جمعرات، 3 مارچ، 2022

Dars-e-Quran Urdu. Dars No 2007 ( Surah Al-Mulk Ayat 01 - 02 Part-3 ) ...

Shortclip - ہم مومن بننے کی ضرورت کیسے محسوس کریں گے؟

Darsulquran urdu surah al-maeda ayat 66. کیا ہماری اکثریت برے کام کر رہی ہے

آسودگی

 

آسودگی

حضرت عمر ابن خطاب روایت کرتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھا انہوں نے دنبے کی کھال کو اپنی کمر پر لپیٹا ہوا تھا ۔آپ نے فرمایا:اس شخص کی طرف دیکھو جس کے دل کو اللہ نے نورانی بنادیا ہے۔میں نے اس کا وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جس میں اس کے والدین اس کو سب سے عمدہ کھانا کھلایا کرتے تھے اور سب سے بہتر مشروب پلایا کرتے تھے۔میں نے اس کو وہ جوڑا پہنے ہوئے بھی دیکھا ہے جس کی قیمت دوسودرہم تھی۔اللہ اوراسکے رسول کی محبت میں اس نے سب کچھ ترک کردیا اور فقر و فاقہ نے اس کا جو حال کردیا ہے جو تم لوگ دیکھ رہے ہو۔(طبرانی)حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قباء میں تشریف فرما تھے آپ کے ساتھ چند صحابہ کرام بھی تھے اتنے میں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ آتے ہوئے دکھائی دیے ۔انھوں نے اتنی چھوٹی چادر اُوڑھی ہوئی تھی جو انکے ستر کو پوری طرح ڈھانپ نہیں پا رہی تھی تمام صحابہ کرام نے سر جھکالیے ۔ مصعب بن عمیر نے قریب آکر سلام کیا ،صحابہ کرام نے انکے سلام کا جواب دیا ۔حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بڑی تعریف کی اور فرمایا : ’’میں نے مکہ مکرمہ میں دیکھا ہے کہ انکے والدین ان کا خوب اکرام کیاکرتے تھے۔ان کو ہر طرح کی نعمتیں فراہم کیا کرتے تھے اور قریش کا کوئی جوان ان جیسا نہیں تھا ۔لیکن پھر انہوں نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کیلئے اور اسکے رسول کی اعانت کرنے کیلئے یہ سب کچھ ترک کردیا ۔غور سے سنو ! تھوڑا ہی عرصہ گزرے گا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ تمہیں فارس اورروم کی فتح عطافرمائے گا۔دنیا کی اتنی فراوانی ہوجائے گی کہ تم میں سے ہر آدمی ایک جوڑا صبح پہنے گا اورایک جوڑا شام کو ۔کھانے کا ایک بڑا اور لبریز پیالہ صبح تمہارے سامنے آئے گا اوراسی طرح شام کو بھی کھانے کا ایک بڑا پیالہ تمہیں ملے گا۔صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ !ہم آج بہتر حالت میں ہیں یا اس دن بہتر ہوں گے ۔ آپ نے ارشادفرمایا :نہیں آج تم لوگ بہت بہتر ہو۔ غور سے سنو ! اگر تم لوگ دنیا کے بارے میں وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تمہاری طبیعتیں دنیا سے بالکل سرد ہو جائیں ۔(حاکم) حضرت خباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،جب حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو انکے پاس صرف ایک کپڑا تھا جو اتنا چھوٹا تھا کہ جب اس کپڑے سے ان کا سر ڈھانپتے تھے تو انکے پائوں کھل جاتے تھے اورجب پائوں ڈھانپتے تھے تو سر کھل جاتا تھا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کے پیروں پر اذخر (گھا س )ڈال دو۔(الاصابۃ)

بدھ، 2 مارچ، 2022

Shortclip - زندگی کی حقیقت

Dars-e-Quran Urdu. Dars No 2006 ( Surah Al-Mulk Ayat 01 - 02 Part-2 ) د...

مسلمانوں کا ابتدائی حال

 

مسلمانوں کا ابتدائی حال

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں ،میں سردی کے موسم میں صبح کے وقت اپنے گھر سے نکلا،مجھے شدید بھوک بھی لگی ہوئی تھی اور سخت سردی بھی محسوس ہورہی تھی۔ہمارے ہاں بغیر رنگی ہوئی ایک کھال پڑی ہوئی تھی میں نے اسے کاٹ کر اپنے گلے میں ڈال لیا اوراپنے سینے سے باندھ لیا تاکہ اس کے ذریعے سے کچھ تو حدّت حاصل ہو۔اور قسم بخدا ! میرے گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہیں تھی۔اور اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاشانہ اقدس میں بھی کوئی چیز ہوتی تو وہ مجھے مل جاتی۔

میں مدینہ منورہ میں ایک سمت نکل پڑا وہاں ایک یہودی اپنے باغ میں موجود تھا ،میں نے دیوار کے سوراخ سے اسے جھانکا ،اس نے کہا :اے اعرابی! کیا معاملہ ہے ؟کیا تم ایک کجھور کے عوض ایک ڈول پانی نکا لنے پر تیار ہو۔ میں نے کہا: ہاں! باغ کا دروازہ کھولو۔اس نے دروازہ کھول دیا ،میں اندر چلاگیا اور کنویں سے ڈول نکالنے لگاوہ مجھے ہر ڈول پر ایک کجھور دیتا رہا یہاں تک کے میری مٹھی کجھور وں سے لبریز ہوگئی ۔میں نے کہا مجھے اتنی کجھوریں کافی ہیں، میں نے وہ کجھوریں کھائیں ،پانی پیااور پھر وہاں سے مسجد نبوی میں آگیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بیٹھ گیا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام کی ایک جماعت بھی بیٹھی ہوئی تھی۔اتنے میں حضرت مصعب بن عمیر (رضی اللہ عنہ)بھی حاضر خدمت ہوئے ۔وہ ایک پیوند لگی ہوئی چادر اُوڑھے ہوئے تھے ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دیکھا تو آپ کو ان کاناز ونعمت والا زمانہ یاد آگیا( جب وہ مکہ میں مقیم تھے اور نہایت ہی آسودہ حال تھے)۔ اور اب ان کی موجودہ فقر وفاقہ اور عسر ت والی زندگی بھی نظر آرہی تھی ۔اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو بہنے لگے اور آپ رونے لگے ۔

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:(آج تو یہ فقروفاقہ اور تنگدستی کا زمانہ ہے لیکن )اس وقت تم لوگوں کا کیا حال ہوگا جب تم میں سے ایک شخص ایک جوڑا صبح پہنے گا اور ایک شام کو۔ تمہارے گھر وں پر ایسے (دبیز ،خوشنمااور قیمتی ) پردے لٹکائے جائیں گے جیسے کعبہ معظمہ پر لٹکائے جاتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ پھر تو ہم اس زمانے میں زیادہ بہتر ہوں گے۔ہماری ضرورت کے کام دوسرے سرانجام دیا کریں گے۔ ہمیں مصروفیت سے چھٹکارا مل جائے گا،اور ہم اپنے معبود کی عبادت کیلئے فارغ ہوجائیں گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :نہیں ! آج تم اس دن سے زیادہ بہتر ہو۔(ترمذی)


خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔

  خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔ اسلامی تاریخ ایسی پاکیزہ اور باکمال شخصیات سے مزین ہے جنہوں نے اپنی بے مثال سیرت ، اعلی کردار اور بے لوث ...