جمعہ، 29 مئی، 2026

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام (۱)


 

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام (۱)

جدالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عظیم المرتبت نبی ہیں۔ آپؑ کی ساری زندگی ایمان ، قربانی ، صبر ، توحید اور اطاعت الٰہی کا ایسا نمونہ ہے جس کی مثال تاریخ انسانیت میں نہیں ملتی۔آپ علیہ السلام کی ساری زندگی آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی مگر ہر امتحان میں آپ علیہ السلام کامیاب ہو ئے اور خلیل اللہ کہلائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں فرمایا میں تمہیں لوگوں کاپیشوا بنانے والا ہوں۔( سورۃ البقرۃ )۔
اس آیت مبارکہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ امامت اور عظمت کا مقام آسانیوں سے نہیں بلکہ مسلسل قربانیوں اور آزمائشوں سے حاصل ہوتا ہے۔آپ علیہ السلام کی زندگی کا ہر باب انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے ہر قربانی معمولی ہے۔ 
حضرت ابراہیمؑ ایسے ماحول میں پیدا ہوئے جہاں شرک ، بت پرستی اور گمراہی عام تھی۔ یہاں تک کہ آپ کے گھر میں بھی بت تراشے جاتے تھے۔قوم پتھروں کے بنائے ہوئے بتوں کو سجدہ کرتے اور ان سے مرادیں مانگتی تھی۔ آپ علیہ السلام نے قوم سے کہا کہ یہ چاند ،سورج ، ستارے جو فنا ہوجاتے ہیں اور بت جو کچھ بول نہیں سکتے یہ کبھی حقیقی معبود نہیں ہو سکتے۔حقیقی معبود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 
جب اپنے باپ سے بولا اے میرے باپ کیوں ایسے کو پوجتا ہے جو نہ سن سکتا ہے اور نہ دیکھ سکتا اور نہ کچھ تیرے کام آئے۔ ( سورۃ مریم)۔
دعوت حق اور وہ بھی اپنے گھر سے پہلی بڑی آزمائش تھی کیونکہ خاندان ، معاشرے اور پوری قوم کے خلاف کھڑے ہونا انتہائی مشکل ہوتا  ہے مگر آپؑ نے ہر مشکل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے برداشت کیا۔
جب قوم بت پرستی سے باز نہ آئی تو آپؑ نے ایک میلے کے موقع پر جب سارے وہاں جمع تھے بت خانے میں جا کر سارے بت توڑ دیے اور کلہاڑا بڑے بت کے اوپر رکھ دیا۔ جب قوم واپس آئی تو بتوں کی یہ حالت دیکھ کر بہت غصے میں آگئے اور آپؑ سے پوچھا یہ کام کس نے کیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا : ان کے اس بڑے نے کیا ہو گا تو ان سے پوچھو اگر بولتے ہوں۔ ( سورۃالانبیاء )۔
قوم نے آپ علیہ السلام سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا اور ایک بہت بڑی آگ جلائی۔آگ کی شدت کا یہ عالم تھا کہ کوئی بھی اس کے قریب نہیں جا سکتا تھا۔آپؑ کو منجنیق کے ذریعے آگ میں پھینکا گیا تو للہ تعالیٰ نے آگ کو حکم فرمایا :’’ہم نے فرمایا اے آگ ہو جا ٹھنڈی اور سلامتی والی ابراہیم پر‘‘(سورہ الانبیاء )۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام (۱)

  حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام (۱) جدالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عظیم المرتبت نبی ہیں۔ آپؑ کی ساری زندگی ایمان ،...