توبہ کی فضیلت (۲)
توبہ و استغفار ہر پریشانی اور دکھ کا علاج ہے ۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص استغفار کو لازم کر لے اللہ تعالی اسے ہر تنگی سےفراخی عطا فرما تاہے اور ہرقسم کے غم سے نجات عطا فرما تاہے۔ ایسے ذریعے سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہو گا ۔ ( ابو دائود)۔
حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالی کے محبوب اور سردار کونین ہیں لیکن آپ ﷺ نے خود کو بھی توبہ مانگنے کے عمل سے مستثنی نہیں رکھا ۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے کہ حضور نبی ریم ﷺ نے فرمایا : توبہ کیا کرو میں ہر روز سو بار توبہ کرتا ہوں ۔(نسائی )۔
ام المئومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا روایت کرتی ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کوئی بند ہ ایسا نہیں جو گناہ کے بعد نادم نہ ہو مگر یہ کہ اللہ تعالی اسے مغفرت طلب کرنے سے پہلے ہی بخش دیتا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : پیر اور جمعرات کے روز انسان کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ۔ جس نے توبہ کی ہو اس کی توبہ قبول کر لی جاتی ہے ۔ جس نے مغفرت طلب کی ہو اسے معاف کر دیا جاتا ہے جس کے دل میں کینہ ہو اسے ویسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ ایک بندے نے گناہ کیا اور کہا یا اللہ میرا گناہ بخش دے ۔ اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا وہ جانتا ہے کہ اس کاایک مالک ہے جو گناہ بخشتا اور گناہ پر مواخذہ کرتا ہے ۔
پھر اس نے گناہ کیا اور کہایا اللہ میرا گناہ بخش دے، اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا وہ جانتا ہے کہ اس کاایک مالک ہے جو گناہ بخشتا اور گناہ پر مواخذہ کرتاہے۔ ۔ پھر اس نے گناہ کیا اور کہایا اللہ میرا گناہ بخش دے ۔ اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا وہ جانتا ہے کہ اس کاایک مالک ہے جو گناہ بخشتا اور گناہ پر مواخذہ کرتاہے۔ اللہ فرماتا ہے اے بندے اب تو جو چاہے عمل کرے میں نے تجھے بخش دیا ۔ ( متفق علیہ )۔
اگر گناہوں کا تعلق حقوق العباد سے ہو تو صرف اللہ تعالی کے حضور معافی طلب کرنا کافی نہیں بلکہ حقدار کا حق پہنچانا اور اس سے معافی طلب کرنا بھی ضروری ہے ۔ اور یہی سچی توبہ کی علامت ہے ۔جب انسان سچے دل سے اللہ تعالی کے حضور توبہ کرتا ہے تو پھر اسے گناہوں سے نفرت ہو جاتی ہے اور وہ نیکیوں کی طرف راغب ہو جاتاہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں