زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۲)
قرآن مجید میں زکوٰۃ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا ذکر دیگر عبادات کے ساتھ بھی کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’تمہارے دوست اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے کہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں ‘‘۔(سوۃالمائدہ )۔
اور جو لوگ زکوٰۃادا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔سورۃ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور جو بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے پاس پائو گے۔ بیشک اللہ تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے ‘‘۔
سورۃ فاطر میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’ بیشک جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیاہے اس میں سے چھپ کر اور کھلم کھلا خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی نقصان نہیں دے گی ‘‘۔
سورۃ المومنون میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’بیشک وہ مومن کامیاب ہو گئے جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں ، جو لغو باتوں سے دور رہتے ہیں اور جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ‘‘۔
جولوگ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے مال میں برکت عطا فرماتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جو تم خیرات دواللہ کی رضا چاہتے ہوئے تو اس کا دوگنا اجر پاؤ گے ‘‘۔ ( سورۃ الروم )۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی کریم ﷺ نے جب یمن بھیجا تو فرمایا انہیں بتائو کہ اللہ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے غریبو ں میں تقسیم کی جائے گی۔
زکوٰۃ نہ دینے والوں کے لیے وعید : جو لوگ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور اسے جمع کر کے رکھتے ہیں ان کے لیے قرآن و حدیث میں سخت وعید ہے۔ سورۃ التوبہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’اور وہ لوگ جو سونے اور چاندی کو جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی بد خبری سنا دو۔ جس دن وہ (مال ) جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا ، پھر اس سے ان کی پیشانیوں ، پہلوئوں اورپیٹھوں کو داغا جائے گا (اور ان سے کہا جائے گا ) یہ وہ مال ہے جسے تم نے اپنے لیے جمع کیے رکھا سو اب اپنے اس مال کا مزا چھکو ، جسے (بڑی چاہت سے) جمع کر کے رکھتے تھے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ قیامت کے دن زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں سے سخت حساب لیا جائے گا اور دردناک عذاب دیا جائے گا۔(المعجم الصغیر)۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں