اہل جنت کے لیے انعامات (1)
انسانی فطرت اس بات کی متلاشی رہتی ہے کہ اسے ایسی جگہ میسر آ جائے جہاں خوف ، غم ، بیماری ، جدائی اور محرومی کا کوئی تصور نہ ہو۔یہی وہ فطری آرزو ہے جسے قرآن مجید میں جنت کے تصور کی صورت میں ایک کامل اور دائمی حقیقت بنا کر ہمارے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ جنت صرف ایک باغ یا بے شمار نعمتوں کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا ، قرب اور ابدی کامیابی کا مظہر ہے۔ قرآن و حدیث میں جنت کا ذکر ایسے اسلوب میں آیا ہے جو انسان کے دل میں شوق ، امید اور عمل کی ایک نئی روح پھونک دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جنت کو دارالسلام یعنی سلامتی کا گھر قرار دیا ہے۔ سورۃ یونس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف پکارتا ہے ‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں سلامتی والے گھر سے مراد جنت کا گھر ہے جس میں ہر قسم کی تکلیف اور مصیبت سے سلامتی ہے۔دنیا میں انسان بے شمار آزمائشوں اور مصائب سے گزرتا ہے لیکن جنت میں داخل ہونے کے بعد اسکے لیے صرف راحت و سکون اور دائمی خوشی مقدر ہو گی۔
سورۃ التوبہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لیے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لیے جنت ہے ‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے راہ خدا میں خرچ کر کے جنت پانے والے ایمان والوں کی مثال بیان کی ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنے جان و مال کے بدلے جنت خرید لی ہے۔
اسی طرح سورۃ محمد میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ’’ بیشک اللہ داخل فرمائے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور کافر برتتے ہیں اور کھاتے ہیں جیسے چو پائے کھائیں اور آگ میں ان کا ٹھکانا ہے ‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور کافروں کا آخرت میں حال بیان کیا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور اللہ تعالی کی رضا کے لیے اچھے کام کیے ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اور کفار دنیا میں اپنے آخرت کے انجام سے غافل ہو کر زندگی گزار رہے ہیں اور دنیاوی مال و متاع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اس کو ایسے کھاتے ہیں جیسے جانور کھاتے ہیں۔یعنی کہ جیسے جانوروں کو یہ شعور نہیں کہ کہا ں سے کھانا ہے یہی مثال کفار کی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں