پیر، 2 دسمبر، 2024

اصلاح معاشرہ اور ہمارا کردار

 

اصلاح معاشرہ اور ہمارا کردار

انسان اپنی سوچ اور افکارو نظریات کے گرد گھومتا ہے۔ یہ وہ کچھ ہی کرتا ہے جو اس کا نظریہ اسے کرنے کو کہتا ہے۔ اسلام نے ہمیں اچھے اخلاق کو اپنانے کی ترغیب دی ہے۔ جب انسان کی اخلاقی تربیت اچھی اور مکمل طور پر ہو جاتی ہے تو وہ کبھی بھی معاشرے میں فتنہ فساد کا سبب نہیں بنتا۔اور ہمیشہ معاشرے کی بہتری کے لیے کوشش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة الحجرات میں کچھ احکامات نازل فرمائے جن پر عمل کرکے ہم معاشرے کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔
معاشرے میں بگاڑ کی ایک وجہ آپس کے لڑائی جھگڑے ہیں۔ اگر دو گروہوں میں لڑائی ہو جائے تو اسے دوسروں کا معاملہ سمجھ کر الگ ہو کر بیٹھ جانا یا پھر اس لڑائی کو مزید بڑھانے کا سبب بننا عقل مندی نہیں۔بلکہ دانشمندی یہ ہے کہ دونوں فریقین کی بات سن کر ان دونوں کے درمیان صلح کروانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اگر مومنوں میں سے دو گروہوں کے درمیان لڑائی ہو جائے تو ان کے درمیان صلح کرواﺅ ، اور اگر ان دونوں میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو تم سب بغاوت کرنے والے کے خلاف اس وقت تک لڑو جب تک وہ اللہ کے حکم کی طرف نہ لوٹ آئے اور اگر وہ حق کی طرف پھر آئیں تو دونوں کے درمیان عدل اور انصاف سے صلح کرواﺅ ،بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو ہی پسند فرماتا ہے۔(سورة الحجرات )۔
معاشرے میں بگاڑ کی ایک بڑی وجہ بغیر تصدیق کے کسی بات کو آگے پہنچانا ہے۔ لیکن قرآن مجید میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کوئی بھی آپ تک پہنچے تو پہلے اس کی تصدیق کر لیا کرو۔ ارشاد باری تعالی ہے :اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیاکرو ( کئی ایسانہ ہو ) کہ تم کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچاﺅاور پھر تمہیں اپنے کیے پر ندامت اٹھانی پڑے۔ (سورة الحجرات )
اللہ تعالی قرآن مجید میں غصے پر قابو پانے اور معاف کرنے کا حکم فرماتا ہے :ارشاد باری تعالی ہے : جو خوشحالی اور تنگی میں راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ (ایسے ہی ) نیک اعمال کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (سورة الحجرات )۔
ایسے ہی اللہ تعالیٰ نیکی کے کاموں میں تعاون کرنے اور گناہوں سے روکنے کاحکم دیتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے : نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں تعان نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ ( سورةالحجرات )۔

مُتکَبِّر کا ٹھکانہ اصل میں کیا ہے؟

کیا متکبر کبھی جنت میں جا سکتا ہے؟

اتوار، 1 دسمبر، 2024

ذکر الٰہی


 

ذکر الٰہی

نماز اور نوافل ادا کرنا ، تلاوت کرنا اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و توصیف بیان کرنا ذکر الہی کہلاتا ہے۔ جتنا زیادہ بندہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اس قدر اسے قرب الہی نصیب ہوتا ہے۔
جب بندہ ذکر الٰہی کرتا ہے تو اس کی روحانی قوت مضبوط ہوتی ہے دل روشن ہو جاتا ہے اورغفلت کے اندھیروں سے نکل آتا ہے۔ اور بندے میں نیکی کرنے کی تمنا بڑھ جاتی ہے۔ اور مومن کے خیالات اور ارادے پاک ہو جاتے ہیں۔ اور بندہ ہمہ وقت ذکر الٰہی میں مشغول رہتا ہے اور فضولیات سے بچ جاتا ہے۔ بندے کا دل تجلی گاہ الٰہی بن جاتا ہے تو پھر بندے کا دیکھنا اسی کا دیکھنا ہوتا ہے ، اس کا سننا اسی کا سننا ہوتا ہے اور بندے کا ہر قول وفعل حکم الٰہی کے مطابق ہوتا ہے۔اور یہ ہی انسانیت کی معراج ہے۔
جب بندہ ذکر الٰہی میں مشغول رہتا ہے تو اس کی روحانی قوت مضبوط ہوتی ہے۔ جتنی روحانی قوت مضبوط ہوتی ہے اس کے اعمال صالح مضبوط ہو جاتے ہیں اور جس قدر انسان کے اعمال اچھے ہوتے ہیں اسی قدر اس کا ایمان اور توکل مضبوط ہوتاہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے :تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا اور میرا شکر ادا کرو اور نافرمانی نہ کرو۔ (سورة البقرہ ، آیت : ۲۵۱)
ذکر کی تین اقسام ہیں زبانی ، قلبی اور اعضاءبدن کے ساتھ۔ زبانی ذکر یہ ہے کہ زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس بیان کرنا اور توبہ استغفار کرنا نیکی کی دعوت دینا وغیرہ ، قلبی ذکر یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرے اس کی عظمت و کبریائی پر غور کرنا ہے۔ اعضاءکا ذکر یہ ہے کہ بندہ اپنے اعضاءکو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال نہ کرے بلکہ انہیں اطاعت الہی کے کاموں میں استعمال کرے۔ 
اللہ تعالی اطاعت سے یاد کرنے والوں کو اپنی مغفرت کے ساتھ ، شکر کرنے والوں کو اپنی نعمت کے ساتھ اور محبت کے ساتھ یاد کرنے والوں کو اپنے قرب کے ساتھ یاد فرماتا ہے۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر چیز کی صیقل ہے اور دلوں کی صیقل اللہ کا ذکر ہے اور کوئی چیز ذکر اللہ سے بڑھ کر عذاب الٰہی سے نجات نہیں دیتی۔(البہیقی ) 
سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے اس سے کوئی عاجز ہے کہ روزانہ ایک ہزار نیکیاں کر لیا کرے عرض کی گئی روزانہ ہزار نیکیاں کیسے حاصل کی جا سکتی ہیں فرمایا روزانہ سو مرتبہ ”سبحان اللہ وبحمدہ “ پڑھا کرو اسکے بدلے ہزار نیکیاں ملیں گی ہزار خطائیں معاف ہو جاتی ہے۔ ( بخاری ، مسلم )۔

Surah Al-Furqan Ayat 59-61.کیا ہم رحمان کے سامنے حقیقی سجدہ کرنے کے لئے...

Surah Al-Furqan (سُوۡرَةُ الفُرقان) Ayat 58 Part-02.کیا ہم اللہ تعالی کو...

تکبّر کیا ہے؟

خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔

  خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔ اسلامی تاریخ ایسی پاکیزہ اور باکمال شخصیات سے مزین ہے جنہوں نے اپنی بے مثال سیرت ، اعلی کردار اور بے لوث ...