منگل، 4 جون، 2024

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا درس توحید(۱)

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا درس توحید(۱)

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے جو کہ اعلیٰ ترین صفات کے حامل اوراللہ تعالی کے بر گزیدہ بندے تھے ۔ ان ہستیوں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام انسانوں تک پہنچایا لوگوں کو دعوت تو حید دی اور اس کام میں بہت ساری مشکلات اور مصائب برداشت کیے ۔ 
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے زیادہ آزمائشیں انبیا ء کرام علیہم السلام پر آئیں پھر ان لوگوں پر جو درجہ بدرجہ ان کے قریب تھے ۔ ( تفسیر ابن کثیر ) 
انبیاء کرام علیہم السلام میں حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی سیرت مبارکہ غیر معمولی طور پر قابل ذکر ہے ۔ اورآج مسلمان انھیں کی سیرت کے ایک اہم پہلو پر عمل کرتے ہو ئے اللہ تعالیٰ کے حضور قربانیاں پیش کرتے ہیں ۔
 ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور ابراہیم علیہ السلام کے دین سے کون رو گردانی کر سکتا ہے ؟سوائے ان کے جو نہایت نادان ہیں ۔ (سورۃ البقرۃ ) 
شکل و صورت میں حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام حضور نبی کریمﷺ کے مشابہ تھے۔ 
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شکل و شباہت کا اندازہ اپنے ساتھی ( محمد ؐ) کو دیکھ کر کر لو۔ ( صحیح بخاری شریف ) 
نمرود نے ایک رات خواب دیکھا کہ ایک ستارہ ہے جس کے سامنے چاند اور سورج کی روشنی مانند پڑ گئی ہے نجومیوں نے اس کی تعبیر بتائی ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’انھوں نے اس سے کہا کہ تیرے شہر میں ایک بچہ پیدا ہو گا جو اہل زمین کے دین کو بدل دے گا اور اس کے ہاتھوں تیری ہلاکت اور بادشاہی کا زوال ہو گا‘۔ یہ سن کر نمرود نے بچوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔آپ نے دعوت توحید کا آغاز اپنے گھر سے کیا ۔’اے والد تو اس کی پوجا کیوں کرتا ہے جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ ہی کچھ تیرے کام آئے گا ‘۔ تو والد نے جواب دیا :’ کہا کہ کیا تو میرے معبودوں سے بے رغبت ہے ؟ اگر تو بازنہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا اور تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہو جا‘۔
’حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا :اچھا تم پر سلام میں آپ کے لیے اپنے پروردگار سے ہدایت کی دعا کروں گا، بے شک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے ۔ اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ اللہ کے سوا پکارتے ہو ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار کو ہی پکاروں گا مجھے یقین ہے میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں ہوں گا ‘۔ ( سورۃ المریم ) 

اسلام کی حقیقت

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 110 Part-05.کیا ہم صرف طالب دنیا ہیں

پیر، 3 جون، 2024

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 110 Part-04.کیا ہمارا معبود حقیقی ہم...

بیت اللہ (۲)

 

بیت اللہ (۲)

مشرکین مکہ نے مسلمانوں کے لیے مکہ مکرمہ میں رہنا مشکل کر دیا اور مسلمان ان کے ظلم و ستم سے تنگ آکرمد ینہ منورہ ہجرت کر کے چلے گئے لیکن مسلمان مکہ مکرمہ کی سر زمین کو نہ بھول سکے انہیں بیت اللہ کی بہت زیادہ یاد آتی۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ بھی بیت اللہ کی جدائی میں بیمار ہو گئے۔ جب صحت یاب ہوئے تو کہا : اے کاش مجھے پتہ ہوتا کہ میں کبھی اس مقدس وادی میں اب رات بسر کر سکوں گا یا نہیں جس میں میرے ارد گرد گھاس ہوتی تھی اور کیا میں کسی روز مجنہ کے چشمے پر بھی جا سکوں گا یا نہیں جو مکہ میں ہے ؟ اور کیا اب شامہ اور طفیل کو بھی دیکھ سکوں گا یا نہیں جو مکہ کے پہاڑ ہیں۔ اس کے بعد آپ نے سرداران مکہ کو بد دعائیں دیں۔ اے اللہ شیبہ ، عتبہ اور امیہ پر لعنت فرما کیونکہ انہوں نے ہمیں ہماری پیاری سر زمین سے نکالا ہے۔ ( بخاری شریف )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے بھی مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو سر زمین مکہ سے اپنی محبت کا اظہار اس طرح فرمایا : تو میرے لیے محبوب ترین زمین ہے اگر ہجرت کا حکم نہ ہوتا تو میں تمہیں کبھی بھی چھوڑ کر نہ جاتا۔ اللہ تعالی نے بیت اللہ کو بہت زیادہ فضیلت و عظمت عطا فرمائی ہے۔ 
بیت اللہ رحمت کا سمندر ہے ایک ایسا نورانی سمندر جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ جب کوئی گناہ گار اپنے کندھوں پر گناہو ں کا بوجھ اٹھا کر کعبۃ اللہ میں داخل ہوتا ہے تو رحمت الٰہی اس کے گناہوں کو دھو دیتی ہے اور انسان کو گناہوں سے ایسے پاک کر دیتی ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا ہو۔
 حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشادفرمایا : بیت اللہ پر ہرروز ایک سو بیس رحمتیں نازل ہوتی ہیں ساٹھ رحمتیں طواف کرنے والوں پر اور چالیس نماز پڑھنے والوںپر اور بیس رحمتیں ان پر نازل ہوتی ہیں جو صرف بیت اللہ کی زیارت کر رہے ہوتے ہیں۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالی ہر رات زمین والوں کو دیکھتا ہے سب سے پہلے اہل حرم کو اور اس سے بھی پہلے ان لوگوں کو جو مسجد حرام میں ہوں ، اللہ جس کو دیکھتا ہے کہ وہ طواف کر رہے ہیں انہیں بھی بخش دیتا ہے اور جو نمازپڑھ رہے ہوں انہیں بھی بخش دیتا ہے اور جنہیں دیکھتاہے کہ وہ خانہ کعبہ کے سامنے ہیں انہیں بھی بخش دیتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بیت اللہ کو دیکھنا عبادت ہے جو شخص ایمان اور درست نیت کے ساتھ بیت اللہ کو دیکھتاہے اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ایسا شخص قیامت کے دن بالکل امن کی حالت میں اٹھے گا۔

باطنی بیماریا ں اور ان کا علاج

  باطنی بیماریا ں اور ان کا علاج آج کے دور میں انسان اپنی جسمانی بیماریوں کا علاج تو بڑی فکر اور بہترین ڈاکٹر سے کرواتا ہے اور انسان ظاہری ...