جمعہ، 30 جنوری، 2026

اللہ تعالیٰ کی نعمتیں (2)

 

اللہ تعالیٰ کی نعمتیں (2)

اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں بھی عبرت ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو گوبر اور لہو ہے اس سے ہم تم کو خا لص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے۔ اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے کہ اس سے تم نبیذ بناتے ہو اور اچھا رزق بیشک اس میں نشانی ہے عقل والوں کے لیئے۔ اور تمہارے رب نے شہد کی مکھیوں کوحکم دیا کہ پہاڑوں میں گھر بنا اور درختوں میں اور چھتوں میں۔ پھر ہر قسم کے پھل میں سے کھا اور اپنے رب کی راہیں چل کہ تیرے لیے نر م و آسان ہیں اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز رنگ برنگی نکلتی ہے جس میں لوگوں کی تندرستی ہے بیشک اس میں نشانی ہے سوچنے والوں کے لیے۔ (سورۃ النحل )۔
اور خدا ہی نے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے بیٹے اور پوتے اور نواسے پیدا کیے اور تمہیں ستھری چیزوں سے روزی دی تو کیا جھوٹی بات پر یقین لاتے ہیں اور اللہ کے فضل سے منکر ہوتے ہیں۔( سورۃ النحل )۔ 
اور اللہ نے تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹ سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے اور تمہیں کان اور آنکھ اور دل دیے کہ تم احسان مانو۔ کیا انہوں نے پرندے نہ دیکھے حکم کے باندھے آسمان کی فضا میں انہیں کوئی نہیں روکتا سوا خدا کے۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے۔ اور اللہ نے تمہارے لیے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا اور اسی نے چوپایوں کی کھالوں سے کچھ گھر بنائے جو تمہیں ہلکے پڑتے ہیں تمہارے سفر کے دن اور منزلوں پر ٹھہرنے کے دن اور ان کی اون اور ریشم اور بالوں سے کچھ گرستی کا سامان اور برتنے کی چیزیں ایک وقت تک۔ (سورۃ النحل)۔
اور اللہ نے تمہیں اپنی بنائی ہوئی چیزوں سے سائے دیے اور تمہارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہ بنائی اور تمہارے لیے کچھ پہناوے بنائے کہ تمہیں گرمی سے بچائیں اور کچھ پہناوے کہ لڑائی میں تمہاری حفاظت کریں یونہی اپنی نعمت تم پر پوری کرتا ہے کہ تم فرمان مانو۔ پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اے محبوب تم پر نہیں مگر صاف پہنچا دینا۔ اللہ کی نعمت کو پہنچاتے ہیں پھر اس سے منکر ہوتے ہیں اور ان میں اکثر کافر ہیں۔ (سورۃ النحل)۔
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے مینہ برسایا تو ہم نے اس سے طرح طرح کے رنگوں کے میوے اگائے۔اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کے قطعات ہیں اور کچھ کالے سیاہ ہیں۔ ( سورۃ فاطر ) 
کیا ہم نے زمین کو بچھونانہیں بنایا ؟ اور پہاڑوں کو میخیں ؟ اور تمہیں جوڑے بنایا۔ اور نیند کو تمہارے لیے موجب آرام بنایا۔ اور رات کو مقرر کیا اور دن کو معاش کا وقت مقرر کیا۔( سورۃ النبا )۔

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 36 .کیا ہم نے دنیا کو آخرت پر ت...

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 35کیا ہمارا احکامات الہی کے مطا...

جمعرات، 29 جنوری، 2026

اللہ تعالیٰ کی نعمتیں (1)

 

اللہ تعالیٰ کی نعمتیں (1)

اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک ایک نعمت اتنی بڑی ہے کہ ہم اس کاجتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 
یہ اس لیے کہ جو نعمت خدا کسی قوم کو دیا کرتا ہے جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدل ڈالیں خدا اسے نہیں بدلا کرتا اور بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔ (سورۃ الانفال )۔ 
اور چوپائے پیداکیے ان میں تمہارے لیے گرم لباس اور نفع ہے اور ان میں سے کھاتے بھی ہو۔ اور تمہارا ان میں تجمل ہے جب انہیں شام کو واپس لاتے ہو اور جب چرنے کو چھوڑتے ہو۔ اور وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں ایسے شہر کی طرف کہ تم اس تک نہ پہنچتے مگر ادھ مرے ہو کر۔ بیشک تمہارا رب نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ اور گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے اور وہ پیدا کرے گا جس کی تمہیں خبر نہیں۔(سورۃ النحل )۔
اور سیدھا راستہ تو اللہ تک جا پہنچتا ہے۔ اور بعض راستے ٹیڑھے ہیں اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھے راستے پر چلا دیتا۔ وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا جسے تم پیتے ہو۔ اور درخت بھی ہیں جن سے تم اپنے (چارپایوں )کو چراتے ہو۔ اس پانی سے تمہارے لیے کھیتی اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل بیشک اس میں نشانی ہے غور کرنے والوں کے لیے۔ (سورۃ النحل )۔ 
اس نے تمہارے لیے مسخر کیے رات اور دن اور سورج اور چاند اور ستارے اس کے حکم کے باندھے ہیں بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے۔ اور جو طرح طرح کے رنگوں کی چیزیں اس نے زمین میں پیدا کیں بیشک نصیحت کرنے والوں کے لیے اس میں نشانی ہے۔ اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا کو مسخر کیا کہ اس میں سے تازہ گوشت کھاتے ہو اور اس میں سے زیور نکالتے ہو جسے پہنتے ہو اور تو اس میں کشتیاں دیکھے کہ پانی کو چیر کر چلتی ہیں اور اس لیے کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور کہیں احسان مانو۔ (سورۃ النحل )۔
اور اس نے زمین پر پہاڑ رکھ دیے کہ تم کو لے کر کہیں جھک نہ جائے اور ندیاں اور رستے کہ تم راہ پائو۔ اور علامتیں اور ستارے سے وہ راہ پاتے ہیں۔تو کیا جو بنائے وہ ایسا ہو جائے گا جو نہ بنائے تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے۔ اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو توانہیں شمار نہ کرسکو گے بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (سورۃ النحل )۔

بدھ، 28 جنوری، 2026

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 28-31 Part-04 .کیا ہم رجوع الی...

مسواک کرنے کی فضیلت

 

مسواک کرنے کی فضیلت

انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کرنے کے لیے پیدا فرمایا۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے تو دنیا اور آخرت میں عزت پائیں گے۔ لیکن اگر عبادت الٰہی سے منہ موڑ لیا تو سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی رسول خدا ﷺ کی اطاعت کا نام ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :جس نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ 
حضور نبی کریمﷺ کی فرمانبرداری آپ ﷺ کی سنت مبارکہ پر عمل پیرا ہو کر ہی ممکن ہے۔ جب ہم آپ ﷺ کی مبارک سنتوں پر عمل کریں گے تو حضورﷺ کی سچی محبت بھی نصیب ہو گی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :جو کوئی میری ایک سنت کو زندہ کرے گا اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔ اور ایک شہید کا مقام یہ ہے کہ مرنے کے بعد کوئی شخص یہ خواہش نہیں کرے گا کہ اس کو واپس دنیا میں بھیج دیا جائے اور پھر اس کی روح قبض کی جائے سوائے شہیدکے۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر مجھے اپنی امت کی مشقت اور دشواری کا خیال نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔(بخاری شریف)۔
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: چار چیزیں انبیاء کرام علیہ السلام کی سنت میں سے ہیں۔ (1) ختنہ کرنا (2) عطر لگانا (3) مسواک کرنا (4) نکاح کرنا (ترمذی شریف )۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : مسواک منہ کو صاف ستھرا کرنے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک اور روایت مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو نماز مسواک کر کے پڑھی جائے وہ ستر درجہ افضل ہے اس نماز سے جو بغیر مسواک کے پڑھی جائے۔ آپ ﷺ فرماتی ہیں کہ مسواک موت کے سوا ہر مرض کے لیے شفاء ہے۔ 
ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ مسواک کرنے کے ستر فوائد ہیں اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ مسواک کرنے والے کو مرتے وقت کلمہ نصیب ہو گا۔ 
فیضان سنت میں روایت ہے کہ انبیاء اور رسل علیہم السلام مسواک کرنے والے کے لیے مغفرت کی دعاکرتے ہیں۔ مسواک کرنے والے سے فرشتے خوش ہوتے ہیں۔اس سے مصافحہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ انبیاء کرام علیہ السلام کی پیروی کرنے والا ہے۔

منگل، 27 جنوری، 2026

حکمت کی بات - ہم اپنے برائے نام اسلام پر مطمئن کیوں ہیں؟

شا ن وعظمت امام حسین پاک ؓ(1)

 

شا ن وعظمت امام حسین پاک ؓ(1)

تاریخ انسانی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا ذکر محض ایک عہد یا ایک قوم تک محدود نہیں رہتا بلکہ ان کی زندگی پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ بن جاتی ہے۔ امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ بھی انہی عظیم ہستیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے کردار ، اپنے فیصلوں اور اپنی قربانی کے ذریعے حق و باطل کے درمیان ایسی لکیر کھینچ دی جو قیامت تک واضح رہے گی۔آپ علیہ السلام کا نام آتے ہی دلوں میں احترام کی لہر دوڑ جاتی ہے اور آنکھوں میں عقیدت کے چراغ روشن ہو جاتے ہیں۔
امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ نبی کریم ﷺکے نواسے اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے لخت جگر ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت باسعادت تین شعبان المعظم کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔آپ رضی اللہ عنہ کی پرورش براہ راست نبی کریمﷺ کے سایہ اقدس میں ہوئی جہاں عدل ، شفقت اور تقوی کی عملی تعلیم دی جاتی تھی۔ بچپن ہی میں آپ  کے کردار میں وقار ، حلم اور حیا کے پہلو نمایاں تھے۔ ایک مقام پر نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہو ں۔
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دنیا کی سب سے عظیم نانا، عظیم ماں ،عظیم باپ اور عظیم گھرانے میں پرورش پائی۔نبی کریمﷺ کو شہزادہ حسین سے بہت زیادہ انس تھی۔ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر کے پاس سے گزرے تو حسین رضی اللہ عنہ کو روتے ہوئے سنا آپﷺ نے فرمایا کیا تجھے معلوم نہیں کہ اس کا رونا مجھے تکلیف دیتا ہے۔ ( طبرانی )
 سیدہ کائنات سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ میں اپنے بابا جان حضور نبی کریم ﷺ کے مرض وصال کے دوران حسن اور حسین کو آپﷺ کی خدمت اقدس میں لائیں اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ انہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا حسن میری ہیبت و سرداری کا وراث ہے اور حسین میری جرأت و سخاوت کا۔
حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی پشت مبارک پر بٹھایاہوا ہے اور حضور نبی کریم ﷺ گھٹنوں کے بل چل رہے ہیں۔فاروق اعظم ؓ فرماتے ہیں میں نے کہا کہ اے ابو عبد اللہ آپ نے کیا خوب سواری پائی ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اے عمرؓ سوار بھی تو خوب ہے۔

حکمت کی بات - صرف اللہ تعالٰی سے محبت کیوں اور کیسے؟ حصہ دوم

Surah Ash-Shura Ayat 28-30 Part-03 .کیا ہم نے اللہ تعالی سے رخ پھیر کر ...

پیر، 26 جنوری، 2026

صلہ رحمی

 

صلہ رحمی

حضور نبی کریمﷺ نے صلہ رحمی کا حکم فرمایا۔ صلہ رحمی سے مراد یہ ہے کہ رشتوں کو ٹوٹنے سے بچانا اور ان کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ صرف اس شخص کے ساتھ تعلقات مستحکم نہیں فرماتے تھے جو آپؐ سے تعلقات مستحکم کرنا چاہتا تھا بلکہ آپؐ کے ساتھ جو تعلق توڑنا چاہتا تھا آپ اس کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کے ساتھ پیش آتے تھے کہ تعلق ٹوٹنے سے بچ جاتا تھا اور اس طرح نفرتوں کی بجائے محبتیں بڑھتی تھیں۔ 
حضرت عبد اللہ بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : بدلے میں جوڑنے والا ، جوڑنے والا نہیں ہوتا۔ اصل میں جوڑنے والا وہ ہوتا ہے کہ جب اس سے تعلق توڑا جائے تو وہ پھر بھی تعلق جوڑے۔ ( السنن الکبری اللبہیقی ) 
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : کمزور رائے والے نہ ہو جائو کہ تم کہو اگر لوگ ہم سے اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی ان سے اچھا سلوک کریں گے اور اگروہ ہم پر ظلم کریں گے تو ہم بھی ان پر ظلم کریں گے بلکہ اپنے آپ کو اس چیز کا عادی بنائو کہ تم یہ سو چو کہ اگر لوگ ہم سے اچھا سلوک کریں گے تو بھی ان سے اچھا سلوک کرو گے اور اگر لوگ تم سے زیادتی کریں تب بھی تم ان پر ظلم نہیں کرو گے۔ ( ترمذی ) 
اس سے مراد یہ ہے کہ تعلقات جوڑنے میں تجارت نہیں بلکہ خیر خواہی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اور اس کی عمر دراز ہو اس سے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔ ( مسلم شریف ) 
حضور نبی کریمﷺ نے صلہ رحمی کو فضیلت والا عمل قرار دیا ۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا : بے شک فضیلت والے کاموں میں سب سے زیادہ فضیلت والا کام یہ ہے کہ تو اس شخص سے تعلق جوڑے جو تجھ سے تعلق توڑے۔ تو اسے عطا کرے جو تجھے محروم کرے اور تو اسے معاف کرے جو تجھے تکلیف پہنچائے۔ (المعجم الکبیر) 
حضور نبی کریمﷺ قطع تعلقی کو سخت نا پسند فرماتے تھے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالی کی رحمت اس قوم پر ناز ل نہیں ہوتی جس میں کوئی قطع تعلقی کرنے والاموجود ہو۔ ( شعب الایمان )
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کو ئی گزارش لے کر آپؐ کے پاس تشریف لائے تو انھوں نے عرض کیا : یا رسو ل اللہﷺ، آپ لوگوں میں سب سے زیادہ حسن سلوک کرنے والے اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم حضور نبی کریمﷺ کی تعلیما ت پر عمل کرتے ہوئے صلہ رحمی کو عام کریں تا کہ ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکے۔

حکمت کی بات - ہم اپنے دل کو اللہ تعالٰی کی محبت سے کیسے آباد کریں؟

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 28-30 Part-02 .کیا ہمارا دوبارہ...

اتوار، 25 جنوری، 2026

رضا ئے الہی چاہنے والوں کا مقا م و مرتبہ

 

رضا ئے الہی چاہنے والوں کا مقا م و مرتبہ

اللہ تعالی کی رضا کو حاصل کرنا ہی مومن کی زندگی کا نصب العین ہو نا چاہیے ۔ اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لیے بندے کو چاہیے کہ اپنی زندگی ان احکامات کی روشنی میں گزارے جو اللہ تعالی نے اپنے بندے کو دیے ہیں ۔ اللہ تعالی کی رضا چاہنے والوں کا مقا م و مرتبہ بہت بلند ہو گا۔ ارشاد باری تعالی ہے :تو کیا جو اللہ کی مرضی پر چلا وہ اس جیسا ہو گاجس نے اللہ کا غضب اوڑھا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور کیا بُری جگہ پلٹنے کی ۔ ( سورۃ آل عمران)۔
یعنی جو اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنی ساری زندگی شریعت مطہرہ کے مطابق ڈھال لیتا ہے اور جو اپنی زندگی اللہ تعالی کی نافرمانی میں گزارتا ہے وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے ۔رضائے الہی چاہنے والے کو اللہ تعالی جنت جیسی عظیم نعمت سے نوازے گا اور اللہ تعالی کے احکامات کی نافرمانی کرنے والوں کا ٹھکانہ انتہائی بُری جگہ جہنم ہو گی ۔ 
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنہیں قیامت کے دن کوئی گھبراہٹ نہیں ہو گی اور نہ ہی ان سے حساب و کتاب لیا جائے گا وہ لوگ مخلوق کے حساب و کتاب سے فارغ ہونے تک مشک کے ٹیلے پر ہوں گے ۔ ایک وہ شخص جس نے اللہ تعالی کی رضا کے لیے قرآن مجید پڑھا اور اس کے ذریعے کسی قوم کی امامت کی اور وہ قوم بھی اس پر راضی ہو اور اللہ تعالی کی رضا کے لیے نماز کی طرف بلانے والا یعنی اذان دینے والا اور وہ غلام جو اللہ تعالی اور اپنے آقائوں کے حقوق احسن طریقے سے ادا کرنے والا ہو ۔ (معجم صغیر )۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ اللہ تعالی کی رضا کے لیے چالیس دن تک با جماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ نما ز پڑھے اللہ تعالی اسکے لیے دو آزادیاں لکھ دیتا ہے۔ ایک جہنم سے آزادی اور دوسری نفاق سے ۔( ترمذی )۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاجو شخص اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالی  اسے جہنم سے اتنا دور کر دے گا جتنا فاصلہ ایک بچپن سے بوڑھا ہوکر مرنے تک مسلسل اڑتے ہوئے طے کر سکتا ہے ۔انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لیے بسر کریے ۔ اللہ تعالی کی رضا صرف اسی صورت ممکن ہے کہ ہم رشتہ داروں ، مساکین ، یتیموں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کریں ۔ ایک دوسرے کو بھلائی کا مشورہ دیں اور بُرائی سے روکیں ۔ صلح کرائیں اور اللہ تعالی کے دیے ہوئے مال میں سے بغیر دکھلاوے کے اس کی راہ میں خرچ کریں ۔

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 27 Part-02.کیا ہم ایک سرکش قوم ہیں

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 27 Pt-01 .کیا ہم نے اللہ تعالی ...

ہفتہ، 24 جنوری، 2026

اہل جنت کے لیے انعامات (3)

 

اہل جنت کے لیے انعامات (3)

حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اہل جنت ،جنت میں داخل ہو جائیں گے تو ایک منادی آواز دے گا اے اہل جنت ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے ایک اور وعدہ بھی ہے۔اہل جنت کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کر دیا ہے۔کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں جہنم سے نجات دے کر جنت میں داخل نہیں کر دیا ہے۔ تو منادی جواب دے گا کیوں نہیں۔تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے حجاب اقدس کو دور فرما کر اہل جنت کو اپنا دیدار کرائے گا تو جنتیوں کو اس سے زیادہ جنت کی کوئی نعمت پیاری نہ ہو گی۔( ترمذی )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :ادنی درجہ کے جنتی کے جنت میں سات درجے ہوں گے۔ یہ چھٹے پر رہتا ہو گا اس کے اوپر ساتواں درجہ ہو گا ، اس کے تین سو خادم ہوں گے اس کے سامنے روزانہ صبح و شام تین سو پیالے کھانے کے پیش کیے جائیں گے ہر ایک پیالے میں ایسی قسم کا کھانا ہو گا جودوسرے میں نہیں ہو گا اور جنتی اس کی شروع سے ایسے ہی لذت پائے گا جیسے اس کے آخر سے اور وہ یہ کہتا ہوگا اے میرے رب مجھے اجازت دے تو میں تمام جنت والوں کو کھلائوں اور پلائوں جو کچھ میرے پاس ہے۔۔ ( مسند احمد )۔ 
سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اور خوشخبری دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب انہیں ان باغوں سے پھل کھانے کو دیا جائے گا صورت دیکھ کر کہیں گے یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے ملا تھا اور وہ صورت میں ملتا جلتا انہیں دیا گیا اور ان کے لیے ان باغوں میں ستھری بیبیاں ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔یہ تمام نعمتیں اللہ تعالی نے ان کے لیے بنا رکھی ہیں جو دنیا میں اپنی زندگی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ﷺ میں گزارتے ہیں۔
اور دنیا کی ظاہری رنگینیوں میں گم ہو کر اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی نہیں کرتے۔ حقیقی کامیابی اس میں ہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرے اور اس جنت کا وارث بنے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہے۔

حکمت کی بات - زندگی میں لِلّٰہِیَّت کیوں اور کیسے؟

حکمت کی بات - زندگی کیا ہے؟ حصہ سوم

جمعہ، 23 جنوری، 2026

Surah Ash-Shura Ayat 26 Part-02 .کیا ہم نے اللہ تعالی کی بجائے دنیا کو م...

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 26 Part-01 .کیا ہم خالص اللہ کے...

اہل جنت کے لیے انعامات (2)

 

اہل جنت کے لیے انعامات (2)

قرآن مجید میں جنت کے باغات کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے گویا قاری اپنی آنکھوں سے وہ مناظر دیکھ رہا ہو۔ نہریں جو دودھ ، شہد ،خالص پانی اور شراب طہور سے بہتی ہوں گی ایسے درخت جن کے سائے ہمیشہ قائم رہیں گے اور ایسے پھل جو کبھی ختم نہ ہوں گے۔
سورۃ محمد آیت نمبر 15 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :احوال اس جنت کا جس کا وعدہ پرہیز گاروں سے ہے اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگرے اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جس کے پینے میں لذت ہے اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں اور اپنے رب کی مغفرت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم رئوف الرحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص جنت میں داخل ہو گا اسے نعمت ملے گی نہ وہ محتاج ہو گا نہ اس کے کپڑے پرانے ہوں گے اور نہ اس کی جوانی ختم ہو گی اور جنت میں وہ کچھ ہے جسے کسی آنکھ نے نہ دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال گزرا ہو گا۔ ( مسند احمد )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : سب سے پہلا گروہ جو جنت میں جائے گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے ، وہ وہاں نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے اور نہ ہی قضائے حاجت ہو گی۔ان کے برتن اور کنگھیاں سونے اور چاندی کے ہوں گے۔ ان کا پسینہ کستوری کا ہو گا۔ہر ایک کے لیے دو بیویاں ہوں گی ان کے درمیان نہ اختلاف ہو گا اور نہ بغض ان کے دل ایک دل کی طرح ہوں گے وہ صبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کریں گیں۔ ( مسلم )۔
سورۃ الرحمن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :’’ ان بچھونوں پر وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں ان سے پہلے نہ چھوا کسی آدمی نے اور نہ کسی جن نے۔تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائو گے۔گویا وہ لعل اور یاقوت اور مونگا ہیں۔

حکمت کی بات - زندگی کیا ہے؟ حصہ دوم

جمعرات، 22 جنوری، 2026

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 24-25 .کیا ہم اپنے رب کے حضور س...

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) At 22-23 Pt-11.ہم کیا اپنے رب کی مل...

اہل جنت کے لیے انعامات (1)

 

اہل جنت کے لیے انعامات (1)

انسانی فطرت اس بات کی متلاشی رہتی ہے کہ اسے ایسی جگہ میسر آ جائے جہاں خوف ، غم ، بیماری ، جدائی اور محرومی کا کوئی تصور نہ ہو۔یہی وہ فطری آرزو ہے جسے قرآن مجید میں جنت کے تصور کی صورت میں ایک کامل اور دائمی حقیقت بنا کر ہمارے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ جنت صرف ایک باغ یا بے شمار نعمتوں کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا ، قرب اور ابدی کامیابی کا مظہر ہے۔ قرآن و حدیث میں جنت کا ذکر ایسے اسلوب میں آیا ہے جو انسان کے دل میں شوق ، امید اور عمل کی ایک نئی روح پھونک دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جنت کو دارالسلام یعنی سلامتی کا گھر قرار دیا ہے۔ سورۃ یونس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف پکارتا ہے ‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں سلامتی والے گھر سے مراد جنت کا گھر ہے جس میں ہر قسم کی تکلیف اور مصیبت سے سلامتی ہے۔دنیا میں انسان بے شمار آزمائشوں اور مصائب سے گزرتا ہے لیکن جنت میں داخل ہونے کے بعد اسکے لیے صرف راحت و سکون اور دائمی خوشی مقدر ہو گی۔
سورۃ التوبہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لیے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لیے جنت ہے ‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے راہ خدا میں خرچ کر کے جنت پانے والے ایمان والوں کی مثال بیان کی ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنے جان و مال کے بدلے جنت خرید لی ہے۔ 
اسی طرح سورۃ محمد میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ’’ بیشک اللہ داخل فرمائے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور کافر برتتے ہیں اور کھاتے ہیں جیسے چو پائے کھائیں اور آگ میں ان کا ٹھکانا ہے ‘‘۔ 
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور کافروں کا آخرت میں حال بیان کیا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور اللہ تعالی کی رضا کے لیے اچھے کام کیے ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اور کفار دنیا میں اپنے آخرت کے انجام سے غافل ہو کر زندگی گزار رہے ہیں اور دنیاوی مال و متاع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اس کو ایسے کھاتے ہیں جیسے جانور کھاتے ہیں۔یعنی کہ جیسے جانوروں کو یہ شعور نہیں کہ کہا ں سے کھانا ہے یہی مثال کفار کی ہے۔

حکمت کی بات - زندگی کیا ہے؟ حصہ اول

حکمت کی بات - آخر کیسے ہم نقصان سے بچیں؟

حکمت کی بات - مقصدِ تخلیق سے غافل مسلمان

Ash-Shura Ayat 22-23 Pt-10.کیا ہمارے دل اللہ تعالی کی محبت سے خالی اور د...

بدھ، 21 جنوری، 2026

ضبط نفس فضیلت و اہمیت

 

ضبط نفس فضیلت و اہمیت

کسی بھی انسان کی شخصیت کو نکھارنے کے لیے ضبط نفس ایک اہم خوبی ہے۔ضبط نفس کی کمی انسان میں بہت بڑی کمزوری ہوتی ہے جو اس کی شخصیت کو گہنا دیتی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ دنیا میں سب سے اعلیٰ و ارفع شخصیت ہیں اور دنیا کے سب سے عظیم ترین رہنما ہیں۔ آپﷺ کا ضبط نفس بھی ساری کائنات سے زیادہ تھا۔ خوشحال زندگی گزارنے کے لیے ضبط نفس بہت ضروری ہے۔ اگر انسان میں ضبط نفس نہ ہو تو اس کی فطری صلاحیت بھی ضائع ہو جاتی ہے۔ اگر انسان اپنے آپ کو قابو میں نہیں رکھے گا تو کوئی دوسرا اس پر قابو پا لے گا اور جوشخص اپنے آپ پر قابو نہیں پا سکتا تو پھر اس میں اور جانور میں کیا فرق رہے گا۔ جو شخص اپنی قیادت خود نہیں کر سکتا وہ دوسروں کی قیادت کیسے کر ے گا۔ 
ضبط نفس سے مراد یہ ہے کہ جب بھی حق اور سچ کی راہ میں سہل پسندی ، بزدلی ، خود پسندی یا کوئی نفسانی خواہش حائل ہو تو انسان اسے ٹھکرا کر صراط مستقیم پر ثابت قدم رہے۔ قرآن مجید میں اس کے لیے مختلف الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ 
سب سے پہلے تقویٰ، تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو نا جائز خواہشات اور گناہوں سے بچائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’بے شک سب سے بہترین زاد راہ تقوی ہے ‘‘۔ اس کے بعد تزکیہ نفس، تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ناجائز خواہشات اورگناہوں سے پاک رکھے۔ ارشاد باری تعالی ہے : ’’ بیشک فلاح پا گیا وہ شخص جس نے اس (نفس ) کو (گناہوں سے ) پاک کر لیا۔ 
 ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کرے ‘‘۔ 
انسان کے اپنی خواہشات پر قابو پانے کو حضور نبی کریمﷺ نے بڑا جہاد قرار دیا ہے۔ حضرت ابوذر ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کی کون سا جہاد افضل ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا : افضل جہاد یہ ہے کہ آدمی اپنے نفس اور اپنی خواہش کے خلاف جہاد کرے۔ (کنزالعمال )۔ 
ضبط نفس ہمیں نظم و ضبط کی پابندی سکھاتا ہے اور نظم و ضبط کامیابی کی کنجی ہے۔ انسان اگر کامیابی حاصل کر نا چاہتا ہے تو اس کی اپنے نفس پر گرفت اتنی مضبوط ہو کہ اس کی نفسانی خواہشات اس کے راستے کی دیوار نہ بن سکیں۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ تمہارے صاحب (حضرت محمد ﷺ) نہ کبھی راہ حق سے ہٹے اور نہ کبھی راہ حق گم کی۔ اور وہ اپنی خواہش سے کلام  نہیں کرتے بلکہ ان کا کلام صرف وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے ‘‘۔ یعنی کہ حضور نبی کریم ﷺکا اپنی خواہشات پر اتنا قابو تھا کہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتے تھے بلکہ صرف وہی بتاتے تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا تھا۔

حکمت کی بات - انسان کب منافقت کا شکار ہو جاتا ہے؟

منگل، 20 جنوری، 2026

Surah Ash Shura Ayat 22 23 p 9 2411

اعمال میں استقامت

 

اعمال میں استقامت

انسان کوئی بھی کام کرے تو اسے استقامت کے ساتھ کرے۔ اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ عمل کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا دین سہل اور آسان ہے اور اگر کوئی بھی دین کو مشقت والا سمجھے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا۔ پس تم افراط و تفریط سے بچو اور قریب تر رہو اور ہمیشہ عمل کرو اگرچہ کم ہو۔ اس کے ثواب پر خوش رہو۔ صبح و شام اور رات کے کچھ حصہ کی عبادت گزاری سے قوت حاصل کرو۔ ( بخاری)۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو میرے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔نبی کریمﷺ نے اس کے متعلق دریافت فرمایا تو میں نے عرض کی یہ فلاں عورت ہے اور حضرت عائشہؓ نے اس کی کثرت نماز کا تذکرہ کیا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ٹھہرو تم پر اتنا عمل لازم ہے جس کی تم طاقت رکھتی ہو۔ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب ختم نہیں ہو گا یہاں تک کہ تم عبادت سے اکتا جائو گی اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ عمل پسندیدہ ہے جسے کرنے والا اسے ہمیشہ کرے۔ ( بخاری )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھنے میں بھی استقامت کا حکم فرمایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے مروی ہے کہ جب کسی شخص کونماز کے دوران اونگھ آجائے تو سو جائے یہاں تک کہ اس کی نیند پوری ہو جائے۔ کیونکہ اگر کوئی شخص غنودگی کی کیفیت میں نماز پڑھتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ اپنی طرف سے استغفار کر رہا ہو لیکن حقیقت میں وہ خود کو برا بھلا کہہ رہا ہو۔ ( مسلم )۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب کو ئی شخص رات کو نوافل پڑھ رہا ہو اور نیند کی شدت کی وجہ سے قرآن صحیح طرح سے نہ پڑھ سکے اور اسے یہ پتا نہ چلے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ ایسی حالت میں لیٹ جائے۔ ( مسلم )۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ مسجد میں تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دو ستونوں کے درمیان بندھی ہوئی رسی دیکھی تو فرمایا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے لیے ہے۔ وہ نوافل ادا کرتی ہیں جب ان پر تھکن طاری ہوتی ہے تو وہ اسے پکڑ لیتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے کھول دو کوئی بھی شخص اس وقت تک نفلی نماز ادا کرے جب تک بغیر سستی کے پڑھ سکتا ہے اور جب تھکن سوار ہو تو بیٹھ جائے۔ 
حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے پوچھا گیا کہ نبی کریم ﷺ کا عمل کیسا تھا کیا آپ ﷺ کے عمل کے لیے کوئی دن مخصوص تھا۔ تو حضرت عائشہ ؓ نے جوا ب دیا نہیں۔ نبی کریم ﷺ کا عمل مستقل ہوتا تھا۔ ( مسلم )۔

حکمت کی بات - کیا ہم حکمِ الٰہی کے سامنے سر جھکانے کے لئے تیار ہیں؟

حکمت کی بات - معبود کا مطلب

حکمت کی بات - کیا اللہ تعالٰی واقعی ہمارا معبود ہے؟

پیر، 19 جنوری، 2026

صحبت اور اس کے اثرات

 

صحبت اور اس کے اثرات

ارشاد باری تعالیٰ ہے :’ بے شک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ان کے لیے رحمن محبت کر دے گا ‘۔( سورۃ مریم :آیت 96) یعنی وہ اپنے دلوں پر نگاہ رکھتے ہیں ، اپنے بھائیوں کے حقوق ادا کرتے ہیں اور انھیں اپنے اوپر فضیلت دیتے ہیں ۔ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: تین باتیں تیرے بھائی کے دل میں تیرے لیے محبت بڑھاتی ہیں جب راستے میں ملے تو اسے سلام کرو ، مجلس میں اس کے لیے جگہ بنائو اور اسے اس کے پسندیدہ نام سے پکارو ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرائو۔‘( سورۃ الحجرات ) یہ حکم سب کے لیے ہے کہ دو مسلمان بھائیوں کے درمیان مہربانی اور لطف کی فضا پیدا کریں تا کہ کسی دوسرے سے دل آزردہ نہ ہو ۔ رحمت دو عالمﷺ نے فرمایا: بھائی زیادہ بنائو بلاشبہ تمھارا رب  کریم ہے وہ اپنے کرم سے قیامت کے دن بھائیوں کے سامنے اپنے بندے کو عذاب نہیں دے گا ۔ صحبت اللہ تعالیٰ کے لیے ہونی چاہیے کسی خواہش نفس ، دنیاوی غرض اور مقصد کی خاطر نہ ہو تا کہ اس کے آداب کی حفاظت اور پاسداری کی وجہ سے بندہ اجر کا مستحق ہو ۔ حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے داماد مغیرہ بن شعبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے فرمایا: ’اے مغیرہ جس بھائی یا دوست کی ہم نشینی سے تمھیں کوئی دینی فائدہ حاصل نہ ہو تو اسے چھوڑ دو اس میں تمھاری سلامتی ہے‘۔ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کمال پرہیز گاری ہے کسی بے علم کو تعلیم دینا ۔ حضرت یحییٰ بن معاذ رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں، براہے وہ دوست جسے دعا کی درخواست کرنے کی ضرورت پڑے کیونکہ ایک لمحے کی دوستی ہمیشہ دعا میں یاد رکھنا ہے ۔ برا ہے وہ دوست جس کے ساتھ زندگی مدارات کے ساتھ گزارنی پڑے کیونکہ صحبت کی بنیاد خوشدلی پر ہے ۔ برا ہے وہ دوست جس سے کوتاہی پر معذرت کرنی پڑے اس لیے کہ معذرت بیگانگی کی علامت ہے صحبت میں بیگانگی ظلم ہے ۔ سرکار دوعالمﷺ نے فرمایا: انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اس لیے تم میں سے ہر شخص کو سوچنا چاہیے کہ اس کے دوست کون ہیں؟اگر اس کا بیٹھنا اٹھنا نیک لوگوں کے ساتھ ہے تو برا ہونے کے باوجود نیک کہلائے گا اور اس کی یہ نیکی بل آخر اسے نیک بنا دے گی ۔ اور اگربروں کی صحبت اختیار کرے گا اور نیک ہونے کے باوجود برا سمجھا جائے گا اس لیے کہ گویا برائیوں پر رضا مند ہے ، اور جو شخص برائی پر راضی رہتا ہے اگرچہ نیک ہو برا ہے ۔ 

Surah Ash-Shura Ayat 22-23 Part-06.کیا ہم دنیا کے امتحان میں یقینی فیل...

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 22-23 Part-05.جنت میں جانے کا ی...

حکمت کی بات - آخرت پر یقینِ کامل کیوں ضروری ہے؟

اتوار، 18 جنوری، 2026

ذکر اور دعا

 

ذکر اور دعا

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے افضل ذکر لا الہ الا اللہ اور سب سے بہتر دعا الحمد للہ ہے۔( ابن ماجہ )۔
ذکر اور دعا صاحب معرفت انسان کے تخلیقی کلمات ہیں۔ انسان کی زندگی میں مختلف واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔اگر آدمی کے اندر سوچنے کی صلاحیت ہو تو وہ اس بات کو ضرور سمجھ لے گا کہ ان مواقع پر اللہ تعالیٰ کی یاد کا کوئی نہ کوئی پہلو لازمی موجود ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ ان لمحات میں جس قدر ہو سکے رب ذوالجلال کا ذکر کرے اور کثرت کے ساتھ دعا کرے۔ ایک روایت میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ ہر موقع پر اللہ تعالی کا ذکر کرتے یا پھر مالک کائنات سے دعا فرماتے تھے۔ 
ترمذی شریف کی روایت ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا دعا عبادت کا مغز ہے۔ ترمذی شریف ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ فرمان مصطفی ﷺ ہے دعا ہی اصل عبادت ہے۔ یہ بات قرآن و حدیث میں مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے۔ دعا کا عین عبادت ہونا فطری ہے۔ کیوں کہ انسان جب اللہ تعالیٰ کے وجود کو اس کی صفات کمال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اسی کے ساتھ انسان یہ بھی دریافت کرتا ہے کہ خدا کے مقابلے میں میں بالکل بے حقیقت ہوں۔
خدا آقا ہے میں بندہ ہوں ، خدا دینے والا ہے اور میں طالب ہوں ، خدا حاکم ہے اور میں محکوم ہوں۔ خدا قادر مطلق ہے اور میں عاجز اور محتاج ہوں۔ یہی احساس بندے کو فوری طور پر اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا گو بنا دیتا ہے۔ 
دعا ہی وہ سب سے بڑا رشتہ ہے جس کے ذریعے بند ہ اپنے رب سے مربوط ہوتا ہے۔ دعا خدا اور بندے کے درمیان اتصال کا ذریعہ ہے۔ انسان جو کچھ بھی حاصل کرتا ہے دعا سے حاصل کرتا ہے۔ اور تمام اعمال کا مقصد آدمی کو خدا سے دعا کرنے والا بنانا ہے تا کہ وہ خدا سے پانے والا بن جائے۔ 
دعا صرف کچھ الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ دعا ایک عمل ہے بلکہ دعا سب سے بڑا عمل ہے۔ جس طرح حقیقی عمل کبھی بے نتیجہ نہیں رہتا اسی طرح حقیقی دعا بھی کبھی بے نتیجہ نہیں رہتی۔ جب کوئی بندہ حقیقی دعا کرتا ہے تو وہ گویا اپنے معاملات کو خدا کے سپرد کر دیتا ہے اور جب معاملات خدا کے سپر د کر دے تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کو پورا کر دیتا ہے۔ اللہ تعا لیٰ ذکر کرنے اور اس کی بارگاہ میں دست التجا بلند کرنے سے انسان کو اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے اور اسے پریشانیوں سے نجات ملتی ہے۔

حکمت کی بات - کیا دنیا کے دھوکے سے نکلنا بہت مشکل ہے؟

Surah Ash-Shura Ayat 22-23 Part-04.کیا ہمیں دنیا کا فائدہ آخرت کے فائدے...

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 22-23 Part-03.کیا ہمارا یقین صر...

ہفتہ، 17 جنوری، 2026

خواہشات نفس کی پیروی(2)

 

خواہشات نفس کی پیروی(2)

جمعہ، 16 جنوری، 2026

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 22-23 Part-02.کیا ہمارا یوم آخر...

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 22-23 Part-01.کیا ہم صرف طالب د...

مجاہدۂ نفس

 

مجاہدۂ نفس

لفظ جہاد اور مجاہدہ کسی مقصد کی تکمیل میں اپنی پوری طاقت صرف کرنے اور اس کے لیے مشقت برداشت کرنے کے معنوں میں آتا ہے ۔ اور اس میں پورا اخلاص اللہ کے لیے ہو اور نمود و نمائش بالکل بھی نہ ہو ۔ نفس امارہ جو ہر وقت انسان کو برائی کی طرف راغب کرتا ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کے لیے پوری کوشش کرتا ہے ۔ ایک مرتبہ جنگ سے واپسی پر حضور نبی کریم ﷺ نے مجاہدین سے فرمایا: ’ خوش آمدید تم ایک چھوٹے جہادکی طرف سے بڑے جہا د کی طرف آ گئے ہو ۔ صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی یا رسول اللہؐ، وہ بڑا جہاد کیا ہے ۔ آپؐ نے فرمایا، بندے کا اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنا ۔ 
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آپؐ نے صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین سے دریافت کیا تم پہلوان کسے کہتے ہو ؟ انھوں نے جواب دیا جس کو لوگ بچھاڑ نہ سکیں ۔ آپؐ نے فرمایا، نہیں، پہلوان وہ ہے جو غصے میں اپنے نفس کو قابو میں رکھے ۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت ، طویل قرأ ت کے ساتھ نماز کا ادا کرنا اور کلمہ طیبہ کی تکرار کرنا ان تین چیزوں میں سے ایک میں ضرور مشغول رہیں ۔ اور کلمہ لا سے اپنے نفس کی خواہشات کے معبودوں کی نفی کرنی چاہیے اور اپنی تمام مرادوں اور مقاصد کو دور کرنا چاہیے ۔ اپنی مراد کا دعویٰ کرنا اپنی الوہیت کا دعویٰ کرنا ہے سینہ کی وسعت میں کسی مراد کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے اور کوئی ہوس قوت خیالیہ میں نہیں رہنی چاہیے تا کہ بندگی کی حقیقت حاصل ہو جائے ۔اپنی مراد کا طلب کرنا گویا اپنے مولی کی مراد کو دفع کرنا اور اپنے مالک کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے اس امر میں اپنے موالیٰ کی نفی اور خود مولیٰ بننے کا اثبات ہے اس امر کی برائی اچھی طرح معلوم کر کے اپنی الوہیت کے دعویٰ کی نفی کرو تا کہ تمام ہوا و ہوس سے کامل طور پر پاک ہو جائو اور طلب مولیٰ کے سوا تمھاری کوئی مراد نہ رہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’ اور جنھوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انھیں اپنے راستے دکھا دیں گے اور بے شک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے ‘۔ اللہ تعالیٰ اپنا قرب تلاش کرنے والے کی رہنمائی فرماتا ہے اور پھر اس کی خامیاں اور عیب اس پر واضح کر دیتا ہے ۔حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو اس کے نفس کے عیوب اس پر ظاہر کر دیتا ہے ۔

حکمت کی بات - دنیا کے دھوکے سے کیسے نکلیں؟

جمعرات، 15 جنوری، 2026

Surah Ash-Shura Ayat 21.کیا ہم زندگی اللہ تعالی کی مرضی کی بجائے اپنی مر...

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayt 20 Pt-2.کیا ہماری نظر میں اصل کا...

خواہشاتِ نفس کی پیروی(۱)

 

خواہشاتِ نفس کی پیروی(۱)

انسان نا سمجھی میں خواہشات نفس کی پیروی کرتا رہتا ہے اور اسے اس بات کا اندازہ تک نہیں ہوتا کہ وہ کتنا بڑا گناہ کر رہا ہے اور اس سے اللہ تعالی کی نا فرمانی ہو تی ہے ۔ سورۃ الجاثیہ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :’’ بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرا لیا اور اللہ نے  اس کے کان اور دل پر مُہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا تو اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے گا۔ تو کیا تم دھیان نہیں کرتے‘‘۔
آیت مبارکہ میں خواہشات نفس کو خدا بنا لینے سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی اس حد تک کرنے لگ جائے کہ اللہ تعالی کے احکام کو بھول جائے اور جو کام کرنے کو دل کرے اسے کر ڈالے بیشک اس کام کو اللہ نے حرام ہی کیوں نہ کہا ہو ۔ اور جس کام کو اس کا دل نہ چاہتا ہو اس کو نہ کرے بیشک اللہ تعالی نے اس کام کو فرض قرار دیا ہو ۔ 
جب انسان خواہش نفس کا اس حد تک فرمانبردار بن جاتا ہے کہ جدھر اس کا نفس کہے اس طرف چل پڑے اس کے متعلق اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اسے علم رکھنے کے باوجود گمراہی میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔ اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی جاتی ہے اور اس کی آنکھوں پر پردے ڈال دیے جاتے ہیں اوراللہ کے سوا کوئی بھی انہیں ہدایت نہیں دے سکتا ۔ لہذا ہمیں اس بات پر غور و فکر کرنا چا ہیے کہ انسان کے لیے اس سے زیادہ بد بختی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اپنے نفس کی پیرویکرنے کی وجہ سے اللہ تعالی اسے ہدایت سے محروم کر دیتا ہے اور ان کے دلوں سے عرفان صداقت ختم کر دیتا ہے اور نور حق دیکھنے والی بینائی ختم کر دی جاتی ہے ۔
 حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ خدا ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ زیر آسمان دنیا میں جتنے معبودوں کی عبادت کی گئی ہے ان میں سب سے زیادہ مبغوض اللہ کے نزدیک ہوا ہے یعنی خواہش نفس ۔(طبرانی)۔
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دانشمند وہ شخص ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور ما بعد الموت کے واسطے عمل کرے اور فاجر وہ ہے جو اپنے نفس کو اس کی خواہش کے پیچھےچھوڑ دے اور اس کے باوجود اللہ تعالی سے آخرت کی بھلائی کی توقع کرے ۔
حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تمہاری بیماری تمہاری نفسانی خواہشات ہیں ۔ ہاں اگر تم ان کی مخالفت کرو تو یہ بیماری میں تمہاری دوا بھی ہے ۔

حکمت کی بات - عبادت کیا اور کیوں؟ - حصہ دوم

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 20 Part-01.کیا ہم سب طالب دنیا ہیں

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 19.کیا ہم صرف دنیا کے دیوانے ہیں

بدھ، 14 جنوری، 2026

یاد الٰہی کی فضیلت (1)

 

یاد الٰہی کی فضیلت (1)

یاد الٰہی ایک ایسا عمل ہے جو انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔ لیکن آج اس پْر فتن دور میں ہم دنیا کے معاملات میں اس قدر کھو گئے ہیں کہ ہمارے پاس اتنی فرصت بھی نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرسکیں۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’اور ان جیسے نہ ہو جو اللہ کو بھول بیٹھے تو اللہ نے انہیں بلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں۔ وہی فاسق ہیں۔ (سورۃ الحشر)۔
یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے کہ ان جیسے نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کو بھول گئے اور اس کی ایسی قدر نہ کی جیسا اس کا حق تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے انہیں اپنی جانوں کو بھول جانے والا بنا دیا جس کی وجہ سے وہ اس چیز کو نہیں سنتے جو انہیں نفع دے اور وہ کام نہیں کرتے جو انہیں نجات دے اور یہ بھول جانے والے فاسق ہیں۔ 
حضرت سیدنا ابوموسیٰ ؓسے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا ان کی مثال زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔ ( بخاری )۔
حضرت حارث اشعری ؓسے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے حضرت سیدنا یحی بن زکریا علیہ السلام کی طرف پانچ باتوں کی وحی فرمائی اور فرمایا کہ ان پر خود بھی عمل کرو اور بنی اسرائیل کو بھی عمل کرنے کا حکم دو۔ آپ ﷺ نے فرمایا ان باتوں میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمہیں کثرت کے ساتھ ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ اور ذکر کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس کے دشمن اس کی تلاش میں ہوں پھر وہ ایک قلعے میں خود کو چھپا لے۔اسی طرح بندہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی وجہ سے شیطان سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔ (مستدرک للحاکم )۔
مسند احمد میں حضرت سیدنا انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جو قوم اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ذکر الٰہی کرنے کی غرض سے جمع ہوئی تو ان کے اٹھنے سے پہلے آسمان سے ایک منادی انہیں مخاطب کر کے ندا دیتا ہے کہ مغفرت یافتہ ہو کر کھڑے ہو جائو کہ تمہار ے گناہ نیکیوں میں بدل دیے گئے ہیں۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو اللہ کو بہت یاد کرو۔ اور صبح و شام اس کی پاکی بولو۔وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے کہ تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف نکالے اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے ‘‘۔ ( سورۃ الاحزاب )۔

حکمت کی بات - عبادت کیا اور کیوں؟

منگل، 13 جنوری، 2026

پیروی اسوۂ رسول ﷺ کامیابی کاراستہ

 

  پیروی اسوۂ رسول ﷺ کامیابی کاراستہ

اللہ تبارک وتعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر بھیجا تو اولاد آدم کو ساتھ یہ بات بھی بتا دی میں تمہیں دنیا میں بے یا رو مدد گار نہیں چھوڑوں گا بلکہ تمہاری راہنمائی کا مکمل انتظام کروں گا۔ جو لوگ میری اطاعت کریں گے وہی دنیا و آخرت میں کامیاب ہو ں گے اور جو لوگ میری نا فرمانی کریں گے ان کے لیے سخت عذاب تیارکر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور رسل مبعوث فرمائے اور کئی آسمانی صحیفے اور کتابیں نازل کیں۔انسانوں کی راہنمائی کے لیے انبیاء کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا وہ حضور نبی کریمﷺ کی ذات مبارکہ پر ختم ہوا۔ تمام انبیاء کسی خاص علاقے یا پھر کسی خاص قوم کی طرف مبعوث فرمائے گئے اور ہر ایک نبی کی نبوت وقتی تھی لیکن حضور نبی کریمﷺ کی رسالت دائمی ہے۔ آپ ﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمۃ اللعالمین ہیں اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید آخری کتاب ہے اور آپ ﷺ کا دین آخری دین ہے۔حضور نبی کریم ﷺ کے ہر لحاظ سے ، ہر پہلو اور ہر حوالے سے ایک کامل ترین دین کی موجودگی میں اگر کوئی شخص ہدایت اور راہنمائی کے لیے کسی دوسرے دین کی طرف دیکھتا ہے تو اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص دن کی روشنی میں چراغ جلا کر کھلے میدان کوئی چیز تلاش کرے۔ حضور نبی کریم ﷺ قیامت تک پوری انسانیت کے لیے بغیر کسی رنگ و نسل کے امتیاز کے ہر علاقے ، ہر قوم ، ہرحاکم و محکوم ، ہر امیر و غریب اور ہر چھوٹے اور بڑے کے لیے رسول اور رحمت کا پیکر ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کی ذات مقدسہ میں ہر انسان اور ہر خاص و عام کے لیے بہترین نمونہ پیش کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’ لوگو! تم سب کے لیے اللہ کے رسول (ﷺ) کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ‘‘۔
کوئی آدمی بیٹا ہے یا باپ ، بھائی ہے ، شوہر ہے ، دوست ہے ، پڑوسی ہے ، خطیب ہے ، معلم ہے ، تاجر ہے ، مزدور ہے ، حاکم ہے یا محکوم ہے جو بھی ہے ان سب کے لیے حضور نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ میں راہنمائی موجود ہے۔خواتین ، مائوں ، بہنوں ، بیٹیوں کے لیے حضرت خدیجۃ الکبری ، حضرت عائشہ ، حضرت فاطمۃ الزہرہ اور دوسری امہات المومنین کی زندگیوں میں بہترین نمونہ موجود ہے۔
اگر ہم دنیا و آخرت میں سر خرو ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں لازمی طور پر اسوہ رسول ﷺ سے راہنمائی لینی پڑے گی اور اپنی زندگی اس کے مطابق گزارنا پڑے گی۔ اس کے بغیر نہ ہم دنیا میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور نہ ہی آخرت میں۔

جمعہ، 9 جنوری، 2026

بہترین شخص

 

بہترین شخص

خیر خواہی ایک ایسا عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے تمام اخلاق کی بنیاد رضائے الٰہی ہی ہے۔ مخلوق کے لیے اپنے دل میں ہمدردی اور خیر خواہی رکھنا ایک سنہری اصول ہے۔ 
حضور نبیء کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے اور اللہ تعالی کے نزدیک محبوب وہ ہے جو اس کنبے کے ساتھ اچھا سلوک کرے ‘‘۔ (مشکوۃ شریف)۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری زندگی اللہ کی مخلوق کی خیر اور بھلائی چاہی۔ آپ ؐ کا مقصد حیات لوگوں کو نفع پہنچانا اور فیضیاب کرنا تھا۔آپ ؐ نے ارشاد فرمایا : لوگوں میں بہترین شخص وہ ہے جو انسانوں کو نفع پہنچاتا ہے۔
فرمان مصطفی ﷺ ہے : اللہ تعالی تمام معاملات میں نرمی پسند کرتا ہے۔( بخاری شریف)۔
ہمیں ذاتی مفاد اور غرض کے بغیر لوگوں کو نفع پہنچانا چاہیے۔ رشتہ داروں سے بھی بھلائی کریں اور دوسرے حاجت مندوں سے بھی۔ اور جانوروں کے ساتھ بھی بھلائی کریں۔ بد سلوکی اور دوسروں کو نقصان پہنچانا ایک نا پسندیدہ عمل ہے اور آپ ؐ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن رتبے کے لحاظ سے وہ بد ترین شخص ہو گا جس کے شر کی وجہ سے لوگ اسے چھوڑ دیں۔ (بخاری شریف)۔ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ خیر خواہی کرے۔ دوسروں کے ساتھ مہربانی ، لطف و عنایت ، نرم دلی اور خیر خواہی ایک اعلی انسان کی صفات ہیں۔ بوڑھوں ، یتیموں ، بیوائوں، بچوں اور مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ خیر خواہی اور ان کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔
 ارشاد باری تعالی ہے : ’’ وہ تنگدستی کے باوجود دوسرے مسلمان بھائیوں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔‘‘( سورۃ الحشر )۔
حضرت ابو جہم بن حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ یرموک کے میدان میں اپنے زخمی بھائی کی تلاش میں نکلے جب پانی لے کر بھائی کے پاس پہنچے اور اسے پانی پلانے ہی لگے تھے کہ دوسرے زخمی کے کراہنے کی آواز آئی تو زخمی بھائی نے اپنے بھائی سے کہاکہ پہلے اسے پانی پلائیں۔ جب صحابی پانی لے کر اس کے پاس پہنچے تو تیسرے زخمی کی آواز آئی تو صحابی نے کہا کہ پہلے اسے پلائیں۔ جب صحابی پانی لے کر تیسرے صحابی کے پاس پہنچے تو وہ شہیدہو چکے تھے۔ واپس دوسرے کے پاس آئے تو وہ بھی شہیدہو چکے تھے پھر جب اپنے بھائی کے پاس پہنچے تو وہ بھی شہادت کا جام پی چکے تھے۔ یہ تھا صحابہ کرام کا اپنے بھائیوں کے لیے جذبہ ایثار۔
آپؐ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہ ہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔

حکمت کی بات - دنیا میں کامیاب انسان کون ہے؟

جمعرات، 8 جنوری، 2026

حکمت کی بات - دینِ اسلام اصل میں کیا ہے؟

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۲)

 

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۲)

حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور میری طرف سے (عہد و پیمان میں)میرے اور علی کے سوا کوئی دوسرا ذمہ داری ادا نہیں کر سکتا۔ ( ترمذی ، ابن ماجہ )۔ 
اکثر غزوات میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پرچم اسلام آپ ہی کو عطا کیا۔ غزوہ خیبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں پرچم دے کر فتح کی بشارت سنائی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے مسلمانو تم میں سب سے زیادہ صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت کے مالک حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ 
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے کہ اگر مجھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رفاقت حاصل نہ ہوتی تو امور سلطنت میں عمر برباد ہو جاتا۔ طریقت میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت اونچی شان اور بلند ترین مقام کے مالک تھے۔ اصول حقائق کے مشکلات کے حل پر آپ کو جو قدرت تھی اس کے بارے میں حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں’’اصول طریقت اورمصائب برداشت کر نے میں ہمارے پیر علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ‘‘۔
اگرچہ آپ نادر شجاعت کے حامل تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ فقیرانہ احساس اور عجز و انکساری کا پیکر تھے۔ جنگ کی وحشت و بربریت کا جذبہ کبھی  آپ کے دل میں پیدا نہیں ہوا۔ آپ نے غازیانہ خلق عظیم کی بہترین دنیا میں مثال پیش کی آپ نے کبھی ظلم و تعدی سے کام نہ لیا اور نہ ہی فخرو غرور کی کوئی بات آپ سے سرزد ہوئی بلکہ آپ نے اپنے طرز عمل سے حلم وحیا کی روایت کو عام کیا۔ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اقوال ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چند اقول درج ذیل ہیں:
۱: آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ گناہوں کی دنیامیں یہ سزا ہے کہ عبادت میں سستی اور رزق میں تنگی ہو جاتی ہے۔ ۲: کامل فقیہہ وہ ہوتا ہے جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ کرے اور نہ ہی گناہ کرنے کی ڈھیل دے۔ ۳: حلال کی خواہش اس شخص میں پیدا ہوتی ہے جوحرام کمائی چھوڑ دینے کی پوری پوری کوشش کرتا ہے۔ ۴: سب سے بڑی دولت عقل مندی اور سب سے بڑا افلاس حماقت ہے۔ 
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن کی عملی تفسیر تھے۔آپ رضی اللہ عنہ سوچ میں حکمت، کردار میں پاکیزگی ، فیصلوں میں عدل اور عبادات میں اخلاص تھا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی ایک مکمل درس گاہ ہے ایک ایسی درس گاہ جو ہر دور کے مسلمان کو حق ، عدل اور تقوی کا راستہ دکھاتی ہے۔

بدھ، 7 جنوری، 2026

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 07-08 Part-05.ہم کیا راستہ بھٹک...

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 07-08 Part-04.اب جنت میں جانا ا...

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۱)

 

 حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۱)

امیر المومنین خلیفۃ المسلمین حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ عظیم المرتبت شخصیت ہیں جن کی ذات علم وعمل شجاعت و تقوی ، عدل و انصاف اور زہد و عبادت کا حسین امتزاج ہے۔آپ کو صحابی رسولؐ ہونے کے ساتھ داماد مصطفی ؐ ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔
 سیدناعلی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت با سعادت بعثت نبویؐ سے دس سال پہلے ماہ رجب المرجب میں ہوئی۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام فاطمہ بنت اسد تھا۔ آپ کا نام علی ، ابو تراب ، ابو الحسن کنیت اور حیدر کرار لقب تھا۔ خاندان ہاشمی سے تعلق تھا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے۔آپ رضی اللہ عنہ نے بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل کیا۔ جب اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اعلانیہ تبلیغ کا آغاز ہوا تو مشکلات و مصائب کے باوجود اور انتہائی تکلیف دہ اور آزمائشی مرحلے میں بھی حضور ﷺ کا ساتھ دیا۔آپ کو یہ بھی شرف حاصل ہے کہ ہجرت کی رات نبی کریم ﷺ نے آپ کو اپنے بستر پر آرام کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ صبح لوگوں کی امانتیں واپس کر کے مدینہ منورہ آجانا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم نے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علیؓ  کو مدینہ منورہ میں رکنے کا حکم فرمایا توحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے علی تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسی علیہ السلام سے تھی البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ (متفق علیہ )۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس ایک پرندے کا گوشت تھا آپ  نے دعا فرمائی یا اللہ اپنی مخلوق میں سے محبوب ترین شخص کو میرے پاس بھیج تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے۔ چناچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ گوشت کھایا۔(ترمذی )۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب انصار اور مہاجرین میں بھائی چارہ قائم کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی یار سول اللہ ؐ! آپ  نے صحابہ کرام میں بھائی چارہ قائم فرما دیا ہے لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا۔ آپ نے فرمایا تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی)۔

استقبال رمضان(۱)

  استقبال رمضان(۱) روزہ عبادت ، صبر کا پیغام ہے یہ ماہ رمضان رب کا انعام ہے رمضان المبارک اسلامی سال کا وہ با برکت مہینہ ہے جو اللہ تعالیٰ ک...