منگل، 14 مئی، 2024

نماز اور احکام قرآن(۲)

 

نماز اور احکام قرآن(۲) 

اور جہاں سے آپ باہر نکلیں تو موڑ لیا کریں اپنا رخ ( نماز کے وقت ) مسجد حرام کی طرف  اور ( اے مسلمانو ) جہاں کہیں تم ہو تو پھیر لیا کرو اپنے منہ اس کی طرف تاکہ نہ رہے لوگوں کو تم پر اعتراض (کی گنجائش) بجز ان لوگوں کے جو نا انصافی کریں ان سے ۔ سو نہ ڈرو تم ان سے (بلکہ صرف) مجھ سے ڈرو تا کہ میں پورا کر دوں اپنا انعام تم پر تا کہ تم راہ راست پر ثابت قدم رہو (۱۵۰)۔
 اے ایمان والو مد د طلب کیا کرو صبر اور نماز کے ذریعے سے ۔ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (۱۵۳)۔ نیکی بس یہ ہی نہیں کہ ( نماز میں ) تم پھیر لو اپنے رخ مشرق کی اور مغرب کی طرف بلکہ نیکی ( کا کمال ) تو یہ ہے کہ کوئی شخص ایمان لائے اللہ پر اور روز قیامت پر اور فرشتوں پر اور کتاب پر اور سب نبیوں پر اور دے اپنامال اللہ کی محبت سے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو اور (خرچ کرے) غلام آزاد کرنے میں اور صحیح صحیح ادا کیا کریں نماز اور دیا کریں زکوۃ اور جو پورا کرنے والے ہیں اپنے وعدوں کو (۱۷۷)۔
پابندی کرو سب نمازوں کی اور خصوصا ً درمیانی نماز کی اور کھڑے رہا کرو اللہ کے لیے عاجزی کرتے ہوئے (۲۳۸)۔
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور کرتے رہے اچھے اعمال اور صحیح ادا کرتے رہے نماز کو اور ادا کرتے رہے زکوۃ کو ۔ ان کے لیے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس ۔ نہ کوئی خوف ہے  ان کو اور نہ وہ غمگین ہوں گے ( ۲۷۷) ۔سورۃ آل عمران : پھر آواز دی ان کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے (اپنی) عبادت گاہ میں ( ۳۹)۔اے مریم خلوص سے عبادت کرتی رہ اپنے رب کی اور سجدہ کر اور رکوع کر رکوع کرنے والوں کے ساتھ ( ۴۳) سورۃ النساء: اے ایمان والو ! نہ قریب جائو نماز کے جب تم نشے کی حالت میں ہو یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو (زبان)سے کہتے ہو اور نہ تم جنابت کی حالت میں مگر یہ کہ تم سفر کر رہے ہو یہاں تک کہ تم غسل کر لو ۔ اور اگر تم ہو بیمار یا سفر میں یا آئے تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے یا ہاتھ لگایا ہو تم نے (اپنی) عورتوں کو پھر نہ پائو تم پانی تو( ا س صورت میں ) تیمم کر لو پاک مٹی سے اور( اس کا طریقہ یہ ہے کہ)ہاتھ پھیرو اپنے چہروں پر اور بازئوں پر بیشک اللہ تعالی معاف فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہے ( ۴۳)۔ اور جب تم سفر کرو زمین پر تو نہیں تم پر کوئی حرج اگر تم قصر کرو نمازمیں ( ۱۰۱)۔ 

پیر، 13 مئی، 2024

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 30-31 Part-02.کیا ہم نےآخرت کی بجائے...

Surah Al-Kahf Ayat 30-31 Part-01.کیا ہم نے زندگی کی نعمت کو ٹھوکر مار کر...

نماز اور احکام قرآن(۱)

 

نماز اور احکام قرآن(۱)

فرئض میں پہلا فرض نماز ہے ۔ دن میں پانچ مرتبہ مقررہ وقت پر نماز ادا کرنا مسلمانوں پر فرض ہے ۔ روز محشر سب سے پہلے نماز کے متعلق ہی سوال کیا جائے گا جو اس میں کامیاب ہو گیا وہ باقی سوالات میں بھی کامیاب ہو جائے گا اور جو اس میں رہ گیا وہ باقی سوالات میں بھی ناکام ہو جائے گا ۔ 
روزِ محشر کہ جاں گداز بود 
اولیں پرسشِ نماز بود
نماز اسلام کا اہم رکن ہے جس کی ادائیگی ہر حال میں لازم ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے ، نماز مومن کی پہچان ہے ، نماز اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے ، نماز رسول کریمﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، نمازاللہ تعالیٰ اور رسول پاکﷺ کا حکم ہے ، نماز ذکراللہ ہے ، نمازسے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے ، نماز دعوت فکر ہے ، نماز دین و دنیا اور آخرت کا خزانہ ہے ، نماز عبادت ہے ، نماز ریاضت ہے ، نماز عاجزی اور درماندگی کا اظہار ہے ،نماز اظہار عبودیت ہے ، نماز دین کا ستون ہے ، نماز دل کی روشنی ہے ، نماز کفرو ایمان کے درمیان حد فاصل ہے ،نماز برائیوں کا کفارہ اور صغائر سے بچنے کا مؤ ثر ترین ذریعہ ہے ، نماز تمام مخلوقات کی عبادات کا جامع ہے ، نماز مجاہدئہ نفس ہے ، نماز حصول مغفرت ہے ، نماز عنایات خدا وندی کا ذریعہ ہے اور نما ز قبولیت دعا کا وسیلہ ہے۔ 
آئیے قرآن مجید میں نماز کے بارے میں اللہ تعالی کے فرامین پڑھیے اور نماز کے بارے میں مختلف کیفیات ، مدارج ،درجات ، انداز اور عنایات کو دیکھتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں جھک جائیے اسی میں نجات ہے ۔ 
سورۃ لبقرۃ : وہ جو ایمان لائے ہیں غیب پر اور صحیح صحیح نماز ادا کرتے ہیں اوراس میں سے جو ہم نے روزی دی خرچ کرتے ہیں ( ۳)۔  اور نماز صحیح ادا کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ( ۴۳)۔اور مددلو صبر اور نما ز سے اور بے شک نماز ضرور بھاری ہے مگر عاجزی کرنے والوں پر ( بھاری نہیں ) ( ۴۵) ۔اور صحیح ادا کرنا نماز اور دیتے رہنا زکوۃ (۸۳)۔ اور صحیح ادا کرو نماز اور زکوٰۃ ادا کرو اور جو کچھ آگے بھیجو گے اپنے لیے نیکیوں سے ضرور پائو گے اس کا اجر اللہ کے ہاں یقینا اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو خوب دیکھ رہا ہے (۱۱۰)۔ اور یاد کرو جب ہم نے بنایااس گھر (خانہ کعبہ ) کو مرکز لوگوں کے لیے اور امن کی جگہ اور (انھیں حکم دیا کہ) بنا لو ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو جائے نماز اور ہم نے تاکید کی ابراہیم اور اسماعیل کو خوب صاف ستھرا رکھنا میرا گھر طواف کرنے والوں ، اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے ( ۱۲۵)۔

اتوار، 12 مئی، 2024

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 29 Part-03.کیا ہم صرف دنیا کی زندگی ...

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 29 Part-02.کیا ہم اپنے اوپر ظلم کر ر...

اولاد کے حقوق(۳)

 

اولاد کے حقوق(۳)

بچوں کی پرورش کے لیے ما ل و دولت خرچ کرنا اور ان کی جائزضروریات کو پورا کرنا والدین کی ذمہ داری ہے ۔ لڑکے کی نسبت لڑکی کی پرورش زیادہ مشکل ہوتی ہے اس لیے حضور  ﷺ نے فرمایا : جو آدمی بیٹیوں کے ذریعے آزمایاگیا پھر اس نے اس پر صبر کیا تو وہ اس کے لیے جہنم سے پردہ ہوں گی ۔ (ترمذی ) 
اولاد کے ساتھ پیار اور محبت کے ساتھ پیش آنا بھی اولاد کے حقوق میں شامل ہے ۔ ایک اعرابی حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو ا اور عرض کی کیا آپ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں ۔ ہم تو بوسہ نہیں دیتے ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایااگر اللہ تعالی نے تمہارے دل سے رحم کو کھینچ لیا ہے تو میں اس کا کیا کر سکتا ہو ں ۔ (بخاری شریف) 
بچے کی جسمانی پرورش کے ساتھ ساتھ اس کی تعلیم و تربیت کرنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے ۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دے ، دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم پر بھی توجہ دے اور اس کی اخلاقی لحاظ سے بھی اچھی تربیت کرے ۔ حضور  ﷺ نے فرمایا : کوئی والدین اپنے بچے کو اچھے اخلاق سے بہتر کوئی عطیہ نہیں دیتا۔ (ترمذی شریف) 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : آدمی کا اپنی اولاد کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے ۔(ترمذی شریف)تربیت اولا د میں سے ہے کہ اپنی اولاد کو نماز کا پابند بنائیں ۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہو جائیں اور اس پر انہیں ماریں جبکہ وہ دس برس کے ہو جائیں اور ان کے بستر الگ کر دو۔ (ابی دائود)حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنی اولاد کو تین باتیں سکھائو : حضور  ﷺ سے محبت ، اہل بیت سے محبت اور قرآن مجید سے محبت اس لیے کہ قرآن مجید یاد کرنے والے اللہ تعالی کے عرش کے سائے میں انبیاء اور منتخب لوگوں کے ساتھ ہوں گے جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (طبرانی)اولاد کے درمیان عد ل و انصاف کر نا بھی والدین کی ذمہ داری ہے ۔ اگر اولاد کے درمیان مساوات نا رکھی جائے تو اس سے بہن بھائیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور والدین کے لیے بھی اولاد کے دل میں نفرت پیدا ہو تی ہے اور گھر کا سارا ماحول خراب ہو جاتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنے بیٹوں میں انصاف کرو ۔ اپنے بیٹوں میں انصاف کرو۔(ابی دائود ) جب اولاد جوان ہو جائے تو ان کی شادی کرنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے : حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اور تم اپنے میں سے کنواروں کا نکاح کر دیا کرو اور اپنے غلاموں اور کنیزوں میں صالحین کا نکاح کرو اگرچہ وہ غریب ہی کیوں نہ ہو اللہ انہیں اپنے فضل سے امیر کر دے گا ۔

باطنی بیماریا ں اور ان کا علاج

  باطنی بیماریا ں اور ان کا علاج آج کے دور میں انسان اپنی جسمانی بیماریوں کا علاج تو بڑی فکر اور بہترین ڈاکٹر سے کرواتا ہے اور انسان ظاہری ...