ایمان اور عمل صالح (۲)
عمل صالح سے مراد ہر وہ نیک عمل ہے جو بندہ اللہ تعالی کی خوشنودی کے لیے اخلاص کے ساتھ اور شریعت کے مطابق انجام دے ۔ نماز پنج گانہ کی ادائیگی ، روزہ ، زکوۃ ، صدقہ و خیرات ، تلاوت قرآن مجید ، والدین کے ساتھ حسن سلوک ، رشتہ داروں سے صلہ رحمی ، سچ بولنا ، امانت ادا کرنا ، مظلوم کی مدد کرنا اور لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا سب عمل صالح کی مختلف صورتیں ہیں ۔
عمل صالح صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے ۔ ایک تاجر کو چاہیے کہ وہ ایمانداری سے کاروبار کرے ، استادکا اخلاص کے ساتھ تعلیم دینا ، انصاف کرنا ، مزدور کا محنت سے کام کرنا اور مالک کا اس کو وقت پر مزدوری دینا اورکسی ضرورت مند کے کام آنا یہ سب عمل صالح ہیں۔ شرط یہ ہے کہ نیت درست اور طریقہ جائز ہو ۔
جیسا کہ اللہ تعالی سورۃ الانبیاءمیں ارشاد فرماتا ہے : ” جو کچھ بھلے کام کرے اور ہو ایمان والا تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں۔ اور ہم اسے لکھ رہے ہیں “۔ اس آیت مبارکہ میں بندو ں کو مضبوطی کے ساتھ اللہ تعالی کی اطاعت پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی گئی ہے ۔ جو بندہ ایمان والا ہو اور عمل صالح کرے تو اس کو اس کا ضرور اجر دیا جائے گا اور اسے اس کے اجر سے محروم نہیں رکھا جائے گا ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ہم اس کے عمل کو اعمال نامے میں لکھ رہے ہیں اور اس میں کچھ کمی نہ ہو گی ۔ ( تفسیر کبیر )۔
اعمال اسی صورت قبول ہو ں گے جب بندہ ایمان والا ہو گا اگر ایمان نہیں تو پھر کچھ اجر نہیں ملے گا ۔ ایمان والے کے نیک اعمال مقبول ہوتے ہیں لیکن وہ اعمال نیک نیت اور اللہ تعالی کے حکم کے مطابق کیے جائیں ۔ جیسا کہ سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی فرماتا ہے : ” اور جو آخرت چاہتا ہے اور اس کے لیے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہوتو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی “۔
سورۃ العصر میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ” اس زمانہ محبوب کی قسم ۔بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے ۔ مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو حق کی تا کید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی “۔
اس سورۃ میں اللہ تعالی نے انسان کو نجات کے اصول بتائے ہیں ۔ انسان کی عمر جواس کا سرمایہ اور اصل پونجی ہے وہ ہر دم کم ہو رہی ہے لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور دوسروں کو ایمان اور نیک اعمال کی دعوت دی اور مصیبتوں اور آزمائشوں میں ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی تو یہ لوگ خسارے میں نہیں بلکہ اللہ تعالی کے فضل سے نفع پانے والے ہیں ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں