توبہ کی فضیلت (۱)
توبہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں لوٹنا یا واپس آنا ۔ شریعت کی اصطلاح میں توبہ سے مراد یہ ہے کہ بندہ گناہ چھوڑ کر اللہ تعالی کی طرف رجوع کرے ،اللہ تعالی کے غضب کے ڈر سے اس کی طرف رجوع کرے اور یہ عہد کرے کہ آئندہ کبھی گناہ کے راستے پر نہیں چلو ں گا ۔ اسلام میں توبہ کی بہت زیادہ اہمیت ہے اللہ تعالی کو توبہ کرنے والا شخص بہت محبوب ہوتا ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’ اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ‘‘۔ ( سورۃ النور )۔
توبہ کی توفیق مل جانا اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے جو بندے کو گناہوں سے نکال کر رب کی رحمت کے نور کی طرف لے آتی ہے اور توبہ کرنے والوں سے اللہ تعالی بھی بہت زیادہ خوش ہوتا ہے ۔اللہ تعالی اپنی مخلوق سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے اس سے دور ہو جائیں اور جہنم کا ایندھن بنیں ۔اسی لیے اللہ تعالی بُرے انجام سے بچانے کے لیے اپنی مغفرت کو عام کرتے ہوئے بخشش کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے : مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی بُرائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ ( سورۃ الفرقان )۔
سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند کرتاہے ستھروں کو ۔توبہ ہر شخص پر ہر حال میں اور ہر وقت واجب ہے لیکن جوانی کی توبہ افضل ہے ۔اللہ تعالی کو نوجوان کی توبہ بہت زیادہ پسند ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی کو جوان توبہ کرنے والے بہت زیادہ محبوب ہیں ۔
سورۃ التحریم میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’ اے ایمان والو اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہو جائے ‘‘ ۔ ( آیت نمبر : ۸)۔یعنی توبہ ایسی کی جائے کہ پھر کبھی گناہوں کی طرف پلٹ کر نہ جائیں ۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انسان صرف اسی صورت میں سچی توبہ کے لیے اللہ تعالی کی طرف رجوع کر سکتا ہے جب وہ سچے دل اور خلوص نیت کے ساتھ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو۔
سچی توبہ یہ ہے کہ انسان دل سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں آنسو بہائے اور معافی طلب کرے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا توبہ ندامت ہی کا نام ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں