جمعہ، 7 جون، 2024

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوصاف(۲)

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوصاف(۲)

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دوسرا وصف جو قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے وہ ہے ’’ بہت آہیں بھرنے والا ‘‘۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی محبت اور خوف میں بہت زیادہ آنسو بہایا کرتے تھے۔ 
اما م غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے توخوف خدا کے سبب اس قدرروتے کہ ایک میل تک آپ کے سینہ مبارک میں ہونے والی گڑ گڑاہٹ کی آواز سنی جا سکتی تھی۔ ( احیاء علوم الدین) 
منہاج العابدین میں ہے کہ جب آپ اللہ تعالیٰ کے خوف کے سبب روتے تو اس قدر روتے کہ اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل امین کو آپ کو حوصلہ دینے کے لیے بھیجتے۔ حضرت جبرائیل عرض کرتے اے ابراہیم کیا آپ نے کبھی ایسا دوست دیکھا ہے جو اپنے دوست کو عذاب دیتا ہو ؟ آپ یہ سن کر فرماتے اے جبرائیل جب میں اپنی طرف نگاہ کر کے دیکھتا ہوں تو میں یہ بھول جاتا ہوں کہ میں خلیل اللہ ہوں۔
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :اللہ کی قسم جو میں جانتا ہوں اگر تم لوگ بھی جان لوتو بہت کم ہنسو اور کثرت سے روتے ہی رہو اور یقینا تم لوگ اللہ تعالیٰ سے فریادکرتے ہوئے میدانوں میں نکل جائو۔( المستدرک علی الصحیحین) 
اللہ تعالیٰ نے آپ کا تیسرا اوصاف بیان کرتے ہو ئے ’’منیب ‘ ‘ کہ کر پکارا یعنی سب کچھ چھوڑکر اسی کاہو جانا۔آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ محبت تھی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سارا مال دیا ہوا تھا ایک دن آپ اپنے جانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف تھے کہ ایک فرشتہ انسانی شکل میں غار میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگ گیا آپ جا کر اس کے پاس بیٹھ گئے وہ کچھ دیر بعد خاموش ہو گیا تو آپ نے کہا مجھے پھر میرے محبوب کا ذکر سنائو۔ تو اس نے کہا پہلے میں اپنی مرضی سے ذکر کر رہا تھا اب تیرے کہنے پہ کروں گا مجھے کیا دو گے۔ آپ نے اپنی ساری بکریاں اس کو دے دیں۔ اس نے پھر اللہ تعالیٰ کا ذکر شروع کر دیا اور کچھ دیر بعد پھر خاموش ہو گیا۔ آپ نے کہا مجھے اور ذکر سنائو۔ فرشتے نے کہا اب مجھے کیا دو گے آپ نے اپنے سارے اونٹ اسے دے دیے۔ اس طرح باری باری آپ نے ذکر اللہ سننے کے لیے اپنا سارا مال گھر ، مویشی اس فرشتے کو دے دیے۔آپ نے پھر اسے ذکر سنانے کو کہا تو اس نے کہا اب مجھے کیا دو گے۔ تو آپ نے فرمایا مجھے رکھ لو مگر مجھے اللہ پاک کا ذکر سنائو۔ تو اس پر فرشتے نے کہا کہ آپ اللہ کے خلیل ہیں اور آپ کو ’’خلیل اللہ‘‘ کے لقب سے نوازا گیا۔

جمعرات، 6 جون، 2024

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوصاف(۱)

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوصاف(۱)

اللہ تعالی نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءکرام علیہم السلام مبعوث فرمائے اور ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی۔ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد انبیاءمیں سب سے فضیلت والے نبی حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں آپ کو جد الانبیاءبھی کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالی نے آپ کو بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں۔ 
اللہ تعالی نے حضور نبی کریمﷺ کو دین ابراہیم پر عمل کرنے کا حکم فرمایا اور آپ کی امت کو بھی دین ابراہیم پر عمل پیرا ہونے کا حکم فرمایا۔ ارشاد باری تعالی ہے :” تم فرماﺅ بیشک مجھے میرے رب نے سیدھی راہ دکھائی۔ ٹھیک دین ابراہیم کی ملت جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرک نہ تھے۔(سورة الا نعام )۔
اللہ تعالی اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اس کا قرب چاہنے والے اس کے پیارے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ کو اپنائیں۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”تم فرماﺅ اللہ سچا ہے تو ابراہیم کے دین پر چلو جو ہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوں میں نہ تھے۔ (سورة ال عمران )۔
اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت اعلی اوساف سے نوازا تھا جن کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بھی کیا۔ 
سورة ھود میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ”بیشک ابراہیم تحمل والے بہت آہیں کرنے والے رجوع لانے والے ہیں “۔ 
حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت زیادہ حلم والے تھے یعنی اپنے غصہ کو ضبط کر لیا کرتے تھے۔ اور یہ اللہ تعالی کے نیک اور ممتازبندوں کے اوصاف میں سے ہے کہ وہ اپنے غصہ کو پی جاتے ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے : سورة ال عمران میں اللہ تعالی ارشادفرماتا ہے : وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں “۔ 
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حلم کا اندازہ اس واقع سے لگایا جا سکتاہے کہ جب آپ نے اپنے گھر سے دعوت توحید کا آغاز کیا تو اپنے چچا کو پیا رسے والد کہ کر پکارا اور کہا کہ تم بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو جو نہ سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں اور نہ ہی کچھ فائدہ دے سکتے ہیں۔ لیکن اس محبت بھرے انداز کے بدلے میں چچا نے غصے کا اظہار کیا۔ 
اور کہا۔ تو میرے معبودوں سے منہ پھیرتا ہے ؟ اے ابراہیم بیشک اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر ماروں گا۔( سورة مریم )۔ لیکن اس سخت لہجے میں بھی آپ نے بس اتنا کہا :ارشاد باری تعالی ہے : بس تجھے سلام ہے عنقریب میں تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا بیشک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔ (سورة مریم )

بدھ، 5 جون، 2024

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 110 Part-09.کیا ہماری حالت بہت بگڑی ...

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 110 Part-08.کیا ہم حقیقی مومن نہیں ہیں

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا درس توحید(۲)

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا درس توحید(۲)

حضرت ابرہیم علیہ السلام کی قوم نہ صرف بت پرستی کرتی تھی بلکہ نجوم پرستی کا بھی شکار تھی۔ اور وہ سورج ، چاند کے علاوہ تاروں کو بھی اپنا دیوتا مانتے تھے۔
 ارشاد باری تعالی ہے : پھر جب ان پر رات کا اندھیرا آیا توایک تارا دیکھا۔ بولے اسے میرا رب ٹھہراتے ہو۔ پھر جب وہ ڈوب گیا بولے مجھے خوش آتے ڈوبنے والے۔ پھر جب چاند کودیکھا بولے اسے میرا رب بتاتے ہو ، پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں بھی انہیں گمراہوں میں ہوتا۔ پھر جب سورج جگمگاتا دیکھا تو کہا اسے میرا رب کہتے ہو یہ تو ان سب سے بڑ اہے پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اے میری قوم میں بیزار ہوں ان چیزوں سے جنہیں تم شرک ٹھہراتے ہو۔ میں نے اپنا منہ اس طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے ایک اسی کا ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں۔ (سورة الانعام ) 
جب سارے مشرک حضرت ابراہیم علیہ لسلام کے سامنے لا جواب ہو گئے تو آپ سے جھگڑا کرنے لگے اور آپ کو تکلیف دینے لگے۔ آپ نے نمرود سے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو پیدا کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔ (نمرود ) نے کہا میں بھی زندہ کرتا ہوں اورمارتا ہوں۔ پھر حضرت ابرہیم علیہ السلام نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو سورج مشرق سے لاتا ہے تم مغرب سے لاﺅ۔ یہ بات سن کر نمرود لاجواب ہو گیا۔
 ارشاد باری تعالی ہے ” پس انکار کرنے والا کافر مبہوت ہو گیا “۔ 
ایک دن سارے مشرک ایک میلے میں گئے تو حضرت ابراہیم نے ان کے بتوں کو توڑ کر کلہاڑا ایک بڑے بت پر رکھ دیا۔
ارشاد باری تعالی ہے۔ انہیں توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا سوائے بڑے بت کے کہ شاید وہ اسکی طرف رجوع کریں “۔(سورة الانبیائ)۔
جب وہ واپس آئے تو انہیں نے کہا ہمارے بتوں کا یہ حال کس نے کیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا گیاتو آپ نے فرمایا : اپنے بڑے بت سے پوچھو اگر یہ بولتے ہیں۔ یہ سن کر وہ سب لاجواب ہو گئے۔ جب سارے آپ کے سامنے لاجواب ہو گئے اور حق جاننے کے باوجود قوم نے ہٹ دھرمی سے کام لینا شروع کر دیا۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : اگر تم نے اپنے معبودوں کا انتقام لینا ہے تو کچھ کرو ان کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔ انہوں نے بہت ساری لکڑیا ں جمع کیں اور ایک وسیع میدان پر آگ جلا دی پھر آپ کو منجنیق میں رکھ کر آگ میں ڈال دیا گیا۔ اللہ تعالی نے آگ کو حکم دیا میرے ابراہیم علیہ السلام پر سلامتی والی ہو جا۔ آپ اس آزمائش میں بھی کامیاب ہوئے لیکن ان ساری مشکلات اور تکالیف کے باوجود دعوت توحید نہ چھوڑی۔

Surah Al-Kahf Ayat 110 Part-07.کیا ہم زندگی اللہ تعالی کو راضی کرنے کے ...

Surah Al-Kahf Ayat 110 Part-06.کیا ہم سب اللہ تعالی کی ملاقات کو بھلا ک...

باطنی بیماریا ں اور ان کا علاج

  باطنی بیماریا ں اور ان کا علاج آج کے دور میں انسان اپنی جسمانی بیماریوں کا علاج تو بڑی فکر اور بہترین ڈاکٹر سے کرواتا ہے اور انسان ظاہری ...