منگل، 9 جنوری، 2024

Shortvideo - Hum Quran samjhnay ki kosish kyoon nahi kartay?

نماز کے معاشرتی فوائد(۱)

 

نماز کے معاشرتی فوائد(۱)

نماز تو در حقیقت ایمان کا ذائقہ ، روح کی غذا اور دل کی تسکین کا سامان ہے مگر اسی کے ساتھ ساتھ نماز مسلمانوں کے اجتماعی ، اخلاقی ، تمدنی اور معاشرتی اصلاحات کا بھی کابھی ذریعہ ہے ۔ حضور نبی کریمﷺ کے ذریعہ سے اخلاق وتمدن اور معاشرت کی جتنی اصلاحیں وجود میں آئیں ان کا بڑا حصہ نماز کی بدولت حاصل ہوا ۔ 
ستر پوشی : انسان کا شرم و حیا کی وجہ سے اپنے جسم کے بعض حصوں کو چھپانا نہایت ضروری ہے ۔عرب کے بدو اس تہذیب سے نا واقف تھے بلکہ شہروں کے باشند ے بھی اس سے بے پروا تھے ۔ اسلام آیا تو اس نے ستر پوشی کو ضروری قرار دیا ۔ یہاںتک کہ ستر پوشی کے بغیر نماز ہی درست نہیں ۔ سورۃ الاعراف میں ارشاد ہے کہ نماز کے لیے صرف ستر چھپانے کے لیے لباس ہی نہ پہنو بلکہ وہ لباس زینت والا ہو ۔
طہارت : اس کے بعد طہارت اور پاکیزگی ہے جو اسلام کے اولین احکامات میں سے ہے ۔ حضور نبی کریمﷺ پر جو دوسری وحی نازل ہوئی وہ طہارت کے بارے میں ہی تھی ۔ارشاد باری تعالی ہے :’اور اپنے کپڑے پاک رکھو‘۔اسلام سے قبل عرب کے لوگ اور دوسری قومیں طہارت کا خیال نہیں رکھتی تھیں ۔ حضور نبی کریمﷺنے اپنی تعلیمات کے ذریعے طہارت پر زور دیا اور نماز کے درست ہونے کی شرائط میں سے ہے کہ انسان کا جسم ، لبا س اورجگہ کا پاک ہونا ضروری قرار دیا ۔ جوصحابہ طہارت کا اہتمام کرتے تھے ان کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے :’اس مسجد میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں اور ستھرے اللہ تعالی کو پسند ہیں۔‘ ( سورۃ التوبہ) 
پابندی وقت : کامیاب عملی زندگی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ ہمارے تمام کام مقررہ وقت پر تکمیل کو پہنچیں ۔ انسان فطری طورپر آرام پسند ہے اس لیے انسان کو وقت کا پابند بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے بعض کاموں کے اوقات مقرر کر دیے جائیں ۔ انسان اگر اپنے تمام کاموں کا وقت مقرر کر لے تو اس طرح وقت ضائع نہیں ہو گا اور تمام کام خوش اسلوبی سے سر انجام پائیں گے ۔ نماز ہمیں پابندی وقت سکھاتی ہے ۔وقت پر سونا اور وقت پر جاگنا ضروری ہو جاتا ہے ارشاد باری تعالی ہے: ’بے شک نماز مومنوں پر مقرر وقت میں فرض کی گئی ہے۔‘
حضرت سلیمان فارسی کا قول ہے نماز ایک پیمانہ ہے جس نے اس سے پورا ناپا ، اس کو پورا ناپ کر دیا جائے گا ، اور جس نے ناپنے میں کمی کی تو تمھیں کم ناپنے والوں کی سزا معلوم ہے ۔ اس قول کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ نماز ہر مسلمان کا پیمانہ ہے اسی سے اس کی ہر چیز ناپی جا سکتی ہے ۔

Surah Ibrahim Ayat 48-52 Part-02. کیا ہم جہنم کا ایندھن ہیں

پیر، 8 جنوری، 2024

آداب دعا(۲)

 

آداب دعا(۲) 

 اول و آخر درود پاک پڑھنا : 
حضور نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس پر درود پاک پڑھنا بھی ایک دعا ہے اور اگر دعا سے پہلے درودپاک پڑھا جائے تو یہ دعا کی قبولیت میں چابی یا کنجی کا کا م کرتا ہے ۔حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو نماز کے بعد دعا کرتے سنا اس نے نہ تو اللہ تعالی کی ثنا کی اور نہ ہی آپ ﷺ پر درود پاک بھیجا ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس نے دعا مانگنے میں جلدی کہ پھرآپ ﷺ نے اس شخص کو یا کسی دوسرے کو فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے رب کی حمدو ثنا سے ابتدا کرے ۔ پھر نبی کریم ﷺ پر درود پڑھے اور اس کے بعد جب چاہے دعا کرے ۔ ( ابو دائود ) 
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ دعا زمین اور آسمان کے درمیان ٹھہری رہتی ہے اور اوپر کی طرف نہیں جاتی (قبول نہیں ہوتی ) جب تک تو اپنے نبی مکرم ﷺ پر درود نہ بھیجے۔ ( ترمذی) 
حمد و ثنا ء سے ابتدا : 
اللہ تعالی کی شا ن کریمی کا یہی تقاضا ہے کہ دعا سے پہلے اس کی حمد و ثناء کی جائے اور اس کی صفات بیان کی جائیں ۔ قرآن مجید مین بہت سے مقامات پر ایسی دعائیں موجود ہیں جن سے پہلے اللہ تعالی کی حمد و ثناء بیان ہوئی ہے : ’’ اے ہمارے رب ! تو نے یہ سب کچھ بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا ، تو (تو سب کوتاہیوں اور مجبوریوں ) سے پاک ہے پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے ۔( آل عمران) 
دعائیہ کلمات کو تین بار دہرانا : 
دعا کو اگر دو یا تین مرتبہ دہرا یا جائے تو اس سے کیفیت گریہ زاری ظاہر ہوتی ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے : بیشک حضور نبی کریم ﷺ تین مرتبہ دعا اور تین مرتبہ استغفار کرنا پسند فرماتے۔ ( ابو دائود ) 
دعا کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنا : 
دعا کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنا احادیث سے ثابت ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اس کی تلقین فرمائی ہے ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ حضور نبی کریم ﷺ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے تو اپنے چہرہ اقدس پر پھیرنے سے پہلے ہاتھ نیچے نہ چھوڑتے ۔(ترمذی) 
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جب اللہ تعالی سے دعا کرو تو اپنے ہاتھ کی  ہھتیلیوں  سے دعا کیا کرو نہ کہ ان کی پشت سے اور جب دعا سے فارغ ہو جائو تو اپنے ہاتھوں کو منہ پر مل لو ۔ ( ابن ماجہ )

اتوار، 7 جنوری، 2024

آداب دعا(۱)

 

آداب دعا(۱) 

بندہ اپنے خالق و مالک کے حضور دعا مانگتا ہے لیکن دعا کے کچھ آداب بھی ہیں جن کو ملحوظ خاطر رکھنا بہت ضروری ہے ۔ امام غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے دعا کے آداب کو ظاہری اور باطنی آداب میں تقسیم کیا ہے۔ باطنی آداب میں توبہ ، حضور قلب ، اللہ تعالی پر توکل اور نا امیدی سے دوری شامل ہے جبکہ ظاہری آداب میں نماز ، روزہ ، صدقہ و خیرات ، طہارت ، قبلہ رخ ہونا ، خوشبو لگانا ، پست آواز ، ہاتھو ں کو اٹھا نا ، دعا کے بعدہاتھ چہرے پر پھیرنا ، حمدو ثنا اور درودسلام مقدم رکھنا ضروری تقاضے ہیں ۔ (کیمیائے سعادت) 
قبلہ رخ ہو کر دعاکرنا :قبلہ فضیلت ولی جہلت ہے جس طرح نماز میں قبلہ رخ کرنا شرط ہے اسی طرح دعا کے وقت بھی قبلہ رخ ہو کر بیٹھنا دعا کے اداب میں شامل ہے ۔
 حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن جب حضور نبی کریم ﷺ نے مشرکین کو دیکھا تو وہ ایک ہزار تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ تین سو تیرہ صحابہ کریم تھے ۔ تو حضور نبی کریم ﷺ نے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہاتھ اٹھا کر بلند آوازسے اپنے رب سے دعا کی ۔ ( مسلم) 
دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا : دونوں ہاتھ اٹھا کر ہتھیلیوں کو منہ کی جانب کر کے دعا مانگنا اللہ تعالی کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری اور خاکساری کا اظہار ہے اور یہ حضور نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ بھی ہے۔ حضرت ابو موسی الاشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی بغل مبارک کی سفیدی دیکھی ۔ ( بخاری ) 
خشوع و خضوع : اگر بندہ اپنے اوپر خوف و خشیت کی کیفیت طاری کر کے خشوع خضوع کے ساتھ گڑ گڑا کر اللہ تعالی کے حضور التجا کر ے تو اس سے بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے ۔ یہ خوف اپنے گناہوں اور اللہ تعالی کی عدالت میں پیشی کے احساس کا نتیجہ ہو تا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : تم اپنے رب سے گڑ گڑا کر اور آہستہ (دونوں)طریقوں سے دعا کیا کرو ۔ ( سورۃ الاعراف ) 
قبولیت دعا میں عجلت اور بے صبری نہ کرنا : دعا کے آداب میں سے ہے کہ دعا مسلسل جاری رکھنی چاہیے اور قبولیت میں تا خیر کی وجہ سے نا امید نہیں ہو نا چاہیے ۔ کیونکہ کہ دعا مانگنے والے کو یہ نہیں پتہ کہ دعا کے فوری قبول نہ ہونے میں کیا حکمت ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کسی شخص کی دعا تب تک قبول ہوتی ہے جب وہ (دعا مانگنے میں ) جلدی نہیں کرتا۔ (اور یہ نہیں ) کہتا کہ میں نے دعاکی اور میری دعا قبو ل نہیں ہوئی (لہذا مایوس ہو کر دعا نہ چھوڑ بیٹھے ) (بخاری ) 

حکمت و دانش

  حکمت و دانش حکمت کا ایک کلمہ انسان کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے ۔ دانش کی کہئی ہوئی ایک بات انسانی فکر کو تبدیل کر دیتی ہے اور بصیرت بھرا ای...