تاجدارِ ختم نبوتﷺ (۱)
اللہ تعالی نے کسی بھی آسمانی کتاب کی حفاظت کا ذمہ نہیں لیا اور کوئی بھی آسمانی کتاب اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں ہے ۔لیکن قرآن مجید واحد آسمانی کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالی نے خود لیا ہے ۔یہی وجہ ہے چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج ایک زیر زبر میں بھی ردو بدل نہیں ہوا اور نہ ہی قیامت تک ہو گا ۔
قرآن قیامت تک کے لیے حجت اور برہان ہے اور اللہ تعالی نے قیامت تک کے لیے قرآن مجید کو کسی بھی ردو بدل سے محفوظ فرما دیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت رسالت قیامت تک کے لوگوں کے لیے ہے نا کہ کسی مخصوص طبقے یا دور کے لوگوں کے لیے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ’’بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں ‘‘۔ (سورۃ الحجر )۔ حضرت ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے بہت حسین و جمیل ایک گھر بنایا ۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ، لوگ اس کے گرد گھومتے ہیں اور تعجب سے کہتے ہیں کہ اس میں یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی ۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبین ہو ں ( مسلم )۔
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالی نے میرے لیے تمام روئے زمین کولپیٹ دیا ہے اور میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھ لیا ہے اور فرمایا عنقریب میری امت میں تیس کذاب ہوں گے اوران میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ کہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ( ابوداؤد )۔
حضرت جبیر بن معطم ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے متعدد نام ہیں ۔ میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی ہوں کہ اللہ تعالی نے میرے سبب کفر کو ختم کیا ۔ میں حاشر ہو ں کیونکہ میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو گا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ ( ترمذی)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓسے فرمایا کیا تم مجھ سے اس پر راضی نہیں ہوکہ تمہاری اور میری مثال ایسے ہے جیسے حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کی۔ لیکن فرق یہ ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نبی تھے لیکن میرے بعد کوئی نہیں ۔ (مسلم )۔
عقیدہ ختم نبوت وہ روشن بنیاد ہے جس پر ایمان کی تکمیل ہوتی ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالی کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ کی ذا ت اقدس پر سلسلہ نبوت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے ۔ قرآن و سنت کی یہ قطعی تعلیم ہمیں یہ دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے ایمان کو قرآن مجید کی ہدایت ، عشق مصطفی اور اتباع سنت سے مزین کریں ۔یہی عقیدہ ہماری ایمان کی شناخت بھی ہے اور ہماری عملی زندگی کے لیے روشن رہنما بھی ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں