۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

حج کے افعال (۲)

  حج کے افعال (۲) تلبیہ :احرام کے بعد آتی ہے تلبیہ جب بندہ سادہ لباس میں دنیاوی زیب و زینت کو چھوڑ دیتا ہے اور سادگی کے ساتھ اپنے رب کے حضو...