حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ(۱)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا شمار ان عظیم صحابہ کرام رضو ان اللہ علیہم اجمعین میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں نہ صرف اپنے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کی بلکہ قرآن ، فقہ عبادت ، زہد اور اخلاق میں امت کے لیے ایسے نقوش چھوڑے جن پر چل کر آج بھی دین کی سمجھ اور معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ آپ کی حیات مبارکہ قربانی ، اخلاص ، ثابت قدمی اور اتباع سنت کا بے مثال نمونہ ہے۔
بچپن میں ایام جاہلیت میں آپ عقبہ بن معیط کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ ایک دن نبی کریم ﷺ اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا اور آپ کو بکریاں چراتے دیکھ کر صدیق اکبرؓنے کہا تمہارے پاس کچھ دودھ ہے جسے پی کر ہم اپنی پیاس بجھا سکیں۔حضرت عبد اللہ ؓ نے کہا کہ میں دودھ نہیں دے سکتا میرا مالک ناراض ہو گا۔آپ نے فرمایا تمہارے پاس کوئی ایسی بکری ہے جو دودھ نہ دیتی ہو۔آپ نے وہ بکری پیش کی۔ آپ نے اس بکری کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ بکری دودھ سے لبریز ہو گئی۔ سیدنا صدیق اکبرؓ نے اس بکری کا دودھ دوھا اور آپؓ کے ساتھ صدیق اکبر اور حضرت عبد اللہ ؓ نے خوب سیر ہو کر پیا۔اس کے بعد بکری کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا وہ پہلے کی طرح دوبارہ خشک ہو گئے۔حضور نبی کریم ﷺ کے اس معجزہ کو دیکھ کر آپ بہت زیادہ متاثر ہوئے اور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی کہ مجھے اس کلام کی تعلیم دیں۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے شفقت کے ساتھ ان کے سر پرہاتھ پھیر ااور فرمایا کہ تم تعلیم یافتہ بچے ہو۔آپ مشرف بہ اسلام ہونے کے بعدشب و روز حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتے اور سر چشمہ علم سے خود کو منور کرتے۔
حضور نبی کریمﷺ نے آپؓ کو گھر میں آنے جانے کی خصوصی اجازت دے رکھی تھی۔ آپ آپ کی نعلین مبارک اٹھاتے، مسواک رکھتے اور سفر کے موقع پر کجاوہ کسنا آپ کا معمول تھا۔
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم یمن سے مدینہ میں حضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود کو اس قدر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آتے جاتے دیکھ کر آپ خاندان رسالت کا رکن سمجھنے لگے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں نے ستر سے زائد سورتیں خود براہ راست آپ سے سنیں۔ قرآن کو سمجھنے ، اس کے معانی کو جاننے اور اس کے احکام پر عمل کرنے میں آپ کی مہارت بے مثال تھی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں