جمعہ، 2 اکتوبر، 2026

لالچ اور لامحدود خواہشات(۲)

 

لالچ اور لامحدود خواہشات(۲)

جب لالچ اور حرص کسی فرد کی شخصیت میں جگہ بنا لیتی ہے تو وہ معاشرے کا کارآمد اور پُر امن شخص نہیں رہتا ۔رشو ت خوری ، کرپشن ، ذخیرہ اندوزی ، جھوٹ ،دھوکہ دہی اور لوگوں کا استحصال کرنا اس کی عادت بن جاتی ہے اور ان تمام جرائم کی جڑ لالچ اور حرص ہے ۔ ایک تاجر جب زیادہ منافع کے لالچ میں خراب مال بیچتا ہے یا پھر کوئی افسر عوام کی خدمت کی بجائے اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتا ہے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو ہوتا ہے۔
اس لیے اسلام نے ہمیں قناعت کو اپنانے کا درس دیا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور اللہ تعالی کی طرف سے اسے جو رزق دیا گیا اس پر قناعت اختیار کی ۔
ابو للیث سمرر قندی علیہ الرحمہ اپنی تصنیف تنبیہ الغافلین میں لکھتے ہیں جو کوئی شخص اپنی خواہشات کو کم کر لیتا ہے تو اللہ تعالی اسے چار طرح سے وقار عطا فرماتا ہے۔  ایک یہ کہ اللہ تعالی اسے یہ توفیق عطا فرماتا ہے کہ وہ احکام الہی کی پاسداری کر سکے اور ان کی بجا آوری لا سکے کیونکہ جب بندہ یہ جان لیتا ہے کہ  موت قریب ہے تو وہ ناپسندیدہ دنیوی چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے اور پرہیز گاری کے کاموں میں لگ جاتا ہے تا کہ اس کی نیکیوں میں اضافہ ہو سکے ۔ 
نمبر دو جب بندے کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اس دنیا میں اس کا قیام بس چند روزہ ہے اور یہ دنیا فانی ہے تو پھر دنیاوی معاملات میں اس کی دلچسپی کم ہو جاتی جس کی وجہ سے اس کے دنیاوی تفکر اور پریشانیا ں کم ہو جاتی ہیں ۔
نمبر تین یہ کہ جب بندے کو یہ معلوم ہو جاتاہے کہ اسے جلد ہی اس دنیا کو چھوڑ جانا ہے تو وہ طلب دنیا کی خواہش کو ترک کر دیتا ہے اوراس کی تمام تر توجہ اخروی زندگی کی تیاری کی طرف مبذول ہو جاتی ہے ۔ نمبر چار اس کا دل نور سے بھر جاتا ہے کیونکہ چار چیزیں دلوں کو منور کرتی ہیں ۔ بھوکا پیٹ،نیک دوست، پُرانی غلطیوں کو یاد رکھنا اور خواہشات کو کم رکھنا ۔
لالچ اور حرص سے بچنے کے لیے بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کا تزکیہ کرے کیونکہ کسی بھی برائی سے بچنے کے لیے سب سے پہلے دل کی اصلاح  ضروری ہے ۔ جب بندے کا نفس شیطانی وسوسوں سے پاک رہتا ہے تو وہ دنیاوی لالچ سے بچ جاتا ہے ۔والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں  کو لالچ سے بچنے اور قناعت اختیار کرنے کا درس دیں  تاکہ وہ اپنی اخروی زندگی کی بہتر طریقے سے تیاری کر سکیں۔
لالچ اور لا متناہی خواہشات انسان کی شخصیت کو کھوکھلا اور معاشرے کو تباہ کر دیتی ہیں ۔ اس کا حل صرف یہ ہی ہے کہ انسان اپنی خواہشات پر قابو رکھے اور  قناعت کو اپنائے ۔ وہی انسان کامیاب ہے جس نے اپنے نفس کو شکست دے دی ۔آج ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لالچ انسان کو کہیں کا  نہیں چھوڑتا۔اصل دولت دل کا سکون ہے جو صرف ذکر الہی ، کثرت درود و سلام ،شکر ، قناعت اور سچائی کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

لالچ اور لامحدود خواہشات(۲)

  لالچ اور لامحدود خواہشات(۲) جب لالچ اور حرص کسی فرد کی شخصیت میں جگہ بنا لیتی ہے تو وہ معاشرے کا کارآمد اور پُر امن شخص نہیں رہتا ۔رشو ت ...