ہفتہ، 19 ستمبر، 2026

ایمان اور عمل صالح (۱)

 

ایمان اور عمل صالح (۱)

انسان کی ظاہری زندگی اس کے اعمال سے پہچانی جاتی ہے مگر ان اعمال کی اصل قدر و قیمت اس کے دل میں موجود ایمان سے متعین  ہوتی ہے ۔ ایمان دل کا وہ چراغ ہے جو انسان کو حقیقت ِ زندگی سے آشنا کرتا ہے جبکہ عمل صالح اس چراغ کی روشنی کو کردار ، معاملات  اور معاشرت میں نمایا ں کرتا ہے ۔ ایمان اگر دل میں ہو مگر عمل کی صورت میں اس کا اثر دکھائی نہ دے تو اس کی کیفیت کمزور اور دعویٰ بے اثر محسوس ہوتا ہے ۔ 
ایمان سے مراد اللہ تعالی کی ذات و صفات ، اس کی وحدانیت ، فرشتوں ، آسمانی کتابوں ، انبیائے کرام ، یوم آخرت اور تقدیر پر یقین رکھنا  ہے ۔یہ یقین محض زبانی اقرار کا نام نہیں بلکہ دل کی تصدیق ، زبان کے اقرار اور زندگی میں اس کے تقاضوں کو قبول کرنے کا نام ہے ۔
 جب بندہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کا ہر قول و فعل اللہ تعالی کے علم میں ہے اور ایک دن اسے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے تو اس کے رویے  میں ذمہ داری ، احتیاط اور تقویٰ پیداہوتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :  ”ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان  اور بڑھ جاتا ہے اور اپنے رب پر بھروسہ کریں “۔ 
اس آیت مبارکہ میں کامل ایمان والوں کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالی کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل  ڈر جاتے ہیں ۔تفسیر کبیر میں ہے کہ للہ تعالی کا خوف دو طرح کا ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کے عذاب کے ڈر سے گناہوں کو چھوڑ دینا اور اللہ تعالی  کے جاہ و جلال اور اس کی عظمت اور اس کی بے نیازی سے ڈرنا ۔ پہلی قسم کا خوف مسلمانوں میں سے پرہیز گاروں کو ہوتا ہے اور دوسرا خوف انبیاءو مرسلین ، اولیائے کرام اور مقرب فرشتوں کو ہوتا ہے ۔
 ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا میں تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اللہ تعالی کی مغفرت رکھنے والا ہوں ۔( بخاری )۔ کتاب الزھد میں ہے کہ ایک دن سیدنا صدیق اکبرؓ نے درخت پر بیٹھے پرندے کو دیکھ کر فرمایا تیرے لیے کتنی بھلائی ہے تو پھل کھاتا ہے  اور درخت پر بیٹھتا ہے۔ کاش میں بھی ایک پھل ہوتا جسے پرندے کھا لیتے ۔
ایک مرتبہ سیدنا فاروق اعظمؓ نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر فرمایا کاش میں بھی ایک تنکا ہوتا ،کاش میں کچھ بھی نہ ہوتا ، کاش میں پیدا نہ ہوا ہوتا ،  کاش میں بھولا بسرا ہوتا ۔ ( کتاب الزھد )۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ایمان اور عمل صالح (۱)

  ایمان اور عمل صالح (۱) انسان کی ظاہری زندگی اس کے اعمال سے پہچانی جاتی ہے مگر ان اعمال کی اصل قدر و قیمت اس کے دل میں موجود ایمان سے متعین...