جمعہ، 12 اپریل، 2024

دعا

 

دعا 

ارشاد باری تعالی ہے : اور جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو میں بالکل نزدیک ہوں ۔ میں دعاکرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا مانگے ۔ پس انہیں چاہیے میرے حکم کی تعمیل کریں اور مجھ پرایمان لائیں تا کہ وہ کہیں ہدایت پا جائیں ۔ ( سورۃ البقرۃ )
سورۃ الاعراف میں ارشاد باری تعالی ہے : اور خوف اور طمع کرتے ہوئے اس کے حضور دعا کرو ۔ یعنی اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور اس کے ہاں جومغفرت اور ثواب ہے اس میں طمع کرتے ہوئے ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی کے نزدیک کوئی بھی چیز دعا سے محترم نہیں اور اشرف العبادات دعا ہے اور جو شخص اللہ تعالی سے نہیں مانگتا وہ اس پر غضب کرتا ہے ۔ 
حضرت ابو الدردا ء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاکرتے تھے کہ مسلمان کی اپنے بھائی کے حق میں پس پشت دعا قبول ہے اس کے سر کے پاس فرشتہ مقرر ہے جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے دعا کرتا ہے تو وہ فرشتہ آمین کہتا ہے اور یہ کہ تیرے لیے بھی اسی کی مثل ہے ۔( مسلم شریف) 
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی سے اس کا فضل مانگو ۔ بیشک اللہ تعالی اسے پسند کرتا ہے کہ اس سے مانگا جائے ۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے جلدی وہ دعا قبول ہوتی ہے جو کہ غائب کی غائب کے لیے ہو اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص تمہارے ساتھ نیکی کرے تو بدلہ دو اور اگر بدلہ نہ دے پائو تو اس کے لیے دعا کرو حتی کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے ۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : اپنے رب سے گڑ گڑاتے ہوئے اور آہستہ آہستہ دعا مانگو بیشک وہ حدسے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ۔ ( سورۃ الاعراف ) 
حضرت عمر ؓسے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ جب دعا کے لیے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تو انہیں نیچے نہیں کرتے تھے حتی کہ انہیں اپنے رخ انور پر پھیرتے (ترمذی)۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی سے دعا کرو اس حال میں کہ تمہیں قبولیت کا یقین ہو ۔ اور جان لو کہ وہ غافل غیر متوجہ قلب سے دعا قبول نہیں فرماتا ۔ ( ترمذی ) 
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی پاک  سے عمرہ کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے اجازت عطا فرمائی اور فرمایا اے بھائی ہمیں بھی اپنی دعا میں فراموش نہ کرنا ۔ آپ نے ایسا کلمہ فرمایا کہ مجھے اس امر کی کوئی خوشی نہیں کہ اس کے بدلے مجھے ساری دنیا مل جائے ۔

جمعرات، 11 اپریل، 2024

عید الفطر

 

عید الفطر

عید اورخوشی کا یہ دن مسلمانوں کا عظیم اور مقدس مذہبی تہوار ہے جسے مسلمان ہر سال یکم شوال کو انتہائی عقیدت و احترام سے مناتے ہیں ۔ عید الفطر حقیقت میں تشکر ، انعام و اکرام اور ضیافت خدا وندی کا دن ہے ۔ رمضان المبارک کا تمام مہینہ عبادت و ریاضت روزے اور نماز تراویح میں گزارنے کے بعد شوال المکرم کی پہلی تاریخ کو اللہ تعالی اپنے عبادت گزار بندوں کوانعام و اکرام ، بے شمار رحمتوں اور برکتوں اور بے حساب اجر وثواب سے نوازتا ہے ۔عید الفطر حقیقت میں یوم الجائزہ اور یوم الانعام ہے ۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب عید الفطر کی رات آتی ہے تو اس کا نام آسمانوں پر ’’لیلۃ الجائزہ ‘‘( یعنی انعام و اکرام کی رات ) لیا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالی فرشتوں کو ساری روئے زمین پر بھیجتا ہے وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں اور راستوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے پکارتے ہیں جسے جنات اور انسانوں کے علاوہ تمام مخلوق سنتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں اے امت محمدیہ ﷺ اللہ تعالی کی بارگاہ کی طرف چلو جو بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ہے ۔ جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ تعالی فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اس مزدور کا کیا بدلہ ہے جو اپنا کام پورا کر چکا ہے ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اے باری تعالی اس کا بدلہ یہ ہے کہ اسے پورا بدلہ دیا جائے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے اے فرشتوگواہ ہو جائو میں نے انہیں رمضان المبارک اور قیام اللیل کے بدلے اپنی رضا اور مغفرت عطا کر دی ۔ اور بندوں کو خطاب فرما کر ارشادفرماتا ہے اے میرے بندو مجھ سے مانگو میری عزت و جلال کی قسم آج کے دن تم اپنے اجتماع عید میں دنیا و آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے میں عطا فرمائوں گا ۔ میری عزت وجلال کی قسم جب تک تم میرا خیال رکھو گے میں تمہارے عیبوں پر پردہ ڈالوں گا اور میں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رسوا نہیں کروں گا پس تم بخشے ہوئے ہو کر اپنے گھروں کی طرف لوٹ جائو ۔ تم نے مجھے راضی کر لیا میں تم سے راضی ہو گیا ۔ فرشتے اس دن امت محمدیہﷺ کو ملنے والے اجر کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ (الترغیب الترہیب ) ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے عید کی رات ثواب کی نیت کے ساتھ قیام کیا اس کا دل اس دن نہیں مرے گا جس دن باقی لوگوں کے دل مرجائیں گے ۔ ( ابن ماجہ ) 

پیر، 8 اپریل، 2024

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ (2)

 

 حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ (2)

بخاری ومسلم نے سعدبن ابی وقاص ؓسے روایت کیا ہے۔کہ نبی مکرمﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علی کو اپنا نائب مقرر فرمایاتوآپؓ نے عرض کی کہ آقاآپ مجھے عورتوں اوربچوں میں چھوڑے جارہے ہیں۔حضور ﷺنے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ میرے ساتھ تمہاری وہی نسبت ہے جوھارونؑ کو موسیٰؑ سے تھی۔
امام مسلم نے سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ حضور ﷺ نے غزوہ خیبر میں فرمایاکل میں جھنڈا اس کودونگا جس کے ہاتھ پر اللہ خیبر کو فتح فرمائے گاوہ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت کرتا ہے اور خدا اور رسولﷺ بھی اس سے محبت کرتے ہیں لوگوں نے اس کشمکش میں رات گزاری کہ وہ نہ جانے خوش بخت کون ہوگا؟جسے صبح دست رسولﷺ سے عَلم عطا ہوگاصبح تمام لوگ رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس طرح ہر ایک کے دل میں خواہش تھی کہ کاش یہ سعادت سرکار ﷺ مجھے بہرہ مند فرمائیں۔
حضور ﷺ نے فرمایا علیؓ کہاں ہے؟کہا گیا ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔تو نبی رحمتﷺ نے انہیں بلا بھیجاجب حضر ت علی بارگاہ اقدسﷺ میں حاضر ہوئے تو حضور نبی مکر م ﷺ نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایاجس سے ان کی ساری تکلیف دور ہوگئی اور آپ کی وہ آنکھ اس طرح ہو گئی گویا اس میں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔
حضو ر ﷺ نے جھنڈا حضرت علی کے ہاتھ میں دیا آپ فتح کا عزم لیے قلعہ پر حملہ آور ہوئے ۔ یہود کا سورما مرحب رجز پڑھتا چند سرداروں کے ہمراہ قلعہ سے باہر نکلا حضرت علی اس کی جانب بڑھے آپ نے جنگ کے دوران مرحب کو جہنم واصل کر دیا اور قلعہ کو فتح کر لیا ۔
اگرچہ آپ نادر شجاعت کے حامل تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ فقیرانہ احساس اور عجز و انکساری کا پیکر تھے ۔ جنگ کی وحشت و بربریت کا جذبہ کبھی بھی آپ کے دل میں پیدا نہیں ہوا ۔ آپ نے غازیانہ خلق عظیم کی بہترین دنیا میں مثال پیش کی آپ نے کبھی ظلم و تعدی سے کام نہ لیا اور نہ ہی فخرو غرور کی کوئی بات آپ سے سرزد ہوئی بلکہ آپ نے اپنے طرز عمل سے حلم وحیا کی روایت کو عام کیا ۔ 
کوفہ میں سترہ رمضان المبارک کو ایک بد بخت خارجی عبدالرحمن نے حالت نماز میں آپ پر حملہ کیا جس سے آپ شدید زخمی ہو گئے اور بیس رمضان المبارک جمعہ کی شب اسلام کا یہ بدر منیر ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔

Surah Al-Isra (سورة بنیٓ اسرآئیل / الإسرَاء) Ayat 31.کیا ہمیں اللہ تعال...

اتوار، 7 اپریل، 2024

Surah Al-Isra (سورة بنیٓ اسرآئیل / الإسرَاء) Ayat 30 .کیا ہمیں اللہ تعا...

Allah tallah ki rehmat kay asbab

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ

 

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ

امیر المﺅ منین خلیفة المسلمین داماد رسول شیر خدا خلیفہ چہارم حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ ہجرت سے 23 سال پہلے مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ فخر حاصل ہے کہ آپ ماں اور باپ دونوں کی جانب سے ہاشمی ہیں اور ساری نسل آدم کے دیگر تمام خاندانوں پر بنی ہاشم کو جن امتیازی صفات اور جسمانی علامات کی بنا پر فوقیت حاصل تھی آپ کی ذات مبارکہ ان تمام صفات و علامات کا مرقع تھی ۔
سرکار دو عالم ﷺ کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے والدین سے جو انس و محبت تھی اس کا یہ تقاضا تھا کہ آپ ﷺ نے زمانہ قحط میں اپنے محسن چچا ابو طالب کی تنگدستی کو دیکھتے ہوئے ان کا معاشی بوجھ ہلکا کرنے کے لیے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنی کفالت میں لے لیا اس وقت آپکی عمر پانچ سال تھی ۔آغاز نبوت کے دور میں جب یہ آیت نازل ہوئی ” وانذر عشیرتک الاقربین“ تو رب ذولجلال کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے رسول کریم ﷺ نے بنی ہاشم کے سارے افراد کو مدعو کیا ۔ کھانا پیش کرنے کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں تم لوگوں کو ایسی بات کی طرف دعوت دیتا ہوں جو دینا و آخرت کی فلاح کی ضامن ہے اور میں نہیں جانتا کہ عرب میں کوئی بھی شخص ایسا بے بہا تحفہ لایا ہو ۔ آپ میں سے کون میری دعوت کو قبول کرتا ہے اور میرا معاون و مدد گار بنتا ہے ۔مگر تمام لوگ خاموش رہے تب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا اگرچہ میں کم عمر اور کمزور ہوں مگر میں آپ کا دست و بازو بنو گا ۔ حضور ﷺ نے آپ کو بٹھا دیا ۔ دوبارہ حاضرین سے خطاب کیا لیکن کسی نے کوئی جواب نہیں دیا اس پر حضرت علی دوبارہ کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے آپ کو بٹھا دیا پھر آپ ﷺ نے تیسری بار لوگوںسے خطاب کیا تو کوئی جواب نہیں ملا پھر حضرت علی کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: 
” اے علی تو ہی میرا بھائی اور معاون مدد گار ہے “۔
حضرت علی کو بستر رسول پر آرام فرمانے کا بھی شرف حاصل ہے ۔ جب حضور نبی کریم ﷺ کو مکہ چھوڑ جانے کی اجازت ملی تو آپ ﷺ نے فرمایا ” اے علی مجھے مکہ چھوڑ کر جانے کا حکم ہوا ہے آج میرے بستر پر میری سبز چادر اوڑھ کر سونا ہو گا اور ذرا اندیشہ نہ کرنا تمہیں کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا“۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ تین روز تک مکہ مکرمہ رہے اور روز کھلی وادی میں جا کر اعلان فرماتے ” لوگو! سن لو جس کسی کی امانت رسول پاک ﷺ کے پاس رکھی تھی وہ آئے اور اپنی امانت لے جائے “۔ چوتھے روز آپ اکیلے مدینہ منورہ روانہ ہوئے اور قبا پہنچ کر حضور ﷺ سے ملاقات کی تو آپ ﷺنے آپ کو گلے لگایا اور فرمایا” اے علی دنیااور آخرت میں تم میرے بھائی ہو“۔

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱)

  سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱) ارشاد باری تعالی ہے :”اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی مردوں کے لیے ان...