اہل جنت کے لیے انعامات (3)
حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اہل جنت ،جنت میں داخل ہو جائیں گے تو ایک منادی آواز دے گا اے اہل جنت ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے ایک اور وعدہ بھی ہے۔اہل جنت کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کر دیا ہے۔کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں جہنم سے نجات دے کر جنت میں داخل نہیں کر دیا ہے۔ تو منادی جواب دے گا کیوں نہیں۔تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے حجاب اقدس کو دور فرما کر اہل جنت کو اپنا دیدار کرائے گا تو جنتیوں کو اس سے زیادہ جنت کی کوئی نعمت پیاری نہ ہو گی۔( ترمذی )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :ادنی درجہ کے جنتی کے جنت میں سات درجے ہوں گے۔ یہ چھٹے پر رہتا ہو گا اس کے اوپر ساتواں درجہ ہو گا ، اس کے تین سو خادم ہوں گے اس کے سامنے روزانہ صبح و شام تین سو پیالے کھانے کے پیش کیے جائیں گے ہر ایک پیالے میں ایسی قسم کا کھانا ہو گا جودوسرے میں نہیں ہو گا اور جنتی اس کی شروع سے ایسے ہی لذت پائے گا جیسے اس کے آخر سے اور وہ یہ کہتا ہوگا اے میرے رب مجھے اجازت دے تو میں تمام جنت والوں کو کھلائوں اور پلائوں جو کچھ میرے پاس ہے۔۔ ( مسند احمد )۔
سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اور خوشخبری دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب انہیں ان باغوں سے پھل کھانے کو دیا جائے گا صورت دیکھ کر کہیں گے یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے ملا تھا اور وہ صورت میں ملتا جلتا انہیں دیا گیا اور ان کے لیے ان باغوں میں ستھری بیبیاں ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔یہ تمام نعمتیں اللہ تعالی نے ان کے لیے بنا رکھی ہیں جو دنیا میں اپنی زندگی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ﷺ میں گزارتے ہیں۔
اور دنیا کی ظاہری رنگینیوں میں گم ہو کر اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی نہیں کرتے۔ حقیقی کامیابی اس میں ہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرے اور اس جنت کا وارث بنے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں