حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۲)
حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور میری طرف سے (عہد و پیمان میں)میرے اور علی کے سوا کوئی دوسرا ذمہ داری ادا نہیں کر سکتا۔ ( ترمذی ، ابن ماجہ )۔
اکثر غزوات میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پرچم اسلام آپ ہی کو عطا کیا۔ غزوہ خیبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں پرچم دے کر فتح کی بشارت سنائی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے مسلمانو تم میں سب سے زیادہ صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت کے مالک حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے کہ اگر مجھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رفاقت حاصل نہ ہوتی تو امور سلطنت میں عمر برباد ہو جاتا۔ طریقت میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت اونچی شان اور بلند ترین مقام کے مالک تھے۔ اصول حقائق کے مشکلات کے حل پر آپ کو جو قدرت تھی اس کے بارے میں حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں’’اصول طریقت اورمصائب برداشت کر نے میں ہمارے پیر علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ‘‘۔
اگرچہ آپ نادر شجاعت کے حامل تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ فقیرانہ احساس اور عجز و انکساری کا پیکر تھے۔ جنگ کی وحشت و بربریت کا جذبہ کبھی آپ کے دل میں پیدا نہیں ہوا۔ آپ نے غازیانہ خلق عظیم کی بہترین دنیا میں مثال پیش کی آپ نے کبھی ظلم و تعدی سے کام نہ لیا اور نہ ہی فخرو غرور کی کوئی بات آپ سے سرزد ہوئی بلکہ آپ نے اپنے طرز عمل سے حلم وحیا کی روایت کو عام کیا۔ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اقوال ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چند اقول درج ذیل ہیں:
۱: آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ گناہوں کی دنیامیں یہ سزا ہے کہ عبادت میں سستی اور رزق میں تنگی ہو جاتی ہے۔ ۲: کامل فقیہہ وہ ہوتا ہے جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ کرے اور نہ ہی گناہ کرنے کی ڈھیل دے۔ ۳: حلال کی خواہش اس شخص میں پیدا ہوتی ہے جوحرام کمائی چھوڑ دینے کی پوری پوری کوشش کرتا ہے۔ ۴: سب سے بڑی دولت عقل مندی اور سب سے بڑا افلاس حماقت ہے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن کی عملی تفسیر تھے۔آپ رضی اللہ عنہ سوچ میں حکمت، کردار میں پاکیزگی ، فیصلوں میں عدل اور عبادات میں اخلاص تھا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی ایک مکمل درس گاہ ہے ایک ایسی درس گاہ جو ہر دور کے مسلمان کو حق ، عدل اور تقوی کا راستہ دکھاتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں