جمعہ، 29 مئی، 2020

وسعتِ عبادت

وسعتِ عبادت


’’ اسلام میں عبادت کا مفہوم چند مخصوص افعال میں منحصر نہیں اسلامی نقطہ نظر کیمطابق جس طرح نماز ادا کرنا عبادت ہے ایسے ہی امانت داری سے تجارت کرنا بھی عبادت ہے حضور سید عالم ﷺ کا فرمان ذیشان ہے ’’امانت داری سے تجارت کرنیوالا قیامت کے دن انبیاء اور شہدا کے ساتھ ہوگا۔‘‘جس طرح حج کرنے سے انسان کو اللہ کی محبت نصیب ہوتی ہے ایسے ہی روز ی کمانے کیلئے محنت ومشقت کرنا بھی عبادت ہے۔حضور ﷺ کا فرمان ہے الکاسب حبیب اللہ ’’مزدوری کرنیوالا اللہ کا دوست ہے۔‘‘جیسے قرآن مجید کی تلاوت کرنا عبادت ہے ایسے ہی کسی کی حاجت پوری کرنا بھی عبادت ہے پیغمبر اسلام ﷺفرماتے ہیں : ’’جب تک ایک بندہ کسی بندے کی مشکل حل کرنے میں لگا رہتا ہے اس وقت تک اللہ تعالیٰ اس کی مشکلیں آسان فرماتا رہتا ہے۔‘‘ جہاں شرک ظلم عظیم ہے وہاں جھوٹی قسم کھانا اور جھوٹی گواہی دینا بھی بہت بڑا ظلم ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا کیا میں تمہیں سب بڑے گناہ نہ بتائوں ہم نے عرض کیا کیوں نہیں رسول اللہ! ﷺنے فرمایا : اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا حضور سید عالم ﷺ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے پھر اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا خبر دار جھوٹی گواہی دینا بھی شدید ترین گناہوں میں سے ہے اور آپ اس بات کو باربار دھراتے رہے یہاں تک کہ ہم کہنے لگیں کہ کاش آپ خاموش ہوجائیں۔(ریاض الصالحین ، ص 594) ایک بدو حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺسب سے بڑا گناہ کون سا ہے تو آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اس نے عرض کیا پھر تو فرمایا جھوٹی قسم کھانا۔(ریاض الصالحین ،ص 650) جیسے روزہ توڑنا گناہ ہے ایسے ہی کسی لالچ یا خوف سے کسی بات کو چھپانا بھی گناہ ہے ۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں ۔ جس سے کوئی بات پوچھی گئی لیکن اس نے وہ بات چھپائی اسے قیامت کے دن آگ کی لگام دی جائیگی۔(ریاض الصالحین ،ص528) جیسے اللہ کی عظمت کو نہ ماننا جرم ہے ایسے ہی غرباء فقراء کی مدد نہ کرنا بھی جرم ہے قیامت کے دن ایک مجرم کے متعلق فرمایا جائیگا۔ ’’اسے پکڑواسکے گلے میں طوق ڈالو۔ پھر اسے جہنم میں داخل کردو پھر اسے ایسی زنجیر میں جکڑوجس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے۔ بے شک وہ عظمت والے اللہ پر ایمان نہ لاتا تھا اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہ دیتا تھا۔‘‘(الحاقہ : 30:33)(روح عبادت)

Dars-e-Quran Urdu. Dars No 1399 (Surah Momin Ayat 01 Part-2)درس قرآن سُو...

جمعرات، 28 مئی، 2020

Aaj Ka Insaan Nakam Hay آج کا انسان ناکام ہے؟

دعا کی حقیقت - Dua Ki Haqeeqat

Dars-e-Quran Urdu. Dars No 1398 (Surah Momin Ayat 01 Part-1)درس قرآن سُو...

عبادت، اعترافِ عجز

عبادت، اعترافِ عجز


کتاب اللہ میں لفظ عبادت ’’تکبر‘‘کے متضاد کے طور پر استعمال ہواہے۔ ٭(ملائکہ ) جو اس کے پاس ہیں ،وہ اُ سکی عبادت سے غرور نہیں کرتے ۔(الا نبیائ۔ ۲۰) ٭میری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں جن کو ان آیات سے سمجھایا جائے تو وہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں،اور اپنے پروردگار کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور غرور نہیں کرتے ۔(السجدہ)٭غرور ،تکبر اور استکبار کے معنی اپنے آپ کو بڑا سمجھنا ،احساس ذات ، خدا کے سامنے سرکشی ، اوراسکی بارگاہِ جلالت میں گردن جھکانے سے عاروانکار کے ہیں۔تو اسکے مقابلے میں عبادت اللہ کے سامنے سرجھکانے اور عاجزی اور بندگی کا اعتراف کرنے اور اسکے احکام کے سامنے اظہار اطاعت کے ہیں ۔ اسی طرح کسی شخص سے بظاہر اچھے کام کا صدور تو لیکن اس اچھے کام سے اس مقصد اظہارِ عبودیت یا اطاعتِ خداوندی نہ ہو تو وہ کام عبادت میں شمار نہیں ہوگا۔ کسی بھی اچھے کام کو عبادت میں شمار ہونے کیلئے اسکی نیت کا خالص اور پاک ہونا بے حد ضروری ہے اور یہی وہ نشانِ امتیاز ہے جو عبادت اور غیر عبادت کے درمیان فرق کرتا ہے۔  ارشاد اتِ خداوندی ملاحظہ فرمائیے۔

٭اس پرہیز گار کو دوزخ سے بچا لیاجائے گا جو اپنا مال دل کی پاکیزگی (حاصل کرنے ) کیلئے دیتا ہے۔ اس پر کسی کا احسان باقی نہیں،جس کا بدلہ اس کو دینا ہو،بلکہ صرف خدائے برتر کی ذات اسکا مقصود ہے۔وہ عنقریب خوش ہوجائیگا۔ (اللیل ۔۱۰) ٭پس خرابی ہے ایسے نمازیوں کیلئے جو اپنی نماز (کی ادائیگی )سے غافل ہیں،وہ جو ریا کاری کرتے ہیں،اور (مانگے بھی)نہیں دیتے روز مرّہ استعمال کی چیزیں۔(الماعون )

’’آنحضرت ﷺنے عبادت کا جو مفہوم دنیا کے سامنے پیش کیا اس میں پہلی چیز دل کی نیت اور اخلاص ہے۔ اس میں کسی خاص کام اور طرزوطریقہ کی تخصیص نہیں ہے، بلکہ انسان کا ہر وہ جائز کام جس سے مقصود خدا کی خوشنودی اور اسکے احکام کی اطاعت ہے۔ وہ ’’عبادت‘‘ ہے۔

اگر تم اپنی شہرت کیلئے کسی کو لاکھوں دے ڈالو،تو وہ عبادت نہیں لیکن خدا کی رضا جو ئی اور اسکے حکم کی بجا آوری کیلئے چند کوڑیا ں بھی کسی کو دو تو یہ بڑی عبادت ہے۔ تعلیم محمد ی کی اس نکتہ رسی نے عبادت کو درحقیقت دل کی پاکیزگی، روح کی صفائی اور عمل کے اخلاص کی غرض وغایت بنادیا ہے اور یہی عبادت سے اسلام کا اصلی مقصود ہے۔‘‘ (سیرت النبی )

بدھ، 27 مئی، 2020

نور بصیرت

عبادت

قرآن مقدس کی رو سے انسان کی تخلیق بے مقصد نہیں ہے۔ بلکہ اسکی زندگی کا ایک واضع اور غیر مبہم مقصد ہے،اور وہ ہے ’’عبادت‘‘۔لفظ ’’عبادت‘‘سے ذہن فوراً کچھ ایسے معمولات کی طرف جاتا ہے ۔ جو عام طور پر عبادت کے حوالے سے ’’متعارف‘‘ہیں ۔ان معمولات کے عبادت میں ہوتے ہیں کوئی شک وشبہ نہیں ۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اسلام میں تصور عبادت ایک وسیع مفہوم کا حامل ہے۔لغتِ عرب میں انتہائی انکساری اور عاجزی کو ’’عبادت‘‘کہاجاتا ہے۔ امام راغب اضفہانی کہتے ہیں عبادت کا معنی ہے غایۃُ التذلل یعنی انتہاء درجہ کی انکساری ،صاحب لسان العرب ابن منظور لکھتے ہیں :معنی العباد ۃ فی اللغۃ الطاعۃ مع الخضوع۔عبادت کے معنی ایسی اطاعت کے ہیں جس میں خضوع پایا جائے۔ گو یا کہ لفظ’’ عبادت‘‘ اپنی ذیل میں انتہائی عاجزی ،انکساری اور اظہار فروتنی کا مفہوم رکھتا ہے۔ قرآن مقدس میں عبادت کا متضاد لفظ ’’تکبر‘‘استعمال ہواہے۔ ٭جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ سب جہنم میں داخل ہونگے۔ (المومن 60)٭اور جسے اللہ کی عبادت سے عار ہو اور وہ تکبر کرے تو اللہ ان سب کو جلد ہی اپنے ہاں جمع کریگا۔ (النساء 172) عبادت کا اصل مفہوم عاجزی اور انکساری ہے۔ لیکن جب اسکی نسبت اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف ہو تو اس میں محبت والفت کا عنصر بھی شامل ہوجاتا ہے۔ یعنی عبادت الہٰی وہ عاجزی اور انکساری ہے ،جو اللہ تبارک وتعالیٰ کی محبت الفت میں وارفتہ ہوکر کی جائے۔ امام ابن کثیر کہتے ہیں : عبادت کے لغوی معنی پست ہونے کے ہیں ۔ کہتے ہیں ’’طریق معبد ‘‘یعنی وہ راستہ جو پامال ہوتا ہو۔’’ بعیر معبد ‘‘وہ اونٹ جو سرکشی چھوڑ کر مطیع وفرمابردار بن گیا ہو۔ شریعت میں اس سے مراد ایسی کیفیت ہے ۔ جس میں انتہائی محبت کے ساتھ انتہائی خضوع اور خوف شامل ہو۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر )علامہ ابن قیم لکھتے ہیں ۔ ’’عباد ت کے دوجز ہیں ۔انتہائی محبت اور انتہائی عاجزی اور انتہائی پستی کے ساتھ ‘‘۔ گویا کہ عبادت زبردستی کی عاجزی یاانکساری کا نام نہیں بلکہ دل کے میلان کا نام ہے،جو پورے شعور سے ایک بالاتر ہستی کا اعتراف کرے ، اسکے جمال کی محبت سے سرشار ہوکر اور اسکے جلال کی ہیت سے مرعوب ہوکر پوری آمادگی کے ساتھ اسکے سامنے سر تسلیم خم کردے اور یہ جذبہء تسلیم ورضا ء چند معمولات ورسومات تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانی زندگی کے تمام اعمال کو محیط ہے۔ ہروہ عمل جو اللہ کے عطاء فرمودہ ضابطے کیمطابق ہو اور جس کا منشاء ومقصود رضا ئے الٰہی ہو ’’عبادت‘‘ ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۳)

  حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۳) حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم رؤف الرحیم ﷺ جب مدینہ منورہ کی کسی گلی سے گزرتے تو اس کے ب...