حج کے افعال (۱)
دین اسلام میں حج کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ حج کے ہر فعل میں اللہ تعالی کی بندگی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی اور حضرت ہاجرہ کا توکل علی اللہ نمایا ں نظر آتا ہے۔حج انسان کو ظاہری باطنی پاکیزگی عطا کرتاہے اور اسے رب کائنات کے قریب کر دیتا ہے۔ جب کوئی بندہ حج کی تیاری کرتا ہے تو اس کی کیفیت بدل جاتی ہے۔وہ روٹھے ہوئے کو مناتا ہے ،گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور زندگی میں اگر کبھی کسی کے ساتھ زیادتی کی ہو تو اس سے معافی طلب کرتا ہے۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کیمیا سعادت میں لکھتے ہیں : بندے کو چاہیے کہ جیسے ہی وہ حج کا ارادہ کرے تو پہلے توبہ کرے اور ظلم و زیادتی سے باز آجائے اور اپنے اوپر تمام قرضے ادا کر دے۔ اپنے اہل خانہ یعنی بیوی بچے اور جس کا نان و نفقہ اس کے ذمہ ہوسب کے نان و نقفے کا انتظام کرے۔ سفر کے اخراجات حلال کمائی سے حاصل کرے اور ایسے مال سے احتیاط کرے جس پہ حرام کا شبہ ہو۔ کیو نکہ مشکوک کمائی سے کیا گیا حج قبول کیسے ہو گا ؟ اور سفر کے لیے خرچ اس قدر جمع ہو کہ راستے میں درویشوں کو بھی کچھ نہ کچھ دے سکے۔ رفیق سفر کسی نیک بندے کو بنائے جسے سفر کا تجربہ بھی ہو۔ دین کی راہ اور دیگر مصلحتوں کو خوب سمجھے اور دوستوں سے الوداع کہے اور ان سے دعائے خیر کی درخواست کرے۔
احرام: حج کے افعال میں سب سے پہلے احرام آتا ہے۔جب بندہ حج کے لیے روانہ ہوتا ہے تو مکہ مکرمہ کے کے ارد گرد شریعت نے کچھ مقامات مخصوص کیے ہیں جہاں حاجی اپنا لباس اتار کر احرام باندھتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حج میں احرام کی وہی حیثیت ہے جو نماز میں تکبیر تحریمہ کی۔ جیسے تکبیر کہنے سے انسان پہ بہت سی حلال چیزیں حرام ہو جاتی ہیں ایسے ہی احرام باندھ لینے سے بہت سی حلال چیزیں حرام ہو جاتی ہیں اور انسان اپنی نفسانی خواہشات کو ترک کر دیتا ہے۔جیسا کہ وہ شکار نہیں کر سکتا ، خوشبو نہیں لگا سکتا اور مقاربت وغیرہ نہیں کر سکتا۔
حج کے لیے بادشاہ بھی جاتے ہیں اور غلام بھی ،امیر بھی جاتے ہیں اور غریب بھی لیکن اس موقع پر سب برابر ہوتے ہیں سب نے ایک جیسا لباس پہنا ہوتا ہے۔کیونکہ اللہ کے نزدیک برتری کا معیار صرف اور صرف تقوی ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ سلے ہو ئے اور اس کے مشابہ کپڑے اور غیر سلے کپڑے کے درمیا ن فرق یہ ہے کہ پہلا لباس ارتفاق اور جمال و زینت ہے اور صرف پردہ پوشی۔پہلے کو ترک کرنا اللہ کے سامنے تواضع اور دوسرے کو ترک کرنا بے ادبی ہے۔ (حجۃ البالغہ)۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں