ہفتہ، 28 فروری، 2026

قرآن مجید ہدایت ، شفاء اور جات کا لازوال سر چشمہ(۲)

 

قرآن مجید ہدایت ، شفاء اور جات کا لازوال سر چشمہ(۲)

 حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے قرآن مجید سے ایک حرف پڑھا اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے میں یہ نہیں کہتا کہ الٓم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے‘‘۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مہارت رکھتا ہے وہ بزرگ نیکو کار کاتبین کے ساتھ ہے اور جو قرآن پڑھتا ہے اور اس میں اٹکتا ہے اور یہ اس پر دشوار ہے اس کے لیے دو اجر ہیں۔ ( بخاری و مسلم شریف )۔
قیامت کے دن قرآن مجید اپنے پڑھنے والوں کی اللہ کے حضور سفارش کرے گا۔ دنیا میں انسان کے بہت سے رشتے ، عہدے اور سہارے ہوتے ہیں مگر بروز قیامت کوئی بھی کام نہیں آئے گا سوائے ایمان ، اعمال صالح کے۔
رحمت دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ اس کتاب کی وجہ سے کئی قوموں کو رفعت بخشے گا اور کئی کو پست کریگا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : قرآن مجید کی تلاوت کرو۔ بیشک یہ قیامت کے دن اپنے ساتھیوں کی شفاعت کرنے والا ہو گا۔ ( مسلم شریف)۔ 
حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’صاحب قرآن سے کہا جائے گا قرآن پڑھتے جائو اور درجات پرچڑھتے جائو اور اس ترتیب سے پڑھو جس طرح دنیا میں پڑھا کرتے تھے ، بیشک تمہارا مقام وہاں ہو گا جہاں پر تمہارا پڑھنا ختم ہو جائے گا ‘‘۔صحابہ کرام ﷺ کا طرہ امتیاز تھا کہ وہ دنیا میں ایسے زندگی بسر کرتے تھے گویا کہ جیتا جاگتا قرآن ہوں وہ قرآنی آیات میں غورو فکر کرتے تھے اور حقیقی معنوں میں اس کی تلاوت کرتے تھے۔اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے تھے ، اور اس ہی کی طرف دعوت دیتے تھے ،عذاب کی آیتوں سے ان کے دل دہل جاتے تھے ، اور رحمت کی آیتوں سے ان کے دل روشن اور معمور ہو جاتے تھے۔ 
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قدم قدم پر قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرتے تھے اس لیے وہ دنیا میں باعزت ہوئے اور دنیا کی سیادت کے حقداربنے۔ بلند درجات پر فائز ہوئے اور دونوں جہانوں کی کامیابیوں سے سر فراز ہو ئے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کوسکھائے‘‘۔
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ جو شخص اس نعمت کی قد ر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ اپنا تعلق مضبوطی کے ساتھ جوڑ لیتا ہے اور اپنی زندگی کو اس کے احکامات کے مطابق ڈھال لیتا ہے وہ دنیا میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے اور آخرت میں بھی سْر خرو ہو گا۔ ہمیں چاہیے ہم قرآن مجید کو اپنے دلوں میں ، اپنے کردار میں اور اپنے معاملات میں جگہ دیں۔ یہی قرآن کا حق ہے اور یہی ہماری نجات کا راستہ ہے۔

جمعہ، 27 فروری، 2026

تلاوت قرآن دلوں کی زندگی اور روح کی غذا(۱)

 

تلاوت قرآن دلوں کی زندگی اور روح کی غذا(۱)

سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کی اندھیری تک اور صبح کا قرآن بیشک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں ‘‘۔ روایات میں ہے کہ صبح سویرے کا وقت ایک خصوصی وقت ہے۔ اس وقت فرشتوں کا زیادہ بڑا اجتماع ہوتا ہے۔ اس طرح فرشتوں کی زیادہ بڑی تعداد نمازی کی قرأت کی گواہ بن جاتی ہے۔ صبح کے وقت فرشتوں کا زیادہ بڑا اجتماع کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ فرشتوں کا خاص کام یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر ربانی کیفیات پیدا کریں۔ صبح کا پر سکون وقت اسی ملکوتی عمل میں خصوصی طور پر مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس مسلمان کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے نارنگی جیسی ہے جس کی مہک بھی اچھی اور ذائقہ بھی اچھا۔ اس مسلمان کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتا کھجور جیسی ہے اس کی مہک تو نہیں ہے مگر ذائقہ شیریں ہے۔ اس منافق کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے پودینہ جیسی ہے اس کی مہک اچھی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتا ہے اس کی مثال تمے جیسی ہے جس کی کوئی مہک نہیں اور ذائقہ نہایت کڑواہے ( بخاری و مسلم شریف )۔
قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے بندہ شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اور گھر کو رحمت الٰہی اور برکت سے بھر دیتا ہے۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا کہ جس گھر میں سورۃ البقرۃ کی تلاوت کی جائے اس گھر میں شیطان داخل نہیں ہوتا۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ حسد نہیں ہے مگر دو آدمیوں کے متعلق۔ایک تو وہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا فرمایا پس وہ اس کے ساتھ رات کے حصوں میں اور دن کی طرفوں میں قیام کرتا ہے اور ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا ہے تو وہ اسے رات دن اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ (بخاری و مسلم)۔
تلاوت قرآن پاک باوضو ہو کر ، ادب و احترام کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر اور حتی الامکان سمجھنے کی کوشش کے ساتھ افضل ہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے : 
’’اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو ‘‘۔ ( سورۃ مزمل )۔
تلاوت قرآن مجید ایک لازوال نعمت ہے جسے نصیب ہو جائے وہ حقیقی معنوں میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یہ دلوں کو زندہ ، روح کو مطمئن ، اور زندگی کو بامقصد بنا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کثرت کے ساتھ تلاوت قرآن پاک کرنے ، اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

جمعرات، 26 فروری، 2026

قرآن ہدایت ، شفاءاور نجات کا لازوال سر چشمہ(1)

 

قرآن ہدایت ، شفاءاور نجات کا لازوال سر چشمہ(1)

قرآن مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے جو اللہ جل شانہ نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے نبی آخرالزماں نبی کریم روف الرحیمﷺ پر نازل فرمائی۔یہ کتاب نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت ، نور اور رحمت کا پیغام ہے بلکہ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسانوں کو زندگی کے ہر موڑ پر درست راستہ دکھاتا ہے۔قرآن مجید مردہ لوگوں کے لیے آب حیات اور پڑ مردہ دلوں کے لیے طمانیت بخش ہے۔یہ دلوں کے لیے شفا ہے۔انسان جتنی مرضی دنیاوی آسائشیں حاصل کر لے اگر اس کا دل بے سکون ہے تو زندگی بوجھ بن جاتی ہے۔قرآن مجید کی تلاوت اس پر غورو فکر اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے دلوں کو سکون اور قرار ملتا ہے۔حسد ، کینہ ، لالچ اور خوف و مایوسی جیسی بیماریوں کا حقیقی علاج قرآن مجید میں موجود ہے۔یہی وجہ ہے جو لوگ قرآن مجید سے جڑ جاتے ہیں ان کے دلوں میں ایک خاص طمانیت پیدا ہوتی ہے جو دنیا کی کسی دولت سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ قرآن مجید لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور صراط مستقیم پر گامزن کرتا ہے۔ جس کا قول قرآن مجید کے مطابق ہے وہ صادق ہے اور جو اس کے احکامات پر عمل پیرا ہوتا ہے وہ کامیاب ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ لوگو ! تمہارے پاس رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفاءہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے۔اے نبیﷺ کہہ دو کہ یہ اللہ کا فضل اور مہربانی ہے کہ یہ خبر اس نے بھیجی۔ اس پر تو لوگوں کو خوش ہونا چاہیے‘‘۔سورۃ اسراءمیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’ یقینا یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے ‘‘۔دنیا میں جب فکری، اخلاقی اور روحانی تاریکیاں چھا جائیں تو قرآن ہی وہ چراغ ہے جو دل و دماغ کو منور کرتا ہے۔ یہ انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ وہ محض ایک جسم نہیں بلکہ ایک ذمہ دار روح ہے جس نے اپنے رب کے حضور جواب دہ ہونا ہے۔قرآن مجید انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلاتا ہے اوراسے مقصد حیات سے آشنا کرتاہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : بیشک جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اس مال سے خرچ کرتے ہیں جو ہم نے ان کو دیا رازداری سے اور اعلانیہ وہ ایسی تجارت کے امید وار ہیں جو ہرگز نقصان والی نہیں۔ (سورۃ فاطر)۔

بدھ، 25 فروری، 2026

سیدہ کائنات فاطمۃ الزہر ا ؓ(2)

 

سیدہ کائنات فاطمۃ الزہر ا ؓ(2)

حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت فاطمہؓ کی خوشی کو اپنی خوشی اور آپ رضی اللہ عنہا کی تکلیف کو اپنی تکلیف قرار دیا ۔ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک فاطمہ میری ٹہنی ہے۔ جس چیز سے اسے خوشی ہوتی ہے اس چیز سے مجھے خوشی ہوتی ہے اور جس چیز سے اسے تکلیف ہوتی ہے اس چیز سے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے ۔ ( مستدرک للحاکم ، مسند احمد )۔
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر ماں کی اولاد کا عصبہ (باپ) ہوتا ہے جس کی طرف وہ منسوب ہوتی ہے سوائے فاطمہ کے بیٹو ں کے کہ میں ہی ان کا ولی اور میں ہی ان کا نسب ہو ۔ (مستدرک للحاکم )۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی فاطمہؓ کے ہاں گئے اور کہا اے فاطمہ خدا کی قسم میں نے آپ ؓ سے بڑھ کر کسی شخص کو نبی کریم ﷺ کے نزدیک محبوب ترین نہیں دیکھا ۔(مستدرک للحاکم )۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے وصال فرمانے سے پہلے آخری دنوں میں حضرت فاطمہ کے کانوں میں کچھ راز کی باتیں کہیں جس کو سن کر آپ رونے لگیں پھر تھوڑی دیر بعد حضرت سیدہ فاطمہ ؓ مسکرا پڑیں،توحضرت فاطمہؓ سے پوچھا گیاکہ آپ کے رونے کی کیا وجہ تھی تو آپ نے فرمایا کہ حضور ﷺ کے وصال کی خبر سن کر رونے لگی اور مسکرانے کی وجہ دریافت کرنے پر سیدہؓ نے فرمایاآقائے کائناتﷺ نے فرمایااے فاطمہ کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمام جنتی عورتوں کی سردار تم ہویا تمام مومن عورتوں کی سردار تم ہو۔ایک روایت میں ہے کہ آپ سے مسکرانے کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا حضور ﷺ نے مجھے خبر دی کہ میں ان کے گھر والوں میں پہلی ہوں گی جو آپ کے پاس پہنچوں گی۔سیدہ فاطمہ ؓ کا گھرانہ دنیاوی لحاظ سے سادہ مگر روحانی اعتبار سے بے حد عظیم تھا ۔آپ ؓ نے اپنی اولاد کی بہترین تربیت فرمائی اور یہی تربیت بعد میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شکل میں امت مسلمہ کے لیے ہدایت کامینار ہے ۔حضرت فاطمہ ؓکی زندگی زہد و تقوی سے بھرپور تھی ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عبادت کا یہ عالم تھا کہ راتوں کو دیر تک عبادت میں مشغول رہتیں اور دن میں بھی گھریلو کام کاج کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ ہوتیں ۔حضور نبی کریم ﷺ نے آپ کو”سیدۃ النساءالعالمین “ کا لقب دیا ۔تین رمضان المبارک کو سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔  آپ ؓ کی حیات مبارکہ ہر دور کی عورتوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

پیر، 23 فروری، 2026

سیدہ کائنات فاطمۃ الزہر ا ؓ(۱)

 

سیدہ کائنات فاطمۃ الزہر ا ؓ(۱)

اتوار، 22 فروری، 2026

فضائل و مناقب سیدہ خدیجۃ الکبرٰیؓ(2)

 

فضائل و مناقب سیدہ خدیجۃ الکبرٰیؓ(2)

ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ کے پاس جبرائیل امین تشریف لائے اورکہا یارسول اللہ ﷺ حضرت سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہاتشریف لا رہی ہیں ان کے ہاتھ میں ایک برتن بھی ہے جس میں شوربہ ، کھانے پینے کی کچھ چیز ہے۔ جب وہ تشریف لائیں تو آپ ﷺ انہیں ان کے پروردگار اور میری طرف سے سلام پیش فرمائیے گا اور ساتھ ہی جنت میں ایک بے جوڑ موتی کے محل کی بشارت بھی سنا دیجئے گا۔ (متفق علیہ )۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی ازواج میں سے کسی پر اتنا رشک نہیں کرتی جتنا رشک حضرت خدیجہؓ پر کرتی ہوں۔ وہ میرے نکاح سے پہلے وفات پا چکی تھیں۔لیکن حضور نبی کریم ﷺ حضرت خدیجہ ؓ کا ذکر کثرت سے فرمایا کرتے تھے۔ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خدیجۃ ؓ کو موتیوں کے محل کی بشارت دیجیے۔اور جب بھی نبی کریمﷺ کوئی بکری ذبح فرماتے تو نبی کریم ﷺ حضرت خدیجہ ؓ کی سہلیوں کو گوشت بھیجتے۔( متفق علیہ )۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :اپنے زمانے کی سب سے بہترین عورت مریم ہیں اور اسی طرح اپنے زمانے کی سب سے بہتر عورت خدیجہؓ ہیں۔ (متفق علیہ ) 
حضرت خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ جب تک آپ زندہ تھیں نبی کریم ﷺ نے دوسرا نکاح نہیں فرمایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت خدیجہ  کی موجودگی میں دوسری شادی نہیں فرمائی یہاں تک کہ حضرت خدیجہ ؓکا انتقال ہو گیا۔ ( مسلم شریف )۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے زمین پر چار خطوط کھینچے اور پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے ؟
صحابہ کرام رضو ان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی یارسو ل اللہ ﷺ اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ جنت کی بہترین عورتیں ہیں جو کہ حضرت خدیجۃ ؓبنت خویلد ، حضرت فاطمہ بنت محمدﷺ ، فرعون کی بیوی آسیہ اور حضرت مریم بنت عمران۔ ( مسند احمد)
حضرت خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہا چوبیس یا پچیس سال حضور نبی کریم ﷺ کی رفاقت میں رہیں۔ ہجرت سے تین سال قبل پینسٹھ سال کی عمر میں دس رمضان المبارک کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ہو گیا۔ آپ کے وصال پر آپﷺکو بہت زیادہ رنج پہنچا۔ 
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی زندگی ہمیں وفاداری ، قربانی ، محبت ، ایثار اور ایمان کی راہ میں استقامت کا درس دیتی ہے۔ آپ کا کردار قیامت تک خواتین کے لیے ایک عظیم مثال رہے گا۔ اللہ جل شانہ ہمیں سیدہ خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

جمعہ، 20 فروری، 2026

رمضان المبارک کے مسائل(1)

 

رمضان المبارک کے مسائل(1)

روزہ ارکان اسلام میں سے تیسرا اہم رکن ہے جس کی  فرضیت کا حکم قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔ ابتدائی تاریخ سے لیکر اب تک کوئی شریعت ایسی نہیں جس میں روزے فرض نہ کیے گئے ہوں۔ مسلمانوں پر ہجرت نبوی ﷺ کے دوسال بعد دو ہجری کو روزے فرض کیے گئے۔ حدیث قدسی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فرض ہے پاگل اور نابالغ بچے کو اس عبادت سے استثناء حاصل ہے۔ مگر ایسے بچے جو بالغ ہونے کے قریب ہیں ان کو نماز کی طرح روزے کی بھی عادت ڈلوانی چاہیے۔ صوم کے اصل معنی رکنے کے ہیں یعنی شریعت کی اصطلاح میں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور شہوات سے بچے رہنا روزہ کہلاتا ہے۔ مسافر شرعی اور وہ مریض جس کے روزہ رکھنے سے مرض بڑھ سکتا ہے ، صحت مند ہونے میں دیر لگ جائے ، حاملہ اوردودھ پلانے والی عورتیں جن کو اپنا یا بچے کا اندیشہ ہو ان کے لیے جائز ہے کہ وہ روزے چھوڑ سکتے ہیں اور عذر ٹھیک ہونے پر ان کی قضا لازم ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ کسی مستند ڈاکٹر اور عالم سے مشورہ کر لیا جائے۔ روزہ کی حالت میں اگر قصداً ایسی کوئی چیز کھا لی یا پی لی جو بطور غذا یا دوا کے لیے استعمال ہوتی ہے یا صحبت کر لی تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی قضا اور کفارہ دونوں ضروری ہیں۔ روزے کا کفارہ لگاتار ساٹھ روزے رکھنا ہے اور اگر درمیان میں کوئی ناغہ ہو گیا تو اس کی ابتدا دوبارہ نئے سرے کی جائے گی۔ ایام حیض میں ناغہ تواتر کے خلاف نہیں لیکن اس سے وہ تواتر باقی نہیں رہتا۔ اگر ساٹھ روزے لگاتار رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دووقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے یا نقد ہر مسکین کو بقدر صدقہ فطر دیدے۔اگر ایسی کوئی چیز کھالی ہو جو بطور غذایا دو ا استعمال نہیں کی جاتی تو روزہ کی صرف قضا ضروری ہے کفارہ نہیں۔ ناک یا کان میں دوا ڈالنا ، منہ بھر کے جان بوجھ کے قے کرنا یا ایسی کوئی بھی چیز جس سے دھواں حلق میں چلا جائے تو ایسی صورت میں روزہ فاسد ہو جائے گا اور قضا لازم ہو گی کفارہ واجب نہیں۔ ٹوتھ پیسٹ ، ٹوتھ پائوڈر کا استعمال کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ مسواک کرنا،تیل لگانا ، سرمہ لگانا ، مہندی لگانا عطر سونگھنا یا بھول کر کچھ کھا پی لینا ، خود سے قے آ جانا یا گرد غبار منہ میں چلے جانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

جمعرات، 19 فروری، 2026

استقبال رمضان(2)

 

استقبال رمضان(2)

جیسے گھر میں مہمان کے آنے سے قبل گھر کی صفائی ستھرائی کی جاتی ہے اسی طرح ہمیں اپنے معمولات زندگی کو بھی ماہ رمضان سے قبل درست کرنا ضروری ہے۔ فضول مصروفیات ، لغویات ، فضول گفتگو ، جھوٹ اور گناہوں سے دوری اختیار کی جائے اور آئندہ زندگی میں بھی ان باتوں سے بچنے کا عہد کرنا چاہیے۔ 
نبی کریم رئوف الرحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص روزہ رکھے اور جھوٹ بولے اور بْرے کام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔ماہ مقدس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مناجات پیش کریں اور اپنے گناہوں سے معافی مانگیں اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا عہد کریں۔ ابھی سے ہی قرآن مجید کی تلاوت کا معمول بنائیں اور کو شش کریں کہ ما ہ رمضان میں قرآن مجید کو بمع ترجمہ و تفسیر پڑھیں۔ ماہ رمضان کی آمد سے قبل ہی خود کو نوافل اور ذکر و اذکار کا عادی بنائیں تا کہ ہم ماہ مقدس میں مزید فرائض کے ساتھ ساتھ نفلی عبادت اور ذکر و اذکار میں مشغول ہو سکیں۔ ماہ مقدس کی آمد سے پہلے مناسب غذا کا استعمال کریں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں تا کہ ہم رمضان سے قبل یا ماہ مقدس میں بیمار نہ ہوں۔ اس بات کی نیت کریں کہ رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قیام اللیل کریں گے ، دل کھول کر صدقہ و خیرات کریں گے اور اگر اللہ تعالیٰ نے ہمت و توفیق دی تو ان شاء اللہ اعتکاف بھی بیٹھیں گے۔ اور ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کریں گے۔ اگر ہم آج ہی ان نیک اعمال کی نیت کر لیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ثواب ملے گا۔اس ماہ مقدس میں نوافل ادا کرنے کا ثواب فرضوں کے برابر ہے اور ایک فرض ادا کرنے کا ثواب ستر فرائض کے برابر ملتا ہے۔یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں اللہ اپنے بندوں کے رزق میں اضافہ کر دیتا ہے۔ماہ رمضان محض بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں بلکہ تبدیلی کا موقع ہے۔رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے جو ہمیں اپنی زندگیوں کو سنوارنے اور آخرت کی تیاری کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اس ماہ مقدس کا جتنا ہو سکے ادب و احترام کریں اور اس کی با برکت ساعتوں سے بھرپور مستفید ہوں۔ اللہ پاک ہمیں ماہ مقدس کی برکتوں کو سمیٹنے کی تو فیق عطا فرمائے۔ آمین۔

بدھ، 18 فروری، 2026

استقبال رمضان(۱)

 

استقبال رمضان(۱)

روزہ عبادت ، صبر کا پیغام ہے
یہ ماہ رمضان رب کا انعام ہے
رمضان المبارک اسلامی سال کا وہ با برکت مہینہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں ، برکتوں اور انعامات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے امت مسلمہ پر سایہ فگن ہوتا ہے۔ یہ مہینہ محض دن کے وقت بھوکا پیا سا رہنے کا نام نہیں بلکہ ایمان کی تجدید ، اخلاق کی اصلاح ، قلبی تطہیر اور روحانی بلندی حاصل کرنے کا سنہری موقع ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تا کہ تم متقی بن جائو۔ (البقرہ)۔
ماہ رمضان کا اصل مقصد تقویٰ کا حصول ہے کیونکہ متقی اور پرہیز گار شخص ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ رمضان کی آمد سے قبل صحابہ کرام کو جمع فرماتے اور انہیں خطبہ ارشاد فرماتے اے میرے صحابہ تم پر ایک عظمت والا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے اس میں ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ 
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑدیا جاتا ہے۔ (بخاری )۔
ماہ رمضان المبارک کی با برکت ساعتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کی آمد سے پہلے ہی ماہ مقدس کا استقبال کرنے کی تیاری کریں اور خود کو جسمانی ، ذہنی اور روحانی لحاظ سے تیار رکھیں۔ کسی بھی نیک کام کو کرنے کے لیے اخلاص کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جو عمل بغیر اخلاص
 کے کیاجائے اس کا کوئی اجر و ثواب نہیں ملتا لہٰذا ہم رمضان کی آمد سے قبل ہی یہ نیت کریں کہ ہم خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے روزے رکھیں گے اور اس کی خوب عبادت کریں گے۔اس نیت سے روزہ رکھنا کہ لوگ مجھے روزہ دار کہیں ، نماز اس نیت سے پڑھنا کہ لوگ مجھے نمازی کہیں، ایسی نمازوں اور روزوں کا اللہ کے نزدیک کوئی اجر و ثواب نہیں۔ 
ماہ رمضان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے نفس کا محاسبہ کریں۔ فرائض سے کوتاہی ، دل میں بغض ، حسد و کینہ موجود ہو تو سارا دن بھوکا پیاسا رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی لیے ماہ رمضان سے قبل اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کریں اور حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو بھی ادا کریں تا کہ ماہ رمضان میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو سمیٹ سکیں۔

منگل، 17 فروری، 2026

توبہ کی فضیلت (۲)

 

توبہ کی فضیلت (۲)

توبہ و استغفار ہر پریشانی اور دکھ کا علاج ہے ۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص استغفار کو لازم کر لے اللہ تعالی اسے ہر تنگی سےفراخی عطا فرما تاہے اور ہرقسم کے غم سے نجات عطا فرما تاہے۔ ایسے ذریعے سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہو گا ۔ ( ابو دائود)۔
حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالی کے محبوب اور سردار کونین ہیں لیکن آپ ﷺ نے خود کو بھی توبہ مانگنے کے عمل سے مستثنی نہیں رکھا ۔
 حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے کہ حضور نبی ریم ﷺ نے فرمایا : توبہ کیا کرو میں ہر روز سو بار توبہ کرتا ہوں ۔(نسائی )۔
ام المئومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا روایت کرتی ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کوئی بند ہ ایسا نہیں جو گناہ کے بعد نادم نہ ہو مگر یہ کہ اللہ تعالی اسے مغفرت طلب کرنے سے پہلے ہی بخش دیتا ہے ۔  آپ ﷺ نے فرمایا : پیر اور جمعرات کے روز انسان کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ۔ جس نے توبہ کی ہو اس کی توبہ قبول کر لی جاتی ہے ۔ جس نے مغفرت طلب کی ہو اسے معاف کر دیا جاتا ہے جس کے دل میں کینہ ہو اسے ویسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ ایک بندے نے گناہ کیا اور کہا  یا اللہ میرا گناہ بخش دے ۔ اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا وہ جانتا ہے کہ اس کاایک مالک ہے جو گناہ بخشتا اور گناہ پر مواخذہ کرتا ہے ۔ 
پھر اس نے گناہ کیا اور کہایا اللہ میرا گناہ بخش دے، اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا وہ جانتا ہے کہ اس کاایک مالک ہے جو گناہ بخشتا اور گناہ پر مواخذہ کرتاہے۔ ۔ پھر اس نے گناہ کیا اور کہایا اللہ میرا گناہ بخش دے ۔ اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا وہ جانتا ہے کہ اس کاایک مالک ہے جو گناہ بخشتا اور گناہ پر مواخذہ کرتاہے۔ اللہ فرماتا ہے اے بندے اب تو جو چاہے عمل کرے میں نے تجھے بخش دیا ۔ ( متفق علیہ )۔
اگر گناہوں کا تعلق حقوق العباد سے ہو تو صرف اللہ تعالی کے حضور معافی طلب کرنا کافی نہیں بلکہ حقدار کا حق پہنچانا اور اس سے معافی طلب کرنا بھی ضروری ہے ۔ اور یہی سچی توبہ کی علامت ہے ۔جب انسان سچے دل سے اللہ تعالی کے حضور توبہ کرتا ہے تو پھر اسے گناہوں سے نفرت ہو جاتی ہے اور وہ نیکیوں کی طرف راغب ہو جاتاہے ۔

پیر، 16 فروری، 2026

توبہ کی فضیلت (۱)

 

توبہ کی فضیلت (۱)

توبہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں لوٹنا یا واپس آنا  ۔ شریعت کی اصطلاح میں توبہ سے مراد یہ ہے کہ بندہ گناہ چھوڑ کر اللہ تعالی کی طرف رجوع کرے ،اللہ تعالی کے غضب کے ڈر سے اس کی طرف رجوع کرے اور یہ عہد کرے کہ آئندہ کبھی  گناہ کے راستے پر نہیں چلو ں گا ۔ اسلام میں توبہ کی بہت زیادہ اہمیت ہے اللہ تعالی کو توبہ کرنے والا شخص بہت محبوب ہوتا ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’ اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ‘‘۔ ( سورۃ النور )۔
توبہ کی توفیق مل جانا اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے جو بندے کو گناہوں سے نکال کر رب کی رحمت کے نور کی طرف لے آتی ہے اور توبہ کرنے والوں سے اللہ تعالی بھی بہت زیادہ خوش ہوتا ہے ۔اللہ تعالی اپنی مخلوق سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے اس سے دور ہو جائیں اور جہنم کا ایندھن بنیں ۔اسی لیے اللہ تعالی بُرے انجام سے بچانے کے لیے اپنی مغفرت کو عام کرتے ہوئے بخشش کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے : مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی بُرائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ ( سورۃ الفرقان )۔
سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند کرتاہے ستھروں کو ۔توبہ ہر شخص پر ہر حال میں اور ہر وقت واجب ہے لیکن جوانی کی توبہ افضل ہے ۔اللہ تعالی کو نوجوان کی توبہ بہت زیادہ پسند ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی کو جوان توبہ کرنے والے بہت زیادہ محبوب ہیں ۔
 سورۃ التحریم میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’ اے ایمان والو اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہو جائے ‘‘ ۔ ( آیت نمبر : ۸)۔یعنی توبہ ایسی کی جائے کہ پھر کبھی گناہوں کی طرف پلٹ کر نہ جائیں ۔ 
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انسان صرف اسی صورت میں سچی توبہ کے لیے اللہ تعالی کی طرف رجوع کر سکتا ہے جب وہ سچے دل اور خلوص نیت کے ساتھ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو۔
 سچی توبہ یہ ہے کہ انسان دل سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں آنسو بہائے اور معافی طلب کرے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا توبہ ندامت ہی کا نام ہے ۔

اتوار، 15 فروری، 2026

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت

 

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت

اسلام ایک جامع دین ہے جو انسان کی انفرادی ، اجتماعی ، معاشی اور روحانی زندگی کی ہر پہلو سے رہنمائی کرتا ہے۔دین اسلام کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی عدل ، معاشی توازن اور انسانی ہمدردی کو بھی بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ زکوۃ اسلام کا ایک نہایت اہم رکن ہے جو فرد کے مال کو پاک کرنے ، دل کو بخل سے آزاد کرنے اور معاشرے کو فقر و افلاس سے بچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ قرآن و حدیث میں زکوۃ کی جو اہمیت و فضیلت بیان کی گئی ہے وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام میں دولت محض ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ایک امانت ہے۔زکوۃ ادا کرنے والوں پر رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے تو عنقریب میں نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ ( سورۃ الاعراف)۔
سورۃ المومنون میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑ گڑاتے ہیں اور جوکسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے اور وہ کہ زکوۃ دینے کا کام کرتے ہیں۔ 
زکوٰۃ کی فرضیت :ارشاد باری تعالیٰ ہے : بیشک اللہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک ضرور اللہ قدرت والا غالب ہے۔ وہ لوگ کہ ہم اگر انہیں زمین میں قابو دیں تو نماز قائم رکھیں اور زکوۃ دیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور اللہ ہی کے لیے سب کاموں کا انجام ہے۔ ( سورۃ الحج )۔
 زکوٰۃ کا تصور نہ صرف دین اسلام میں موجود ہے بلکہ پہلی شریعتوں میں بھی زکوۃ فرض تھی۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے حوالے سے ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اوراس (اللہ ) نے مجھے پوری زندگی نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے کا تا کیدی حکم فرمایا ہے ‘‘۔( سوۃ مریم)۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :’’اور وہ اپنے گھر والو ں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے ‘‘۔(سورۃ مریم ) 
سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ‘‘۔ اسی طرح سورۃ المنافقو ن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے زکوٰۃ دو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے ‘‘۔

ہفتہ، 14 فروری، 2026

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۳)

 

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۳)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ مال قیامت کے دن گنجا سانپ بنا دیا جائے گا ، اس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے ، اس سانپ کو اس کے گلے میں طوق بنادیا جائے گا پھر وہ اس شخص کو اپنے جبڑو ں سے پکڑے گا پھر کہے گا میں تیرا مال ہو ں ، میں تیرا خزانہ ہوں۔اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی۔
ترجمہ : اور جو لوگ اس چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں عطا کی ہے ( یعنی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ) وہ ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ وہ ان کے حق میں بہتر ہے بلکہ وہ ان کے حق میں بہت برا ہے ، عنقریب وہ مال جس میں انہوں نے بخل کیا قیامت کے دن انہیں اس کا طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ ( بخاری )۔
جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے نبی کریم ﷺ نے ان پر لعنت فرمائی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے سود کھانے والے ،سود کھلانے والے ، سود لکھنے والے اور صدقہ روکنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ ( سنن نسائی )۔
جو قوم زکوٰۃ ادا نہیں کرتی اللہ تعالیٰ اسے قحط سالی اور فاقہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو قوم بھی زکوٰۃ ادا کرنے سے رکی ہے اسے اللہ تعالیٰ نے قحط سالی میں مبتلا کیا ہے۔ ( معجم الاوسط )۔
قیامت کے دن فقرا اغنیا ء کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے اے اللہ انہوں نے ہمارے حقوق غصب کر کے ہم پر ظلم کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم آج میں تمہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دوں گا اور انہیں دور کر دو ں گا۔ (معجم الاوسط)۔
زکوۃ ادا کرتے وقت چند آداب کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ زکوۃ ادا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کو مدنظر رکھنا چاہیے نہ کہ لوگوں کوخوش کرنے کو، زکوۃ دیتے وقت ریاکاری سے بچنا چاہیے کیونکہ ریاکاری والا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ، زکوۃ ہمیشہ حلال مال سے دی جانی چاہیے حرام مال کی زکوۃ اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرمائے گا۔آج کے دور میں جب مادہ پرستی نے انسان کو خود غرض بنا دیا ہے زکوۃ ہمیں ایثار ، ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کا سبق دیتی ہے۔ اگر مسلمان زکوۃ کے نظام کو صحیح معنوں میں نافذ کر لیں تو غربت ، بے روزگاری اور ناانصافی جیسے مسائل ختم ہو جائیں گے۔

جمعہ، 13 فروری، 2026

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۲)

 

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۲)

جمعرات، 12 فروری، 2026

علم کی قدرو منزلت

 

علم کی قدرو منزلت

ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہیں علم دیا ہے اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے پوری طرح واقف ہے۔ ( سورۃ المجادلہ )۔
اگر کوئی طالب علم راہ علم میں آنے والی سختیوں سے گھبرا جائے تو اس بات کو اپنے ذہن میں رکھے کہ بارگاہ الٰہی میں علم کی کیا قدر ہے۔ جب طالب علم کو علم کی قدر کا پتہ چلے گا تو وہ اس بات کو سمجھ جائے گا کہ وہ کتنی مقدس راہ پر چل رہا ہے تو یہ ہی بات اس کی مشکلات کو آسان کر دے گی۔یہ بات حقیقت ہے کہ افضل علم دین کا علم ہے لیکن اسلامی نقطہ نظر سے دین اور دنیا کی کوئی تقسیم نہیں۔ مطلب یہ کہ اگر دنیا کا کوئی بھی کام اللہ تعالیٰ اور حضور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کیا جائے تو وہ بھی دین بن جاتا ہے۔جو بھی علم مخلوق خدا کی خدمت اور معرفت الٰہی کے لیے حاصل کیا جائے علم کے شرف و منزلت میں وہ علم بھی شامل ہو گا۔
 حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو طلب علم کی راہ پر نکلا وہ واپس لوٹنے تک راہ خدا میں ہے۔ ( ترمذی )۔
حضور نبی کریم ﷺ ارشاد فرمایا کہ علم حاصل کرنا اللہ تعالیٰ کو اتنا محبوب عمل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے صدقے میں اس کی پچھلی غلطیاں معاف فرما دیتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو انسان حصول علم کے لیے نکلتا ہے اس کا یہ عمل اس کے گزشتہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ (سنن دارمی )۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی نازل فرمائی کہ :جو شخص حصول علم میں کسی راستے پر چلے گا میں اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دوں گا۔ اور میں جس کی دونوں آنکھیں لے لو ں (اور اگر وہ صبر کرے ) تو میں ان دونوں آنکھوں کے بدلہ میں جنت عطا کرو ں گا اور علم میں زیادتی عبادت میں زیادتی سے بہتر ہے اور دینی استحکام کا سبب تقوی ہے۔ ( کنزالعمال )۔
حضرت صفوان بن عسال فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا میں علم کی تلاش میں آیا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا علم کے متلاشی خوش آمدید ! بیشک طالب علم کی یہ شان ہے کہ فر شتے اسے اپنے پروں میں ڈھانپ لیتے ہیں پھر وہ ایک دوسرے کے اوپر کھڑے ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ یہ سب کچھ اس محبت کی وجہ سے کرتے ہیں جو انہیں ایک طالب علم کے ساتھ ہوتی ہے۔( المعجم الکبیر للطبرانی )۔

منگل، 10 فروری، 2026

علم کی بے قدری خدا کی گرفت

 

علم کی بے قدری خدا کی گرفت

حضور نبی کریمﷺ نے متعدد مواقع پر یہ بات واضح فرمائی کہ علم کی بے قدری کرنے والااور اس کے تقاضوں سے انحراف کرنے والا بہت سی مصیبتو ں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔رسول کریم ﷺنے فرمایا علم کی قدر کرنے والا انسانوں میں سب سے اشرف انسان ہے اور علم کی بے قدری کرنیوالا عالم ہونے کے باوجود سب سے گھٹیا انسان بن جاتا ہے۔ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے شر کے بارے میں پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا : 
مجھ سے شر کے متعلق نہ پوچھو بلکہ خیر کے بارے میں پوچھو یہ بات آپ نے تین مرتبہ دہرائی پھر آپ نے فرمایا : خبر دار ! سب بروں سے برے علما ہیں اور سب اچھوں سے اچھے بھی علما ہیں۔( سنن دارمی)۔ یعنی کہ علم کی قدر کر کے اسے خیر بنانے والے علما سب لوگوں سے اچھے ہیں اور علم کو فساد کا سبب بنانے والے علما برے ہیں۔ 
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جب اسلام صرف برائے نام باقی رہ جائے گا اور قرآن مجید کا صرف خوبصورتی سے پڑھناباقی رہ جائے گا۔ ان کی مساجد بظاہر آباد نظر آئیں گی اور وہ ہدایت سے محروم ہوں گی۔ ان کے علما آسمان کے نیچے بد ترین لوگ ہوں گے۔ انہی کے اندر سے فتنہ اٹھے گا اور انہی میں لوٹ جائے گا۔(شعب الایمان اللبہیقی)۔
جو لوگ علم کی نعمت سے محروم ہیں لیکن تکلف اور تصنع کر کے علم و حکمت کی مسندوں پر فائض ہو جاتے ہیں وہ خود بھی گمراہ ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا علم اس طرح ختم نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے سینوں سے علم اٹھا لے گا۔ پھر فرمایا : لیکن اللہ تعالیٰ علما کو اٹھا نے سے علم کو اٹھا لے گا جب اللہ تعالیٰ کسی عالم کو باقی نہیں چھوڑے گا تو پھر لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے اور ان سے مسائل پوچھیں گے۔ وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ ( ابن ماجہ )۔
 رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجو عالم حق بات کو چھپائے گا وہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہو گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، رسول خداﷺ نے فرمایا : جس سے کوئی علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپا لیا تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا۔ ( ابن ماجہ)۔
 حضور نبی مکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں سب سے برا انسان وہ عالم ہو گا جو اپنے علم سے نفع نہیں اٹھاتا۔ (شرح السنۃ الغوی )۔

پیر، 9 فروری، 2026

حضور نبی کریم ؐ کا حسن ِ معاشرت

 

حضور نبی کریم ؐ کا حسن ِ معاشرت

حضور نبی کریمؐ کا حسن معاشرت کی بھی کوئی نظیر نہیں آپؐ کا حسن معاشرت بھی تمام دنیا سے اعلیٰ تھا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپؐ سب لوگوں سے بڑھ کر وسیع القلب ، گفتگو میں سچے ، نرم طبیعت والے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دس سال تک حضور نبی کریمؐ کی خدمت کرتا رہا ہوں۔ حضور نبی کریمؐ نے ان دس سال میں مجھے کبھی بھی نہ جھڑکا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تو نے فلاں کام کیوں کیا ہے اور فلاں کیوں نہیں۔ 
حضور رحمت عالمﷺ کسی سے بھی نفرت نہیں کرتے تھے۔ ہر قوم کے افراد کا اکرام کرتے اور ایسے ہی افراد کو ان کے اوپر حاکم مقرر کرتے۔ لوگوں کو خوف خدا سے ڈراتے ، عام لوگوں کی صحبت میں نہ بیٹھا کرتے لیکن کسی کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش نہیں آتے تھے۔ اپنے اصحاب کے گھر تشریف لے جاتے اور محفل میں شامل ہونے والوںکو ان کی شان کے مطابق نوازتے۔ لوگوں کے ساتھ ایسا رویہ رکھتے کہ ہر ایک کو لگتا کہ حضور نبی کریمﷺ میری ہی طرف نظر کرم فرما رہے ہیں۔ جب کسی کو اپنے ساتھ بٹھاتے یا پھر کوئی آپؐ کے پاس مسئلہ لے کر آتا آپؐ ا س وقت تک بیٹھے رہتے جب تک وہ شخص خود اجازت لے کر نہ چلا جاتا۔ اگر کوئی شخص حاجت لے کر آتا تو کسی کو بھی خالی ہاتھ نہ بھیجا کرتے تھے۔
حضرت ابن ابی ہالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم ﷺ ہمیشہ پھول کی طرح کھلے رہتے۔آپؐ کا لہجہ نرم اور خوش اخلاق تھا۔ بد اخلاقی ، سنگدلی، بازاروں میں بلند آواز نہیں کرنا ، گالی گلوچ ، دوسروں میں عیب تلاش کرنا عرب کے لوگوں میں عام تھا لیکن آپؐ تاحیات ان تمام چیزوں سے پاک رہے۔ جس چیز کی ضرورت نہ ہوتی اس کی طرف نہ دیکھتے۔ کوئی بھی سائل آپؐ کے پاس آتا تو آپؐ اسے خالی واپس نہ لوٹاتے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’ تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے ‘۔(سورۃ آل عمران )
 اگر کوئی آپؐ کی دعوت کرتا تو قبول فرماتے اور اگر کوئی معمولی سابھی ھدیہ پیش کرتاتو قبول فرماتے اور اس کو اس کے بدلے ہدیہ سے نوازتے۔ حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضور نبی کریمؐ سے بڑھ کر تبسم کا خو گر کسی کو نہیں دیکھا۔ جب کسی کو کسی پریشانی میں مبتلا پاتے تو فوراً اس کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کرتے۔ آپؐ ہر کسی پر نہایت درجہ مہربان تھے۔

اتوار، 8 فروری، 2026

اصلاح معاشرہ اور ہمارا کردار

 

اصلاح معاشرہ اور ہمارا کردار

ہفتہ، 7 فروری، 2026

علم اور عالم کی فضیلت

 

علم اور عالم کی فضیلت

ارشاد باری تعالیٰ ہے (’’اے محبوب ﷺ) تم فرمائو کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان ‘‘۔ ( سورۃ الزمر )۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتاہے۔ حضور نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا علم سعادت مندوں کو نصیب ہوتا ہے اور بد بخت اس نعمت سے محروم رہتے ہیں۔ حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا : جس شخص کو موت آئے اور وہ اسلام کو زندہ کرنے کے لیے علم سیکھتا ہو تو جنت میں اس کے اور انبیاء کے درمیان ایک درجہ ہو گا۔ ( مشکوۃ المصابیح )۔
حضرت علی ؓ کا قول ہے آپ فرماتے ہیں علم مال سے بہتر ہے ، علم تیری حفاظت کرتا ہے اور تو مال کی حفاظت کرتا ہے ،علم حاکم ہے اور مال محکوم علیہ ، مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے اور علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔ ( علم کی حقیقت )۔
حضرت ابو اسود ؓ فرماتے ہیں علم سے بڑھ کر کوئی چیزعزت والی نہیں کیونکہ بادشاہ لوگوں پر حاکم ہوتے ہیں اور علماء بادشاہوں پر حاکم ہوتے ہیں۔ (علم کی حقیقت ) 
حضرت زبیر بن ابی بکر ؓ فرماتے ہیں میرے والد نے مجھے خط لکھا اور کہا کہ علم حاصل کرو اس لیے کہ اگر مفلس ہوجائے تو یہ تیرا مال ہوگا اور اگر غنی ہو جائے گا تو یہ تیری زینت ہوگا۔ ( احیا ء العلوم )۔ 
سورۃ المجادلہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جس کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا ‘‘سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ سب سے زیادہ بخشش کرنے والا کون ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولﷺ بہتر جانتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ جودو عطا کرنے والا ہے ، پھر تمام بنی آدم سے زیادہ میں جودو عطا کرنے والا ہوں اور میرے بعد بنی آدم میں سب سے زیادہ جودو سخا کرنے والا وہ آدمی ہے جس نے علم حاصل کیا اور پھر اس کو پھیلایا۔
قیامت کے دن وہ اکیلا امیر بن کر آئے گا وہ اکیلا ہی امت بن کر آئے گا۔ ( مشکوۃالمصابیح )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اگر تیری وجہ سے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو ہدایت دے دے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔(ابودائود)۔
حضرت ابو امامہؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلی سمندر میں سب رحمت بھیجتے ہیں اس پر جو لوگوں کو خیر سکھاتا ہے۔ ( ترمذی )۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں خیر کا بتانے والا خیر کرنے والے کی مثل ہے۔ ( ترمذی )۔

جمعہ، 6 فروری، 2026

دین فطرت(۲)

 

دین فطرت(۲)

دین اسلام میں ہمارے لیے مکمل ضابطہ حیات موجود ہے۔ مسائل معاشی ہوں یا پھر معاشرتی دین اسلام سے ہمیں ہر طرح کی رہنمائی ملتی ہے۔ 
حقوق العباد: بندوں کے حقوق یعنی وہ حقوق جو انسانوں کے انسانوں پر ہوتے ہیں حقوق العباد کہلاتے ہیں۔قرآن و حدیث میں ان حقوق کی ادائیگی پربہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺکی سیرت طیبہ میں حقوق العباد کی ادائیگی کی اہمیت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے۔ ان میں شوہر،بیوی ، بچوں ، والدین ، عزیزواقارب، استاد ، شاگرد ، ملازم اور پڑوسیوں کے حقوق شامل ہیں۔ اسلام ہی نے خواتین کو ان کے جائز حقوق دے کرمعاشرے میں احترام کا مقام دیا۔ حالت جنگ میں بوڑھوں ، بچوں ، عورتوں اور بیمار وں کو قتل کرنے سے سختی سےمنع کیا گیا۔ 
غلامی کا خاتمہ : ظہور اسلام سے پہلے غلامی کا دور چلا آ رہا تھا۔ غلاموں پر بہت زیادہ ظلم و ستم کیے جاتے تھے۔ان سے ان کی طاقت سے بڑ ھ کام لیا جاتا تھا۔ اسلام نے غلاموں کو بھی مساوی حقو ق دیے۔ انسان کو انسان کی غلامی سے نجات دلائی۔اسلام میں آقا اور غلام میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو خود کھاتے ہو غلاموں کو بھی کھلائو اور جو خود پہنتے ہو غلاموں کو بھی پہنائو۔ قرآن میں ظہار اور کفارہ میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔
زکوٰۃ کا نظام : بڑے بڑے ماہرین اقتصادیات اسلامی نظامی زکوۃ کو دنیا کا بہترین نظام مالیات مانتے ہیں۔ سال بھر جمع شدہ رقم پر اس کا اڑھائی فیصد بطور زکوۃ ادا کرنا فرض ہے۔ اگر آج بھی دیانتداری کے ساتھ صاحب نصاب زکوۃ ادا کرنا شروع کر دیں تو کوئی غریب نظر نہیں آئے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کے دور خلافت میں کوئی بھی زکوۃ لینے والا نہیں رہ گیا تھا زکوۃ کی صحیح تقسیم کی وجہ سے سب صاحب نصاب ہو گئے تھے۔ 
عدل و انصاف : اسلام میں عد ل وانصاف کا نظام تمام دنیا اور ہر زمانے کے لیے قابل تقلید ہے۔ قرآن مجید میں بہت سارے مقامات پر عدل و انصاف کرنے کی بڑی سخت تاکید فرمائی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 
’’اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری کروہم کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کے مقدور بھر۔ اور جب بات کرو تو انصاف کی کرو اگرچہ تمہارے رشتہ دار کا معاملہ ہو۔ ( سورۃ الانعام )۔ 
زندگی کے ہر شعبے میں عدل و انصاف کرنے کا حکم ہے خواہ خود ہمارے خلاف ہو ، ہمارے والدین یا اولاد کے خلاف ہو مگر فیصلہ حق پر ہی ہونا چاہیے۔ اگر معاشرے میں عدل و انصاف ہو گا تو اس کی برکت سے ایسا معاشرہ تشکیل پائے گا جس میں سب امن و امان کے ساتھ رہ سکیں گے۔

لیلۃ القدر (2)

  لیلۃ القدر (2) نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اس رات یعنی شب قدر کو ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کیا اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیے ج...