حج کی معنویت(۳)
حج میں مساوات انسانی کا عملی مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں لیکن ہم مختلف طبقات میں تقسیم ہو چکے ہیں ۔ اسلام میں رنگ و نسل ، امیر وغریب اور بادشاہ و غلا م کا کوئی تصور نہیں اسلام میں افضلیت کا معیار صرف اور صرف تقوی ہے ۔ حج کے موقع پر پوری دنیا کے مختلف خطوں ، رنگ ونسل، زبانوں کے لوگ جمع ہوتے ہیں کوئی کالا یا پھر گورا ، قوی ہے یا کمزور ، فقیر ہے یا بادشاہ سب کے سب تما م تر اختلاف بھلا کر صرف ایک ہی صدا بلند کرتے ہیں ۔
قریش کے کچھ افراد میدان عرفات میں وقوف کرنا اپنی عزت کے خلاف سمجھتے تھے اور وہ مزدلفہ میں ٹھہر جاتے تھے اور کہتے تھے ہم تو اللہ اور اس کے حرم کے باشندے ہیں اسی وجہ سے ہم عام لوگوں کے ساتھ نہیں ٹھہر سکتے ۔ تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :’’ پھر تم بھی وہیں سے واپس آؤ جہاں سے لوگ واپس آئیں اور اللہ سے بخشش مانگو بیشک بہت زیادہ بخشنے والا اور ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے‘‘۔ (سورۃ البقرہ)۔
حج کے موقع پر تما م تر امتیازات مٹ جاتے ہیں ۔کلمہ توحید نے سب کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے ۔یہ سب ایک ہی در کے گدا ہیں اور ایک ہی شمع کے پروانے ہیں۔ یہی مساوات انسانی حج کا ایک عظیم پیغام ہے ۔ حج کے موقع پر کھلے آسمان میں رات گزارنا انسان کو سادگی ، صبر اور قناعت کی تعلیم دیتا ہے۔ جبکہ رمی جمار کا عمل اس حقیقت کی علامت ہے کہ مسلمان کو ہر دور میں شیطان اور اس کے ہتھکنڈوں کے خلاف جدو جہد کرنی ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ حج ایک ایسی جامع عبادت ہے جس میں نماز کی روح ، روزے کا صبر ، زکوۃ کی قربانی اور جہاد کی مشقت سب جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ بندے کو دنیا کی محبت سے نکال کر اللہ تعالی کی محبت میں داخل کر دیتا ہے ۔ اگر مسلمان حج کے اسرار و حکمت کو سمجھ لے تو اس کی پوری زندگی عبادت بن سکتی ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے ہم حج کو صرف رسمی عبادت نہ سمجھیں بلکہ اس کے باطنی پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں ۔ اگر حج کے بعد بھی انسان کے اخلاق ، معاملات اور کردار میں تبدیلی نہ آئے تو وہ حج کی اصل روح سے محروم رہتا ہے ۔ کامیاب حج وہی ہے جو انسان کو اللہ کا سچا بندہ اور انسانیت کا خیر خواہ بنا دے ۔
اللہ تعالی ہمیں حج کے ظاہری اعمال کے ساتھ اس کے باطنی اسرار کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں کو تقوی ، محبت الہی اور اطاعت رسول ﷺ سے مزین کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں