حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (۱)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام و مرتبہ اس قدر بلند اور مقدس ہے جسے الفاظ کی محدود دنیا میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں ۔
یہ وہ برگزیدہ ہستیاں ہیں جنہوں نے براہ راست حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کی اور آپ ﷺ کی صحبت پائی ۔ انہی عظیم المرتبت صحابہ میں ایک نمایا ں نام حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہے جنہیں اللہ تعالی نے حفظِ حدیث کی غیر معمولی صلاحیت عطا فرمائی۔
آپ رضی اللہ عنہ کا اصل نام عبدا لرحمن صخر ہے اور قبیلہ دوس سے تعلق رکھتے تھے ۔آپ رضی اللہ عنہ کا شمار کثرت روایات کرنے والے صحابہ کرام میں ہوتا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بہت ہی عبادت گزار ، متقی اور پرہیز گار صحابی تھے ۔آپؓ کو بلیوں سے بہت انس تھا ۔ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ نے آپؓ کی آستین میں بلی دیکھی تو فرمایا یا اباہریرۃ یعنی اے بلی کے باپ کہہ کر بلایا اسی دن سے آپ ؓ کا لقب ابو ہریرہ ؓ مشہور ہو گیا ۔
آپ ؓ کو حضور نبی کریم ﷺ سے بہت زیادہ محبت تھی اور آپ ﷺ کا بہت زیادہ ادب و احترام کرتے تھے یہاں تک کہ بغیر طہارت حضور نبی کریم ﷺ سے مصافحہ کرنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے ۔ایک مرتبہ آپ ؓ کو غسل کی حاجت تھی کہ راستہ میں حضور نبی کریم ﷺ سے سامنا ہو گیا ۔آپ رضی اللہ عنہ ایک طرف سے ہو کے نکل گئے اور غسل کے بعد نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ۔نبی رحمت ﷺ نے فرمایا ابو ہریرہ کہاں تھے ؟ عرض کی مجھے غسل کی حاجت تھی اس لیے دل نے گوارا نہ کیا کہ اس حالت میں آپ ﷺ سے مصافحہ کروں۔ (ابو داؤد )۔
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا نبی کریم ﷺ سے محبت کا عالم یہ تھا کہ اگر حضور نبی رحمت ﷺ خوش ہوتے تو آپ بھی خوش ہوتے اور اگر حضور نبی کریم ﷺ کے چہرہ انور پر غمی کے اثرات ہوتے تو آپ ؓ بھی غمگین ہو جاتے تھے ۔ایک مرتبہ آپ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ جب میں آپ ﷺ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل باغ باغ ہوجاتا ہے اور آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں ۔ ( مسنداحمد)۔
آپ ؓ کو علم حاصل کرنے کا بے حد شوق تھا اور سب کچھ چھوڑ کر حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتے فاقے برداشت کرتے اور علم حاصل کرتے تھے۔
ایک مرتبہ آپؓ نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی یا رسو ل اللہ ﷺ میں آپ ﷺ سے جو بھی سنتا ہوں بھول جاتا ہوں ۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی چادر پھیلاؤ حضور نبی کریم ﷺ نے کچھ احادیثیں بیان کیں اور فرمایا اس چادر کو سمیٹ کر اپنے سینے سے لگا لو ۔اس کے بعد آپ ؓ کا حافظہ اتنا قوی ہوا کہ جو کچھ آپ ﷺ سے سنتے فورا ً یاد ہو جاتا ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں