اتوار، 25 جنوری، 2026

رضا ئے الہی چاہنے والوں کا مقا م و مرتبہ

 

رضا ئے الہی چاہنے والوں کا مقا م و مرتبہ

اللہ تعالی کی رضا کو حاصل کرنا ہی مومن کی زندگی کا نصب العین ہو نا چاہیے ۔ اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لیے بندے کو چاہیے کہ اپنی زندگی ان احکامات کی روشنی میں گزارے جو اللہ تعالی نے اپنے بندے کو دیے ہیں ۔ اللہ تعالی کی رضا چاہنے والوں کا مقا م و مرتبہ بہت بلند ہو گا۔ ارشاد باری تعالی ہے :تو کیا جو اللہ کی مرضی پر چلا وہ اس جیسا ہو گاجس نے اللہ کا غضب اوڑھا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور کیا بُری جگہ پلٹنے کی ۔ ( سورۃ آل عمران)۔
یعنی جو اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنی ساری زندگی شریعت مطہرہ کے مطابق ڈھال لیتا ہے اور جو اپنی زندگی اللہ تعالی کی نافرمانی میں گزارتا ہے وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے ۔رضائے الہی چاہنے والے کو اللہ تعالی جنت جیسی عظیم نعمت سے نوازے گا اور اللہ تعالی کے احکامات کی نافرمانی کرنے والوں کا ٹھکانہ انتہائی بُری جگہ جہنم ہو گی ۔ 
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنہیں قیامت کے دن کوئی گھبراہٹ نہیں ہو گی اور نہ ہی ان سے حساب و کتاب لیا جائے گا وہ لوگ مخلوق کے حساب و کتاب سے فارغ ہونے تک مشک کے ٹیلے پر ہوں گے ۔ ایک وہ شخص جس نے اللہ تعالی کی رضا کے لیے قرآن مجید پڑھا اور اس کے ذریعے کسی قوم کی امامت کی اور وہ قوم بھی اس پر راضی ہو اور اللہ تعالی کی رضا کے لیے نماز کی طرف بلانے والا یعنی اذان دینے والا اور وہ غلام جو اللہ تعالی اور اپنے آقائوں کے حقوق احسن طریقے سے ادا کرنے والا ہو ۔ (معجم صغیر )۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ اللہ تعالی کی رضا کے لیے چالیس دن تک با جماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ نما ز پڑھے اللہ تعالی اسکے لیے دو آزادیاں لکھ دیتا ہے۔ ایک جہنم سے آزادی اور دوسری نفاق سے ۔( ترمذی )۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاجو شخص اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالی  اسے جہنم سے اتنا دور کر دے گا جتنا فاصلہ ایک بچپن سے بوڑھا ہوکر مرنے تک مسلسل اڑتے ہوئے طے کر سکتا ہے ۔انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لیے بسر کریے ۔ اللہ تعالی کی رضا صرف اسی صورت ممکن ہے کہ ہم رشتہ داروں ، مساکین ، یتیموں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کریں ۔ ایک دوسرے کو بھلائی کا مشورہ دیں اور بُرائی سے روکیں ۔ صلح کرائیں اور اللہ تعالی کے دیے ہوئے مال میں سے بغیر دکھلاوے کے اس کی راہ میں خرچ کریں ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں