پیر، 26 جنوری، 2026

صلہ رحمی

 

صلہ رحمی

حضور نبی کریمﷺ نے صلہ رحمی کا حکم فرمایا۔ صلہ رحمی سے مراد یہ ہے کہ رشتوں کو ٹوٹنے سے بچانا اور ان کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ صرف اس شخص کے ساتھ تعلقات مستحکم نہیں فرماتے تھے جو آپؐ سے تعلقات مستحکم کرنا چاہتا تھا بلکہ آپؐ کے ساتھ جو تعلق توڑنا چاہتا تھا آپ اس کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کے ساتھ پیش آتے تھے کہ تعلق ٹوٹنے سے بچ جاتا تھا اور اس طرح نفرتوں کی بجائے محبتیں بڑھتی تھیں۔ 
حضرت عبد اللہ بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : بدلے میں جوڑنے والا ، جوڑنے والا نہیں ہوتا۔ اصل میں جوڑنے والا وہ ہوتا ہے کہ جب اس سے تعلق توڑا جائے تو وہ پھر بھی تعلق جوڑے۔ ( السنن الکبری اللبہیقی ) 
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : کمزور رائے والے نہ ہو جائو کہ تم کہو اگر لوگ ہم سے اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی ان سے اچھا سلوک کریں گے اور اگروہ ہم پر ظلم کریں گے تو ہم بھی ان پر ظلم کریں گے بلکہ اپنے آپ کو اس چیز کا عادی بنائو کہ تم یہ سو چو کہ اگر لوگ ہم سے اچھا سلوک کریں گے تو بھی ان سے اچھا سلوک کرو گے اور اگر لوگ تم سے زیادتی کریں تب بھی تم ان پر ظلم نہیں کرو گے۔ ( ترمذی ) 
اس سے مراد یہ ہے کہ تعلقات جوڑنے میں تجارت نہیں بلکہ خیر خواہی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اور اس کی عمر دراز ہو اس سے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔ ( مسلم شریف ) 
حضور نبی کریمﷺ نے صلہ رحمی کو فضیلت والا عمل قرار دیا ۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا : بے شک فضیلت والے کاموں میں سب سے زیادہ فضیلت والا کام یہ ہے کہ تو اس شخص سے تعلق جوڑے جو تجھ سے تعلق توڑے۔ تو اسے عطا کرے جو تجھے محروم کرے اور تو اسے معاف کرے جو تجھے تکلیف پہنچائے۔ (المعجم الکبیر) 
حضور نبی کریمﷺ قطع تعلقی کو سخت نا پسند فرماتے تھے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالی کی رحمت اس قوم پر ناز ل نہیں ہوتی جس میں کوئی قطع تعلقی کرنے والاموجود ہو۔ ( شعب الایمان )
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کو ئی گزارش لے کر آپؐ کے پاس تشریف لائے تو انھوں نے عرض کیا : یا رسو ل اللہﷺ، آپ لوگوں میں سب سے زیادہ حسن سلوک کرنے والے اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم حضور نبی کریمﷺ کی تعلیما ت پر عمل کرتے ہوئے صلہ رحمی کو عام کریں تا کہ ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں