اللہ تعالی کی طرف سے بہت ہی آسان فلاح کا راستہ سنیے اور عمل کیجئے تاکہ ہم سب فلاح پا لیں . ہر قسم کی تفرقہ بازی اور مسلکی اختلافات سے بالاتر آسان اور سلیس زبان میں
بدھ، 31 دسمبر، 2025
منگل، 30 دسمبر، 2025
سود خوروں کا انجام (2)
سود خوروں کا انجام (2)
مستدرک حاکم کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا چار افراد ایسے ہیں جنہیں نہ تو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمائے گا اور نہ اس کی نعمتیں چکھائے گا۔ سود خور ، یتیم کا مال کھانے والا ، شراب کا عادی اور والدین کی نافرمانی کرنے والا۔
حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی کا سود کا ایک درہم لینا اللہ پاک کے نزدیک اس بندے کے حالت اسلام میں تینتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے۔ ( معجم الکبیر )۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو اور اللہ کو پسند نہیں آتا کوئی نا شکرا بڑا گناہ گار‘‘۔ ( سورۃالبقرۃ)۔
علامہ حجر بن عسقلانی ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی سود کھانے والوں کو ان کے مقاصد کے برعکس ملیا میٹ کر دے اور سود کھانے والوں کو برکت سے محروم کر دے گا چونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی پرواہ کیے بغیر ناجائز طریقے سے مال کمانے کو ترجیح دی۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نہ صرف اس مال کی زیادتی کو ختم کر دے گا بلکہ اصل مال کو بھی ختم کر دے گا جس کے نتیجے میں وہ شخص انتہائی فقر کے عالم میں زندگی بسر کرے گا۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس کے مال میں سود سے اضافہ ہوا اس کا انجام کمی پر ہی ہو گا۔ ( ابن ماجہ )۔
سود کھانے والا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ اعلان جنگ کرتا ہے۔
سور ۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ اے ایمان والواللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود، اگر مسلمان ہو۔ پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کر لو اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کا اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہنچائو نہ تمہیں نقصان ہو۔ حدیث مبارک میں نہ صرف سود کھانے والے بلکہ اس کو لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں سب پر لعنت کی ہے۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سود دینے والے ، لینے والے ، اس کے کاغذات تیار کرنے والے اور گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ یہ سب برابرکے گناہ گار ہیں۔ (مسلم )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ معراج کی رات میں نے ساتویں آسمان پر اپنے سر کے اوپر بادلوں کی سی گرج اور بجلی کی سی کڑک سنی اور ایسے لوگ دیکھے جن کے پیٹ گھڑوں کی طرح یعنی بڑے بڑے تھے ان میں سانپ اور بچھو باہر سے نظر آ رہے تھے میں نے پوچھاجبرائیل امین سے یہ کون لوگ ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ سود کھانے والے ہیں۔ ( ابن ماجہ )۔
پیر، 29 دسمبر، 2025
سود خوروں کا انجام (۱)
سود خوروں کا انجام (۱)
رزق حلال کمانا عبادت ہے اور ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے ناجائز راستہ اختیار کرنا حرام ہے۔ان ناجائز ذرائع آمدنی میں سود کے ساتھ کاروبار کرنا بھی شامل ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھائو اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لیے پہنچائو کہ لوگوں کا کچھ مال نا جائز طور پر کھالو جان بوجھ کر ‘‘۔ (سورۃ البقرۃ )۔
سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھائو مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو اور اپنی جانیں قتل نہ کرو بیشک اللہ تم پر مہربان ہے ‘‘۔
سورۃ البقرہ میں سود کی سخت الفاظ میں ممانعت کی گئی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنا دیا ہو یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود کی مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سود تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا اور اس کاکام خدا کے سپرد ہے اور جو اب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتوں رہیں گے‘‘۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سود کاکاروبار کرنے والوں کے لیے سخت وعید سنائی ہے کہ جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن اس طرح کھڑے ہوں گے جس طرح شیطان کسی کو چھو لے تو وہ پاگل بنادیا ہو۔جب وہ قیامت کے دن قبروں سے نکلیں گے تو اپنے مونہوں اور پیٹھوں کے بل گر پڑیں گے جیسے کوئی پاگل شخص ہوتا ہے۔ تفسیر درا لمنثور میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سود کھانے والا بروز قیامت دیوانوں کی طرح اپنے پہلوں کو گھسیٹتا ہواآئے گا۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے معراج کی شب دیکھا کہ دو شخص مجھے بیت المقدس لے گئے پھر ہم آگے چل دیے یہاں تک کہ ہم خون کی ایک نہر پر پہنچے جس میں ایک شخص کھڑ ا ہوا تھا اور نہر کے کنارے پر دوسرا شخص کھڑا تھا جس کے سامنے پتھر رکھے ہوئے تھے۔ نہر میں موجود شخص جب بھی باہر نکلنے کی کوشش کرتا تو نہر کے کنارے پر کھڑا شخص ایک پتھر اس کے منہ پر مار کر اسے اس کی جگہ لوٹا دیتا۔اسی طرح ہی ہوتا رہا جب وہ وہ شخص نہر کے کنارے پر آنے کی کوشش کرتا تو دوسرا شخص اس کے منہ پر پتھر مار کر اسے واپس لوٹا دیتا۔میں نے پوچھا یہ نہر میں کون ہے تو مجھے جواب ملا یہ سود کھانے والا ہے۔( بخاری )۔
اتوار، 28 دسمبر، 2025
علم بغیر عمل کے
علم بغیر عمل کے
علم وہی سود مند ہے جس پر عمل کیا جائے۔ بغیر عمل کے علم کی کوئی اہمیت نہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ان کی مثال جن پر توریت رکھی گئی تھی پھر انہوں نے اس کی حکم برداری کی گدھے کی مثال ہے جو پیٹھ پر کتابیں اٹھائے کیا ہی بْری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا ‘‘۔( سورۃ الجمعۃ )۔
سورۃ الصف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے۔کتنی سخت نا پسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ بات کہو جو نہ کرو۔ یعنی جب انسان کے پاس علم ہو اور وہ خود اس پر عمل نہ کرے لیکن لوگوں کو اس کے بارے میں تبلیغ کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو سخت نا پسند فرمایا ہے۔
صحیح بخاری میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا پھر اس کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اس کی انتڑیاں دوزخ میں بکھر جائیں گی اور وہ اس طرح گردش کررہا ہو گا جس طرح چکی کے گرد گدھا گر دش کرتا ہے دوزخی اس کے گرد جمع ہو کر اس سے کہیں گے اے فلاں کیا بات ہے ؟تم توہم کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور برائی سے روکتے تھے۔ وہ کہے گا میں تم کو نیکی کا حکم دیتا تھا اور خود نیک کام نہیں کرتا تھا اور میں تم کو توبرائی سے روکتا تھا مگرخود بْرے کام کرتا تھا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن لوگوں میں سب سے شدید عذاب میں وہ عالم مبتلا ہو گا جسے اس کے علم نے نفع نہ دیا ہو گا۔ ( شعب الایمان )۔
حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشا د فرمایا معراج کی شب میں نے کچھ لوگوں کودیکھا جو اپنے ہونٹوں کو قینچی سے کاٹ رہے تھے میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں تو جبرائیل امین نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور خود عمل نہیں کرتے تھے ،قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے لیکن اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔ ( شعب الایمان)
حضرت سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے اے اللہ میں اس علم سے جو نفع نہ دے پناہ مانگتا ہوں ،اس دل سے جو تجھ سے ڈرتا نہ ہو ،اس نفس سے جو سیر نہ ہوتا ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو تیری پناہ مانگتا ہوں۔(مسلم )۔
ہفتہ، 27 دسمبر، 2025
کثرتِ مال ایک فتنہ
کثرتِ مال ایک فتنہ
اگر آدمی کے پاس مال کم ہو تو اس سے بہت سی تکالیف اور ذلت اٹھانی پڑتی ہیں اور مال میں کثرت کی وجہ سے انسان مختلف فتنوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس لیے اسلام ہمیں اعتدال کا راستہ اختیا کرنے کا حکم دیتا ہے یعنی صرف اتنا مال رکھو جس سے آپ کی ضرورت پوری ہو جائے اور جو مال بچ جائے اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیں۔ ایسا کرنے سے انسان کی دنیا اورآخرت مال کے فتنوں سے محفوظ رہے گی۔
مال ودولت اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے کیونکہ اس کے بغیر ہمارے لیے زندگی کی گزر اوقات نا ممکن ہے۔ مگر مال کی کثرت اللہ تعالیٰ سے غفلت پیدا کرتی ہے اور آدمی بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اس لیے صوفیا ء کرام نے اللہ کا راستہ اختیار کرنے کے لیے مال کی کثرت کے فتنوں سے بچنے پر بہت زور دیا ہے۔ جب آدمی کے پاس زیادہ مال آجاتا ہے تو کسی نہ کسی بات سے انسان اصل راہ سے اتر ہی جاتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ مگر وہ فتنہ مال کی گھاٹی سے نہ گزرا۔تمہیں کیا معلوم کہ وہ مشکل گھاٹی کیا ہے۔کسی گردن کو غلامی سے آزاد کرانا یا فاقے کے وقت کھانا کھلانا رشتہ دار یتیم کو ، یا خاک نشین مسکین کو ‘‘۔ (سورۃ البلد)۔
ایک دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں‘‘۔( سورۃ التکاثر)۔
مال اور اولاد یاد الٰہی سے غفلت کا باعث بنتی ہے اس لیے اولاد کی طرف حد سے زیادہ الفت کرنے سے منع کیا گیا ہے اور ایسے ہی زیادہ مال و دولت انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ کثرت کے لالچ نے تجھے برباد کر دیا یہاں تک کہ قبرستان جا پہنچے۔ پس عنقریب جان لو گے ‘‘۔ دنیا کے مال و دولت کو بڑھانے کے لالچ میں انسان نیک اعمال کرنے سے غافل ہو گیا ہے اور ما ل و دولت اکٹھا کرنے میں اتنا مگن ہو جا تا ہے موت کو بھول جاتا ہے اور آخر کار انسان قبر میں پہنچ جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے "ہر عیب اور غیبت والے کے لیے خرابی ہے۔ جس نے مال جمع کیا اور گِن گِن کر رکھا۔ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا‘‘۔(سورۃ ہمزہ)۔
حضرت کعب بن عیاض رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا’’ : ہر امت کے لیے آزمائش کی کوئی چیز ہوتی ہے اور میری امت کی آزمائش کی چیز مال ہے ‘‘۔
جمعہ، 26 دسمبر، 2025
صبح خیزی کی برکات
صبح خیزی کی برکات
صبح خیزی یعنی سورج طلوع ہونے سے پہلے جاگنے کی عادت نہ صر ف ہماری صحت کے لیے مفید ہے بلکہ اسے بہت سارے روحانی ، ذہنی اورجسمانی فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ جو لوگ صبح جلد اٹھ جاتے ہیں وہ دوسروں کی نسبت زیادہ چا ق و چو بند ، کامیاب اور خوشحال ہوتے ہیں ۔ قرآن و حدیث میں بھی صبح جلدی جاگنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرو سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے ۔ (سورۃ طہٰ)
قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ کی روشنی میں صبح کے وقت عبات کرنا اور ذکر الٰہی میں مشغول ہونا نہایت موزوں عمل ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے بھی صبح جلدی جاگنے کی ترغیب دیتے ہوئے دعا فرمائی : اے اللہ میری امت کے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما (ابو دائود)
صبح جلدی اٹھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہمیں فجر کی نماز ادا کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور دن کا آغاز اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں سے ہوتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ مجھے صبح کی دو سنتیں اس دنیا اور اس دنیا میں جو کچھ ہے سب سے زیادہ عزیز ہیں ۔ صبح کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہونے سے دلوں کو سکون ملتا ہے اور بندہ دن بھر سکون اور اطمینان میں رہتا ہے ۔ صبح جلدی جاگنے کے روحانی فوائد کے علاوہ بہت سارے جسمانی اور ذہنی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں ۔ صبح کی تازہ ہوا آلودگی سے پاک ہوتی ہے اور دماغی صلاحیتوں کو بڑھاتی ہے ۔ صبح جلد اٹھنے والے لوگ دل کی بیماریوں ، موٹاپے اور ذہنی دبائو سے محفوظ رہتے ہیں ۔ دنیا کے تمام کامیاب لوگ صبح جلدی اٹھنے کو اپنی کامیابی کا راز بتاتے ہیں اور جو صبح جلدی اٹھتے ہیں وہ لوگ زیادہ منظم ، کامیاب اور خوشحال زندگی گزارتے ہیں۔ صبح جلدی اٹھنے کے لیے ضروری ہے کہ رات کو جلدی سو جائیں ۔ رات کو سونے سے پہلے موبائل اور ٹی وی کا استعمال کم کریں تا کہ رات کو بہتر طریقے سے نیند آسکے ۔ فجر کی نماز کی پابندی کریں اس طرح ہمیں صبح جلدی جاگنے کی عادت ہو جائے گی ۔ صبح خیزی انسان کی زندگی میں برکت کامیابی اور خوشحالی لاتی ہے ۔ صبح جلدی اٹھنے سے نہ صرف روحانی فوائد حاصل ہوتے ہیں بلکہ بے شمارجسمانی اور ذہنی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صبح جلدی اٹھنے کی عادت بنائیں تاکہ ہماری زندگی میں نظم و ضبط اور برکت پیدا ہوسکے اور ہم ایک صحت مند اور کامیاب زندگی گزار سکیں ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ارشاد فرماتی ہیں طلب معاش اور ضروریات کی تکمیل کے لیے صبح سویرے جلدی ااٹھو ، صبح خیزی برکت اور کامیابی ہے ۔ (طبرانی معجم الاوسط)
جمعرات، 25 دسمبر، 2025
فقر کی فضیلت
فقر کی فضیلت
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں۔صبح و شام اس کی رضا چاہتے ہیں۔ آ پ پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اوران پر آپ کے حساب سے کچھ نہیں۔ پھر آپ انہیں دور کریں تو یہ کام انصاف سے بعیدہے۔ اور اسی طرح ہم نے آزمائش میں ڈال دیا بعض کو بعض سے تا کہ وہ کہیں : کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے احسان کیا ہے ہم میں سے۔کیا اللہ نہیں جانتا ان سے زیادہ شکر کرنے والوں کو ‘‘۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے کہ اس امت کے سب سے بہترین لوگ فقراء ہیں اور سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے کمزور لوگ ہیں۔
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : میری دو باتیں۔ جو انہیں پسند کرتا ہے وہ مجھے پسند کرتا ہے جو انہیں برا سمجھتا ہے ، وہ مجھے برا سمجھتا ہے۔ فقر اور جہاد۔
روایت ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی ، اللہ تعالیٰ آپ کو سلام فرماتا ہے اور فرماتا ہے اگر آپ ؐ چاہیں تو پہاڑ سونے کے بنا دو ں جو آپؐ کے ساتھ ساتھ رہیں۔ حضور ﷺ نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد فرمایا کہ اے جبرائیل یہ دنیا تو اس کا گھر ہے جس کاآخرت میں کوئی گھر نہ ہو ، یہ اس کی دولت ہے جس کے پاس آخرت میں کوئی دولت نہ ہو اور اسے وہ ہی جمع کرتا ہے جس کے پاس عقل نہ ہو۔ جبرائیل علیہ السلام بولے ، اے اللہ کے نبی ! اللہ تعالیٰ آپ کو اسی حق و صداقت پر قائم رکھے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ میں نے جنت کو دیکھا اس میں اکثر فقراء تھے میں نے جہنم کو دیکھا اس میں اکثر مال دار اور عورتیں تھیں۔ ایک روایت میں ہے کہ میں نے پوچھا ، کہ مال دار کہاں ہیں ؟ تو مجھے بتایا گیا کہ انہیں مال داری نے گرفتار کر لیا ہے۔
حضرت کعب الا حبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام سے فرمایا جب تم فقر کو آتے دیکھو تو کہنا ، خوش آمدید اے نیکیوں کے لباس۔ حضرت موسی علیہ السلام ایک ایسے شخص کے پا س سے گزرے جو اینٹ کا تکیہ بنائے کمبل میں لپٹا ہوا زمین پر سو رہا تھا اوراس کی داڑھی اور تمام چہرہ گرد آلود ہو رہا تھا۔ موسی علیہ السلام نے عرض کی اے اللہ تعالیٰ ! تیرا یہ بندہ دنیا میں برباد ہو گیا ، اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کی طرف وحی کی اور فرمایا آپ کو پتہ نہیں جب میں کسی بندے پر اپنے کرم کے دروازے مکمل طور پر کھول دیتا ہوں تو اس سے دنیا کی الفت ختم کر دیتا ہو ں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : فقر دنیا میں مومن کے لیے تحفہ ہے۔
بدھ، 24 دسمبر، 2025
غصہ پینے کی فضیلت
غصہ پینے کی فضیلت
غصہ کرنا انتہائی بری عادت ہے۔ اس سے بہت سارے کام بگڑ جاتے ہیں اور انسان بہت سے قیمتی رشتوں کو کھو بیٹھتا ہے۔غصہ کرنے سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اپنی دنیا اور آخرت بہتر بنانے کے لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے اندرسے غصہ جیسی بری عادت کو ختم کریں۔ جو لوگ اپنے غصہ پر قابو رکھتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ اپنے پسند یدہ بندے قرار دیتاہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔ ( سورۃ آل عمران )۔
سورۃ الشوری میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’ اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی سے پرہیز کرتے ہیں اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں ‘‘۔ ’’ اور برائی کا بدلہ اسی کے برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنوار لیا تو اس کا اجر اللہ پر ہے بیشک وہ دوست نہیں رکھتاظالموں کو ( سورۃ الشوری)۔
بخاری شریف میں ہے کہ ایک شخص نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کیا مجھے وصیت فرمائیں۔ آپ نے فرمایاغصہ مت کیا کرو اس نے پھر عرض کی یارسول اللہ ؐ مجھے وصیت فرمائیں تو آپؐ نے پھر یہی فرمایا کہ غصہ مت کیا کرو۔ (بخاری شریف)۔
حضرت سیدنا ابو الدردا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور ﷺ کی بارگاہ اقدس میں عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل ارشاد فرمائیں جو مجھے جنت میں لے جائے تو آپ ؐ نے فرمایا غصہ نہ کرو ، تو تمہارے لیے جنت ہے۔ ( مجمع الزوائد)۔
بخاری شریف میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ طاقتور وہ نہیں جو بچھاڑ دے بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے عذاب روک لے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عذر پیش کیا اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرمائے گا۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس غصہ کے گھونٹ سے بہتر گھونٹ نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطرپی لیا گیا۔ ( اشعۃ اللمعات )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو غصہ پی جائے گا حالانکہ کہ وہ نافذ کرنے پر قدرت رکھتا تھا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو اپنی رضا سے معمور فرمائے گا۔ ( کنزالعمال)۔
منگل، 23 دسمبر، 2025
احترام انسانیت
احترام انسانیت
انسان اپنے دل میں جس شخص کے لیے قدر رکھتا اور جس کا احترام کرتا ہو وہ نہ کبھی اس کی عزت پر حملہ آور ہو گا اور نہ ہی اس کی جان لینے کی کوشش کرے گا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے امن کی بنیاد احترام انسانیت کو قرار دیا۔ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے احترام انسانیت کا درس دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : تمہارے خون ، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں اس طرح قابل احترام ہیں جیسے آج کے دن یہ شہر قابل احترام ہے ‘‘۔ ( شعب الایمان للبہیقی )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے مومن کی علامت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :’’ مومن وہ ہوتا ہے جس سے لوگوں کے خون اور ان کی عزتیں محفوظ رہیں ‘‘۔ ( ترمذی )۔حضور نبی کریم ﷺ نے کسی بھی اختلاف کے بغیر احترام انسانیت کا درس دیا۔ ایک بار حاتم طائی کی بیٹی قیدی ہو کر آپﷺ کی بارگاہ میں آئی تو اس کا سر ننگا تھا تو آپ نے اپنی چادر مبارک سے اس کا سر ڈھانپ دیا۔ بقول علامہ محمد اقبال :
دخترک را چوں نبیﷺ بے پردہ دید
چادر خود پیش روئے اوکشید
احترام انسانیت ہی کی وجہ سے آپ ﷺ نے حالت جنگ میں بھی ان لوگوں کو قتل کر نے سے منع فرمایاجو جنگ میں عملی شریک نہ ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا : کسی بوڑھے کو قتل نہ کرو اور نہ ہی کسی بچے اور (جنگ میں حصہ نہ لینے والی کسی ) عورت کو قتل کرو۔(السنن الکبری للبہیقی )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے طبقاتی کشمکش کو ختم کر کے ہر شخص کی عزت و آبرو کے تحفظ کو یقینی بنانے کا حکم دیا۔ آپﷺ نے مذہب و ملت کی تفریق کیے بغیر ہر انسان کا احترام کرنے کا حکم فرمایا۔ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک جنازہ گزرا۔ جنازہ دیکھ کر آپﷺ کھڑے ہو گئے۔ کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا تو آپ ﷺ نے فر مایا : کیاوہ انسان نہیں تھا۔ (السنن الکبری للبہیقی )۔دشمنوں سے تما م تر اختلاف کے با وجود ان سے معاملہ کرتے ہوئے انسانی قدریں نمایا ں ہونی چاہیے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے جنگ و جدل کے موقع پر بھی دشمن کو تکلیفیں دینے اور اسے باندھ کر مارنے سے منع فرمایا : حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ آپ نے دشمن کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا۔( ابی دائود ) امن و امان کا جو وجود ختم ہو چکا ہے اگر ہم حضور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کر تے ہوئے اپنے دلوں میں احترام انسانیت کواپنا لیں تو معاشرے کو دوبارہ امن کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔
پیر، 22 دسمبر، 2025
دوست ہی دوست کا مصلح ہوتا ہے (۲)
دوست ہی دوست کا مصلح ہوتا ہے (۲)
مسلم شریف کی روایت ہے جس میں ان لوگوں کو خوش خبری سنائی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی محافل میں بیٹھتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کچھ لوگ ذکر الٰہی کی محفل میں بیٹھے تھے اور فرشتے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ فلاں آدمی بڑا گناہ گار تھا وہ یہاں سے گزرتے ہوئے محفل میں بیٹھ گیا ۔تو نبی کریم ﷺ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے انہیں بھی بخش دیا ہے ۔یعنی ذکر الٰہی کرنے والے ایسے خوش نصیب ہیں جن کی صحبت اختیار کرنے والے بھی بد نصیب نہیں ہوتا ۔ (مسلم )
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو علماء کی صحبت میں بیٹھا وہ میری صحبت میں بیٹھا اور جو میری صحبت میں بیٹھا یقینا وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بیٹھا ۔ ( کنزل العمال )
آپ ﷺ نے فرمایا تم علماء کی صحبت میں بیٹھنا اور دانا لوگوں کی باتوں کو دھیان سے سننا لازم پکڑ و کیونکہ اللہ تعالیٰ دانائی و حکمت کے نور سے مردہ دل کو زندہ کرتا ہے جیسا کہ مردہ بنجر زمین کو بارش زندہ کر دیتی ہے ۔ ( معجم الکبیر )
حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا صرف مومن شخص کی صحبت ہی اختیار کر اور تیرا کھانا صرف متقی شخص کھائے ۔ ( ابی دائود )
بیشک انسان کی زندگی پر اچھی صحبت اچھے اثرات مرتب کرتی ہے کیونکہ اچھا دوست آپ کو خیر اور بھلائی کی جانب لے کر جاتا ہے اور آپ کو دین و دنیا کی بہتری کے لیے مشورہ دیتا ہے ۔آپ کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کی طرف راغب کرتا ہے اورآپ کو بُرے اخلاق سے نکال کر اچھے اخلاق سکھاتا ہے ۔ اس کے برعکس بُرے دوست انسان کو دین سے دور کرتے ہیں اور کبھی بھی اچھا مشورہ نہیں دیتے اور انسان کو دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی برباد کر دیتے ہیں ۔ تاریخ ابن عساکر میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بُرے ساتھی سے بچو کیونکہ تم اسی کے ساتھ پہچانے جائو گے ۔
ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اور اس کے طور طریق پر ہوتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ وہ دیکھے کہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔ ( مسند احمد )
مندرجہ ذیل قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے انسان جن کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے ان کی سوچ اور عقائد اس پر لازمی اثر چھوڑتے ہیں لہذا ہمیں چاہیے کہ اچھے دوست بنائیں اور بُری صحبت سے بچیں ۔
اتوار، 21 دسمبر، 2025
دوست ہی دوست کا مصلح ہوتا ہے (۱)
دوست ہی دوست کا مصلح ہوتا ہے (۱)
دوستی ایک ایسا رشتہ ہے جو انسان کی زندگی کو بگاڑتا بھی ہے اور سنوارتا بھی ہے۔اس لیے ہمیں زندگی میں کسی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں یہ دوستی ہمیں دین سے دور نہ کر دے۔ اس لیے ہمیں ایسی صحبت اختیار کرنی چاہیے جو ہمیں دین کے ساتھ جوڑے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے اور تمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں۔ کیا تم دنیا کا سنگھار چاہو گے اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا۔ ( سورۃ الکہف )۔
یعنی دنیا میں ایسے دوست بنائو جو صبح و شام ذکر الٰہی میں مشغول رہتے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتے ہوں اور ان سے دور رہو جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہیں اوراللہ تعالیٰ کی رضا کی بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔
مسلم کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم ان سے دور رہو وہ تم سے دور رہیں کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔ مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
صحبت صالح تْر ا صالح کند
صحبت طالع تْرا طالع کند
یعنی جب انسان اچھی صحبت اختیار کرے گا تو اچھا بن جائے گا اور جب بری صحبت اختیار کرے گا تو گناہوں میں مبتلا ہو جائے گا۔
احادیث مبارکہ میں ہے کہ اچھا رفیق وہ ہے جس کو دیکھنے سے تمہیں خدا یاد آ جائے اور اس کی گفتگو سے تمہارے عمل میں زیادتی ہو اور اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔ (شعب الایمان )۔
امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایسی چیز میں نہ پڑو جو تمہارے لیے مفید نہ ہو اور دشمن سے الگ رہو اور دوست سے بچتے رہو مگر جبکہ وہ امانت دار ہو کیونکہ امین کی برابری کا کوئی نہیں اور امین وہی ہے جو اللہ سے ڈرے اور فاجر یعنی جو اللہ اور اس کے رسو ل ﷺ کا نافرمان ہو اس سے دور رہو کہ وہ تمہیں بھی نافرمان بنا دے گا اور اس کے ساتھ راز کی بات نہ کرو اور اپنے کا م میں ان سے مشورہ کرو جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ (شعب الایمان )۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو اور سچو ں کے ساتھ رہو۔یعنی ان لوگوں کے ساتھی بنو جو ایمان میں سچے اور مخلص ہیں اور نبی کریم ﷺ سے سچے دل سے محبت کرتے ہیں۔
ہفتہ، 20 دسمبر، 2025
دل کی سختی
دل کی سختی
دل کی سختی ایک ایسا مرض ہے جو انسان کویاد الٰہی سے غافل کر کے اللہ کی رحمت سے دور کردیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآ ن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : ’’پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے تو وہ پتھروں کی مثل ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ کَرے اور پتھروں میں تو کچھ وہ ہیں جن سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور کچھ وہ ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ وہ ہیں کہ اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں اور اللہ تمہارے فعل سے بے خبر نہیں ‘‘۔ ( سورۃ البقرۃ)۔
سورۃ الحدید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’کیا ایمان والوں کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد اور اس حق کے لیے جو اترا اور ان جیسے نہ ہوں جن کو پہلے کتاب دی گئی پھر ان پر مدت دراز ہوئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں بہت فاسق ہیں۔کنزالاعمال میں ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا چھ چیزیں ایسی ہیں جو اعمال کو ضائع کر دیتی ہیں۔مخلوق کے عیوب تلاش کرنا ، دل کی سختی ، دنیا کی محبت ، حیا کی کمی ، لمبی امیدیں اور حد سے زیادہ ظلم۔دل کی سختی کی تین علامات ہیں جن میں یہ موجود ہوں سمجھ لیں ان کا دل سخت ہو چکا ہے۔ دل سے عبادت کی لذت کاختم ہو جانا، دل میں نافرمانی کی کڑواہٹ کا محسوس نہ ہونا اور حلال کو بلا دلیل مشکوک سمجھنا۔ ترمذی شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا فحش گوئی سخت دلی سے ہے اور سخت دلی آگ میں ہے۔
حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے ذ کر کے بغیر زیادہ باتیں نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ذکرکے بغیر زیادہ باتیں دل کی سختی ہیں اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ دور وہ لوگ ہیں جن کے دل سخت ہیں۔
حضرت سیدنا یحییٰ معاذ رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو پیٹ بھر کر کھانے کا عادی ہو جاتا ہے اس کے بد ن پر گوشت بڑھ جاتا ہے اور جس کے بدن پر گوشت بڑھ جاتا ہے وہ شہوت پرست ہو جاتا ہے اور اس کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور جس کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اس کا دل سخت ہو جاتا ہے اور جس کا دل سخت ہو گیا وہ دنیا کی آفتوں اور رنگینیوں میں غرق ہوجاتا ہے۔ ( مرآۃلمناجیح)۔
حضرت سیدنا معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں دنیا چار چیزوں کا نام ہے :مال ، کلام ، سونا اور کھانا۔کیونکہ مال سر کشی کا سبب ہے ، کلام لہو ولعب میں مبتلا کر دیتا ہے ،نیند غافل کر دیتی ہے اور کھانا دل کی سختی سے ہے اور سخت دلی آگ میں سے ہے۔
جمعہ، 19 دسمبر، 2025
حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
جنگ بدر کے موقع پر عبدالرحمن بن ابو بکر ؓ مشرکین مکہ کی طرف سے لڑ رہے تھے ۔ جب اسلام قبول کیا تو اپنے والد سیدنا صدیق اکبر ؓ سے کہنے لگے بدر کے روز آپ کئی بار میری تلوارکی زد میں آئے لیکن میں نے باپ سمجھتے ہوئے اپنا ہاتھ روک لیا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ اگر تو میری تلوار کی زد میں آتا تو میرا نشانہ خطا نہ ہوتا کیونکہ تو میرے محبو ب ﷺ کے دشمنوں کی صف میں کھڑا تھا ۔ (ابن عساکر)
حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں خشیت الٰہی اس قدرتھی کہ خوف محشر اور عبرت پذیری سے کائنات کا ذرہ ذرہ ان کے لیے دفتر عبرت تھا ۔ کسی سایہ دار درخت کے نیچے چڑیا دیکھتے تو فرماتے اے چڑیا تو بڑی خوش نصیب ہے کہ اس جہاں میں چگتی ہو اور درختوں کے سائے میں آرام کرتی ہو‘ قیامت میں تمہارا کوئی حساب کتاب نہیں ہو گا ۔
کاش ابو بکر ؓ بھی تجھ جیسا ہوتا ۔ کبھی سر سبز درخت کو دیکھتے تو فرماتے کاش میں درخت ہوتا اور اخروی خطرات سے محفوظ رہتا ۔ حرام کا لقمہ کبھی نہ کھایا آپؓ فرماتے تھے جس بدن نے حرام کھانے سے پرورش پائی دوزخ اس کا اعلی ترین مسکن ہے ۔
حضرت سیدنا ابو بکر صدیق ؓ نے اپنی تریسٹھ سالہ زندگی خشیت الٰہی ، زہد و تقوی ، صدا قت و دیانت، سادگی اور کفایت شعاری اور خشوع خضوع کے ساتھ گزاری ۔ آپؓ نے قبل از اسلام اور اسلام قبول کرنے کے بعد کبھی بھی شراب نوشی نہیں کی۔ اور نہ ہی کبھی بتوں کے سامنے سجدہ کیا ۔
آپؓ بہت سادگی پسند تھے‘ خلافت کاعہدہ سنبھالنے کے باوجود فقرو فاقہ میں زندگی بسر کی ۔جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رحلت فرمائی تو ترکے میں صرف ایک قمیض ، ایک غلام اور ایک اونٹ چھوڑا ۔ رحلت سے قبل آپؓ نے فرمایا کہ خلیفہ بننے کے بعد میں نے بیت المال سے کتنی رقم حاصل کی حساب لگایا تو چھ ہزار درہم بنے ۔ آپ نے فرمایا کہ میرا باغ فروخت کر کے یہ رقم ادا کی جائے اور میرے مال میں جو بھی چیز ضرورت سے زیادہ ہے وہ حضرت عمر فاروقؓ کو بھیج دی جائے تاکہ وہ یہ سب کچھ بیت المال میں جمع کرلیں ۔
یہ سب دیکھ کر حضرت سیدنا عمر فاروق ؓ کا یہ عالم تھا کہ آپ ؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور آپؓ بے اختیار پکار اٹھے اے ابو بکر صدیق ؓ ! اللہ تعالیٰ آپ ؓ پر رحمت کرے آپ نے وصال کے بعد بھی خشیت الٰہی کا دامن نہیں چھوڑا اور کسی کو نکتہ چینی کا موقع نہ دیا ۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 22جما دی الثانی کو وصال فرمایا۔
جمعرات، 18 دسمبر، 2025
بدھ، 17 دسمبر، 2025
حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ(۱)
حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ(۱)
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پہلا نام عبد الکعبہ تھا۔ پھر حضور نبی کریم ﷺ نے آپ کا نام عبد اللہ رکھا۔ آپ کی ولادت باسعادت عام الفیل سے تقریبا ً اڑھائی سال بعد ہوئی۔ آپ کے والدماجد کا نام ابی قحافہ عثمان ؓ بن عامر تھا۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہ کفر و شرک کا ماحول تھا۔ شراب نوشی اور زنا کاری کو کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا تھا۔اس دور میں بھی آپ فطری طور پر ان برائیوں سے دور رہے۔ کبھی کسی بت کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا کرتے تھے۔آپ کی عمر مبارک تقریبا اڑتیس برس تھی جب حضور نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا۔ آزاد مردوں میں آپؓ کو سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ نبی کریم رئوف الرحیم ﷺ کی صحبت سے فیضیاب ہونے اور تعلیم و تربیت سے آپکے محاسن کو مزید جلا اور تقویت ملی اور آپ کی شخصیت میں وہ نکھار پیدا ہواکہ آپ افضل البشر بعد الانبیاء قرار پائے۔اسلام قبول کرنے کے بعدحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا تن من دھن ہر چیز اسلام کی اشاعت و ترویج کے لیے وقف کر دی۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓنے جب اسلام قبول کیا تو آپ کے پاس پچاس ہزار درہم تھے آپ نے خوب دل کھول کر انہیں خرچ فرمایا۔تقریباً ۹ غلام اور لونڈیاں جو مسلمان ہو چکے تھے انہیں خرید کر آزاد فرمایا۔ جن میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تبلیغ سے بہت سے صحابہ کرام حلقہ بغوش اسلام ہوئے۔ جن میں حضرت عثمان بن عوف ؓ ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ، حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ، حضرت زبیر بن العوام ، سعد بن ابی وقاص ، ابو عبیدہ بن الجراحؓ جیسی ہستیاں شامل ہیں۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک رات آسمان پر ان گنت ستارے چمک رہے تھے۔ آپ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ آپ کے کسی امتی کی اتنی نیکیاں ہیں جتنے آسمان کے ستارے ہیں۔ آپ نے فرمایا!ہاں اتنی نیکیاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہیں۔ آپ فرماتی ہیں میں نے عرض کی میرے والد ماجد ابو بکر صدیقؓ کی نیکیاں کتنی ہیں ؟ تو آپ نے فرمایاحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک غار ثور والی نیکی حضرت عمر ؓ کی سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے۔ ( مشکوۃ شریف)۔
منگل، 16 دسمبر، 2025
پیر، 15 دسمبر، 2025
حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ(2)
حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ(2)
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو مدینہ منورہ سے اس قدر محبت تھی کہ کسی صورت بھی وہاں سے نکلنا گوارہ نہ کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک غلام نے تنگدستی کی وجہ سے مدینہ منورہ سے ہجرت کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو شخص مدینہ کے مصائب پر صبر کر ے قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا۔ آپ کو اہل بیت سے بھی بے پناہ محبت تھی۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ خوف خدا اور روز جزا سے ہر وقت لرزہ طاری رہتا تھا۔ اگر کسی آیت میں آخرت کا ذکر ہوتا تو رونے لگ جاتے تھے۔خشیت الٰہی نے ان کے دل میں جہاد اور عبادت کا ایسا شوق پیدا کیا کہ ان کے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔ جوانی سے لے کر بڑھاپے تک جہادفی سبیل اللہ میں حصہ لیتے رہے۔ عبادت کی یہ کیفیت تھی کہ قیام اللیل اور دائم الصوم تھے۔ آپ زہد و تقوی میں بے مثال تھے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ عنہ نہایت فیاض اور سخی تھے۔ کسی سائل کو اپنے دروازے سے خالی ہاتھ نہ لٹاتے تھے۔ بیسوں فقرااور مساکین آپ کے دستر خواں پر پرورش پاتے تھے۔ عموما کسی مسکین کو اپنے ساتھ بٹھائے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے ایک مرتبہ آپکو مچھلی کھانے کی خواہش ہوئی جب مچھلی بھون کر سامنے رکھی تو ایک سائل کا گزرہوا تو اپنی مچھلی اٹھا کر اس سائل کو دے دی۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نہایت نرم دل اور خوش اخلاق تھے۔غلاموں اور نوکروں کے ساتھ بہترین سلوک کرتے۔ کھانے کی میز پر بیٹھتے تو غلاموں اور مسکینوں کو برابر بٹھاتے اور فرماتے یہ بھی اللہ کے بندے ہیں اور ان کی عزت کرنا بھی عبادت ہے۔ فقہی مسائل میں ان کی احتیاط مشہور تھی۔ حلال و حرام کے سلسلے میں ذرا سی لغزش بھی برداشت نہ کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ہم بہت سے جائز کام بھی اس خوف سے چھوڑ دیتے ہیں کہ کہیں وہ ہمیں کسی مشتبہ چیز کے قریب نہ کر دیں۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی زندگی کا محور محبت رسول ﷺ تھا۔آپﷺ کے حجرے ، لباس ، راستے ، مسجد نبوی کے ستون ہر چیز سے وہ ایسی محبت کرتے تھے کہ ان جگہوں پر بیٹھ کر حضورﷺ کی یاد میں آنسو بہاتے۔آپ کے نزدیک اصل خیر ، برکت ، نجات اور کامیابی صرف اسی اتباع میں تھی۔آپ ﷺ کے فضائل و مناقب کا احاطہ کرنا ممکن نہیں مگر ان کی سیرت ہمارے لیے واضح درس رکھتی ہے کہ کامیابی ذاتی خواہشات میں نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسو ل ﷺ کی اتباع میں ہے۔
اتوار، 14 دسمبر، 2025
ہفتہ، 13 دسمبر، 2025
حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ(۱)
حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ(۱)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا شمار ان عظیم صحابہ کرام رضو ان اللہ علیہم اجمعین میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں نہ صرف اپنے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کی بلکہ قرآن ، فقہ عبادت ، زہد اور اخلاق میں امت کے لیے ایسے نقوش چھوڑے جن پر چل کر آج بھی دین کی سمجھ اور معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ آپ کی حیات مبارکہ قربانی ، اخلاص ، ثابت قدمی اور اتباع سنت کا بے مثال نمونہ ہے۔
بچپن میں ایام جاہلیت میں آپ عقبہ بن معیط کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ ایک دن نبی کریم ﷺ اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا اور آپ کو بکریاں چراتے دیکھ کر صدیق اکبرؓنے کہا تمہارے پاس کچھ دودھ ہے جسے پی کر ہم اپنی پیاس بجھا سکیں۔حضرت عبد اللہ ؓ نے کہا کہ میں دودھ نہیں دے سکتا میرا مالک ناراض ہو گا۔آپ نے فرمایا تمہارے پاس کوئی ایسی بکری ہے جو دودھ نہ دیتی ہو۔آپ نے وہ بکری پیش کی۔ آپ نے اس بکری کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ بکری دودھ سے لبریز ہو گئی۔ سیدنا صدیق اکبرؓ نے اس بکری کا دودھ دوھا اور آپؓ کے ساتھ صدیق اکبر اور حضرت عبد اللہ ؓ نے خوب سیر ہو کر پیا۔اس کے بعد بکری کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا وہ پہلے کی طرح دوبارہ خشک ہو گئے۔حضور نبی کریم ﷺ کے اس معجزہ کو دیکھ کر آپ بہت زیادہ متاثر ہوئے اور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی کہ مجھے اس کلام کی تعلیم دیں۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے شفقت کے ساتھ ان کے سر پرہاتھ پھیر ااور فرمایا کہ تم تعلیم یافتہ بچے ہو۔آپ مشرف بہ اسلام ہونے کے بعدشب و روز حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتے اور سر چشمہ علم سے خود کو منور کرتے۔
حضور نبی کریمﷺ نے آپؓ کو گھر میں آنے جانے کی خصوصی اجازت دے رکھی تھی۔ آپ آپ کی نعلین مبارک اٹھاتے، مسواک رکھتے اور سفر کے موقع پر کجاوہ کسنا آپ کا معمول تھا۔
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم یمن سے مدینہ میں حضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود کو اس قدر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آتے جاتے دیکھ کر آپ خاندان رسالت کا رکن سمجھنے لگے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں نے ستر سے زائد سورتیں خود براہ راست آپ سے سنیں۔ قرآن کو سمجھنے ، اس کے معانی کو جاننے اور اس کے احکام پر عمل کرنے میں آپ کی مہارت بے مثال تھی۔
جمعرات، 11 دسمبر، 2025
حرص و لالچ اور کنجوسی
حرص و لالچ اور کنجوسی
حرص و لالچ انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا ہر انسان حرص و لالچ میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے وہ بے شمار مصائب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔یہ ایک ایسی بیماری ہے کہ جب انسان اس میں مبتلا ہو جاتا ہے تو انسان کے دل میں مزید کی تمنا بڑھتی چلی جاتی ہے ۔
حضورنبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : انسان کے پاس اگر دو بڑے میدان سونے کے انباروں سے بھر جائیں پھر بھی اس میں تیسرے کی تمنا رہے گی یہاں تک کہ وہ منوں مٹی کے نیچے نہیں پہنچ جاتا ۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن اس کی دو چیزیں ہمیشہ جوان رہتی ہیں ایک مال کی حرص اور دوسری عمر کی حرص ( بخاری )
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : مرتبے کے لحاظ سے قیامت کے روز سب انسانوںسے بد تر وہ ہو گا جس نے دوسرے کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت خراب کر لی ۔ ( ابن ماجہ )
اگر انسان یہ بات ذہن نشین کر لے کہ جو چیز ہماری قسمت میں لکھی جا چکی ہے وہ عمر ہو یا دولت وہ مل کر ہی رہنی ہے وہ بدل نہیں سکتی تو انسان حرص و لالچ سے بچ جائے گا ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : آدمی کی نجات تین چیزوں میں ہے اول یہ کہ ظاہر اور باطن میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے دوسرا یہ کہ امیر ہو یا فقیر خرچ میں میانہ روی اختیار کرے اور تیسرا یہ کہ غم ہو یا خوشی ہر حال میں انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دے ۔
مزید ارشاد فرمایا : جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے‘ اللہ تعالیٰ اسے دنیا سے بے نیاز کر دیتا ہے اور جو شخص فضول خرچی کرتا ہے اللہ اسے ددسروں کا محتاج بنا دیتا ہے اور فرمایا خرچ کرتے وقت تدبیر اور آہستگی سے کام لو یہ قدم آدھی روزی سے تعلق رکھتا ہے ۔
حرص و لالچ اور مال جمع کرنے کی عادت ہی انسان کو کنجوس بنا دیتی ہے اور وہ ہر معاملے میں بخل اور کنجوسی سے کام لیتا ہے ۔ کنجوسی بہت بُری عادت ہے۔ اس عادت میں مبتلا انسان دوسروں کا حق مارتا ہے اور اس میں انتہائی تنگ نظری پیدا ہونے لگتی ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سخی اللہ کے قریب ہے، جنت سے قریب ہے،انسانوں سے قریب ہے ، جہنم سے دور ہے اور فرمایا بخیل اللہ تعالیٰ سے دور ہے ، جنت سے دور ہے ، انسانوں سے دور ہے ، جہنم سے قریب ہے اور جاہل سخی عبادت گزار بخیل سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو پیارا ہے ( مشکوۃ شریف)
بدھ، 10 دسمبر، 2025
پیروی اسوہ ٔرسول ﷺکامیابی کاراستہ
پیروی اسوہ ٔرسول ﷺکامیابی کاراستہ
اللہ تبارک تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر بھیجا تو اولاد آدم کو ساتھ یہ بات بھی بتا دی کہ میں تمہیں دنیا میں بے یا رو مدد گار نہیں چھوڑوں گا بلکہ تمہاری راہنمائی کا مکمل انتظام کروں گا۔ جو لوگ میری اطاعت کریں گے وہی دنیا و آخرت میں کامیاب ہو ں گے اور جو لوگ میری نا فرمانی کریں گے ان کے لیے سخت عذاب تیارکر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور رسل مبعوث فرمائے اور کئی آسمانی صحیفے اور کتابیں نازل کیں۔ انسانوں کی راہنمائی کے لیے انبیاء کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا وہ حضور نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ پر ختم ہوا۔ تمام انبیاء کسی خاص علاقے یا پھر کسی خاص قوم کی طرف مبعوث فرمائے گئے اور ہر ایک نبی کی نبوت وقتی تھی لیکن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت دائمی ہے۔ آپ ؐ تمام جہانوں کے لیے رحمۃ اللعالمین ہیں اور آپ ؐ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید آخری کتاب ہے اور آپ ؐ کا دین آخری دین ہے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر لحاظ سے ، ہر پہلو اور ہر حوالے سے ایک کامل ترین دین کی موجودگی میں اگر کوئی شخص ہدایت اور راہنمائی کے لیے کسی دوسرے دین کی طرف دیکھتا ہے تو اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کو ئی شخص دن کی روشنی میں چراغ جلا کر کھلے میدان کوئی چیز تلاش کرے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک پوری انسانیت کے لیے بغیر کسی رنگ و نسل و امتیاز کے ہر علاقے ، ہر قوم ، ہر حاکم و محکوم ، ہر امیر و غریب اور ہر چھوٹے اور بڑے کے لیے رسول اور رحمت کا پیکر ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی ذات مقدسہ میں ہر انسان اور ہر خاص و عام کے لیے بہترین نمونہ موجود ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ لوگو! تم سب کے لیے اللہ کے رسول (ﷺ) کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ‘‘۔
کوئی آدمی بیٹا ہے یا باپ ، بھائی ہے ، شوہر ہے ، دوست ہے ، پڑوسی ہے ، خطیب ہے ، معلم ہے ، تاجر ہے ، مزدورہے ، حاکم ہے یا محکوم ہے جو بھی ہے ان سب کے لیے حضور نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ میں راہنمائی موجودہے۔خواتین ، مائوں ، بہنوں ، بیٹیوں کے لیے حضرت خدیجۃ الکبری ، حضرت عائشہ ، حضرت فاطمۃ الزہرہ اور دوسری امہات المومنین کی زندگیوں میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ اگر ہم دنیا و آخرت میں سر خرو ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں لازمی طور پر اسوہ رسول ؐ سے راہنمائی لینی پڑے گی اور اپنی زندگی اس کے مطابق گزارنا پڑے گی۔ اس کے بغیر نہ ہم دنیا میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور نہ ہی آخرت میں۔
پیر، 8 دسمبر، 2025
رزق ِ حلال (2)
رزق ِ حلال (2)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچپن سے ہی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر سایہ رہے اور آپ کے زیر سایہ ہی پروش پائی۔ اس لیے آپ کو کبھی ذریعہ معاش کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ لیکن جب آپ رضی اللہ عنہ کا نکاح حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا سے ہوا اور آپ الگ مکان میں رہنے لگے تو پھر آپ کا معمول رہا کہ حلال کی روزی کی تلاش میں رہتے اور گزر بسر کرتے تھے اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی اپنی زندگی میں جو بھی پیشہ اختیار فرمایا اس میں رزق حلال ہی کمایا۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو آدمی حلال مال سے اپنے اہل و عیال کے لیے کوشش کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کی طرح ہے اور جو آدمی مانگنے سے بچنے کے لیے رزق حلال تلاش کرتا ہے وہ شہدا ء کے درجہ میں ہوتا ہے ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو آدمی چالیس دن حلال رزق کھائے اللہ تعالیٰ اس کے دل کو روشن کر دیتا ہے اور اس کے دل سے حکمت کے چشمے اس کی زبان پر جاری کر دیتا ہے۔ ( احیا ء العلوم )۔
بہیقی اور شعب الایمان میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : روزی کا حلال ذریعہ تلاش کر نا فرض نمازوں کے بعد فرض ہے ‘‘۔
حضرت عطیہ سعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ بندہ اس وقت تک متقی نہیں ہو سکتا جب تک قباحت والے کاموں کو چھوڑ کر ان پر نہ لگے جن میں کوئی مضائقہ نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ کسب معاش چھوڑ کر یہ نہ کہنے لگو کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پہنچانا ہے وہ دے گا بلکہ تمہیں رز ق حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے تو پھر وہ اسباب پیدا کرے گا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ موت کسی نہ کسی مقام پر آنی ہے۔ لیکن میرے نزدیک افضل ترین موت یہ ہے کہ بازار میں اپنے بال بچوں کے لیے کسب معاش میں مشغول ہو اور موت آ جائے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے دس درہم کا کپڑا خریدا اور اس میں ایک درہم حرام کا ہے تو اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نماز قبول نہیں کرے گا۔ پھر اپنی دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں داخل کر کے فرمایا دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے حضور نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے نہ سنا ہو۔ (بہیقی ، شعب الایمان )
اتوار، 7 دسمبر، 2025
رزق حلال(1)
رزق حلال(1)
آج کے اس پْر فتن دور میں رزق حلال تلاش کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے اور بہت ہی کم لوگوں کو رزق حلال کی پہچان ہے۔ آج کل بس یہ ہی خیال کیا جاتا ہے کہ بس کمایا جائے جس طرح بھی مل جائے۔ حلال اور حرام کا خیال کبھی ذہن میں آتا ہی نہیں۔ مگر کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں جو رزق حلال کی تلاش میں رہتے ہیں لیکن بہت کم۔
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جو آدمی رزق حلال کی تلاش میں تھک کر شام کر لے وہ رات یوں گزارتا ہے کہ اس کی بخشش ہو جاتی ہے۔اور اس کی صبح یوں ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاتا ہے۔ (احیا ء العلوم )۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اے ایمان والو! کھائو ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگرتم اسی کی عبادت کرتے ہو ‘‘۔
اس آیت مبارکہ سے دو باتیں سامنے آتی ہیں ایک یہ کہ عبادت کی طرح جب ضرورت محسوس ہو کھانا پینا بھی اہم فرض ہے کیونکہ اس پر تمام فرائض کی ادائیگی موقوف ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ ہمیشہ حلال اور پاک چیزیں کھانی چاہیں۔ تقویٰ کا مطلب یہ نہیں کہ اچھے کھانے چھوڑ دیں بلکہ تقوی کا معنی یہ ہے کہ حرام چیزیں چھوڑ دیں۔
ارشاد باری تعالی ہے : ’’ اور جب انہوں نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھا اس کی طرف چل دیے اور تمہیں خطبے میں کھڑا چھوڑگئے تم فرمائو وہ جو اللہ کے پاس ہے کھیل سے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ کا رزق سب سے اچھا ہے ‘‘۔(سورۃ جمعہ)۔
ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ تجارتی قافلہ مدینہ منورہ پہنچا تو اس وقت دستور کے مطابق طبل بجا کر اس کے آنے کا اعلان کیا گیا۔ تنگی و گرانی کا زمانہ تھا ، مسجد میں موجود لوگوں نے خیال کیا کہ اگر ہم لیٹ ہو گئے تو سب مال فروخت ہو جائے گا۔ اس خیال سے تمام لوگ چلے گئے صرف بارہ لوگ مسجد میں رہ گئے۔ تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل کی کہ بعض لوگ نمازوں کے اوقات میں بھی رزق کی تلاش میں لگے رہتے ہیں ایسا کرنا سخت حرام ہے۔ بہترین رزق دینے والی ذات اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے رزق حلال کی بہت تا کید فرمائی : حضرت مقدام بن معد یکرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’ کسی نے اس سے بہتر کھانا نہیں کھایا جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا ہو اور بے شک اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت دائود علیہ السلام اپنے ہاتھوں کی کمائی کھایا کرتے تھے ‘‘۔
ہفتہ، 6 دسمبر، 2025
(2) خدمت خلق
(2) خدمت خلق
خدمت خلق کا ایک بڑا ذریعہ غرباءکی مدد کر نا ہے کہ انسان مجبو راور بے بس انسانوں کی جانی اور مالی خدمت کرے اور مشکل حالات میں ان کے کام آئے ۔قرآن مجید میں اس بات کو بڑی تاکید سے بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ معاشرے میں زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہے جائیں تو امرا کے مال میں ان کا حق ہے ۔قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتا ہے :
اور ان کے مال میں سائل اور محروم کا حصہ ہے ۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :جن کے مال میں سائل اور محروم کا معین حق ہے ۔
اللہ تعالی کے پسندیدہ بندوں کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے مال سے غرباءکی مدد کرنا اتنا ہی ضروری سمجھتے ہیں جتنا کسی کو اس کا حق لوٹانا ۔ وہ غریبوں کو دیتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ وہ ان پر کوئی احسان کر رہے ہیں بلکہ ان کے ذہن میں یہ ہی ہوتا ہے کہ وہ حق داروں کو ان کا حق ادا کر رہے ہیں ۔ غرباءاور فقراء کی مدد کرنا مقربین الہی کی ایسی فطرت ثانیہ ہے کہ جیسے بھوکا کھانا کھانے سے اطمینان پاتا ہے اور پانی پینے سے پیاسا سکون محسوس کرتا ہے ، اسی طرح مقربین الہی غربا ءکی مدد کر کے سکون محسوس کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی اپنے مقبول بندوں کی ایک صفت یہ بھی بیان کرتا ہے : وہ خوشحالی اور تنگدستی میں بھی (راہ خدا میں ) خرچ کرتے ہیں ۔
قرآن مجید میں یہ بات بھی بہت واضح الفاظ میں بیان کی گئی ہے کہ جو لوگ غربأ اور مساکین کی اپنے مال میں سے مدد کرتے ہیں وہ دنیا و آخرت کی رحمتوں کو سمیٹ لیتے ہیں اور جو غریبوں کی مدد سے منہ موڑ لیتا ہے رزق کی برکتیں بھی اس سے منہ موڑ لیتی ہیں اور رب کی رحمتوں سے محروم کر دیاجاتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے :
جو لوگ اپنے اموال راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں ، ان کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک دانہ ہو ،جس سے سات بالیاں پیدا ہو ں ۔ ہر بالی میں سو دانے ہوں۔ اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے کئی گناہ بڑھا دیتا ہے اور اللہ تعالی وسعت والا جاننے والا ہے ۔
ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے : جو لوگ اپنے مال کو رات دن ، مخفی اور علانیہ خرچ کرتے ہیں ، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ اور ان کے لیے نہ خوف ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے ۔ یہ ایک حقیت ہے کہ طاقت ، وسائل اور اسباب میں سب انسان برابر نہیں ہیں ۔ کوئی امیر ہے اورکوئی غریب۔ کوئی مزدور ہے اور کوئی سرمایہ دار اور کوئی آقا ہے اور کوئی غلام ۔ یہاں عموماً طاقتور کمزور کے حقوق غصب کرنا چاہتا ہے ۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے :
اور اکثر شرکا ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں مگر وہ جو ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں ۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
-
دنیا کی زندگی ،ایک امتحان (۱) اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک عظیم مقصد کے تحت پیدا فرمایا ہے۔دنیا کی یہ زندگی ایک کھیل تماشا نہیں بلکہ ایک سن...



















