حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ(2)
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو مدینہ منورہ سے اس قدر محبت تھی کہ کسی صورت بھی وہاں سے نکلنا گوارہ نہ کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک غلام نے تنگدستی کی وجہ سے مدینہ منورہ سے ہجرت کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو شخص مدینہ کے مصائب پر صبر کر ے قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا۔ آپ کو اہل بیت سے بھی بے پناہ محبت تھی۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ خوف خدا اور روز جزا سے ہر وقت لرزہ طاری رہتا تھا۔ اگر کسی آیت میں آخرت کا ذکر ہوتا تو رونے لگ جاتے تھے۔خشیت الٰہی نے ان کے دل میں جہاد اور عبادت کا ایسا شوق پیدا کیا کہ ان کے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔ جوانی سے لے کر بڑھاپے تک جہادفی سبیل اللہ میں حصہ لیتے رہے۔ عبادت کی یہ کیفیت تھی کہ قیام اللیل اور دائم الصوم تھے۔ آپ زہد و تقوی میں بے مثال تھے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ عنہ نہایت فیاض اور سخی تھے۔ کسی سائل کو اپنے دروازے سے خالی ہاتھ نہ لٹاتے تھے۔ بیسوں فقرااور مساکین آپ کے دستر خواں پر پرورش پاتے تھے۔ عموما کسی مسکین کو اپنے ساتھ بٹھائے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے ایک مرتبہ آپکو مچھلی کھانے کی خواہش ہوئی جب مچھلی بھون کر سامنے رکھی تو ایک سائل کا گزرہوا تو اپنی مچھلی اٹھا کر اس سائل کو دے دی۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نہایت نرم دل اور خوش اخلاق تھے۔غلاموں اور نوکروں کے ساتھ بہترین سلوک کرتے۔ کھانے کی میز پر بیٹھتے تو غلاموں اور مسکینوں کو برابر بٹھاتے اور فرماتے یہ بھی اللہ کے بندے ہیں اور ان کی عزت کرنا بھی عبادت ہے۔ فقہی مسائل میں ان کی احتیاط مشہور تھی۔ حلال و حرام کے سلسلے میں ذرا سی لغزش بھی برداشت نہ کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ہم بہت سے جائز کام بھی اس خوف سے چھوڑ دیتے ہیں کہ کہیں وہ ہمیں کسی مشتبہ چیز کے قریب نہ کر دیں۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی زندگی کا محور محبت رسول ﷺ تھا۔آپﷺ کے حجرے ، لباس ، راستے ، مسجد نبوی کے ستون ہر چیز سے وہ ایسی محبت کرتے تھے کہ ان جگہوں پر بیٹھ کر حضورﷺ کی یاد میں آنسو بہاتے۔آپ کے نزدیک اصل خیر ، برکت ، نجات اور کامیابی صرف اسی اتباع میں تھی۔آپ ﷺ کے فضائل و مناقب کا احاطہ کرنا ممکن نہیں مگر ان کی سیرت ہمارے لیے واضح درس رکھتی ہے کہ کامیابی ذاتی خواہشات میں نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسو ل ﷺ کی اتباع میں ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں