اہل جنت کے لیے انعامات (2)
قرآن مجید میں جنت کے باغات کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے گویا قاری اپنی آنکھوں سے وہ مناظر دیکھ رہا ہو۔ نہریں جو دودھ ، شہد ،خالص پانی اور شراب طہور سے بہتی ہوں گی ایسے درخت جن کے سائے ہمیشہ قائم رہیں گے اور ایسے پھل جو کبھی ختم نہ ہوں گے۔
سورۃ محمد آیت نمبر 15 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :احوال اس جنت کا جس کا وعدہ پرہیز گاروں سے ہے اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگرے اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جس کے پینے میں لذت ہے اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں اور اپنے رب کی مغفرت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم رئوف الرحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص جنت میں داخل ہو گا اسے نعمت ملے گی نہ وہ محتاج ہو گا نہ اس کے کپڑے پرانے ہوں گے اور نہ اس کی جوانی ختم ہو گی اور جنت میں وہ کچھ ہے جسے کسی آنکھ نے نہ دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال گزرا ہو گا۔ ( مسند احمد )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : سب سے پہلا گروہ جو جنت میں جائے گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے ، وہ وہاں نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے اور نہ ہی قضائے حاجت ہو گی۔ان کے برتن اور کنگھیاں سونے اور چاندی کے ہوں گے۔ ان کا پسینہ کستوری کا ہو گا۔ہر ایک کے لیے دو بیویاں ہوں گی ان کے درمیان نہ اختلاف ہو گا اور نہ بغض ان کے دل ایک دل کی طرح ہوں گے وہ صبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کریں گیں۔ ( مسلم )۔
سورۃ الرحمن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :’’ ان بچھونوں پر وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں ان سے پہلے نہ چھوا کسی آدمی نے اور نہ کسی جن نے۔تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائو گے۔گویا وہ لعل اور یاقوت اور مونگا ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں