اتوار، 2 جون، 2024

بیت اللہ (۱)

 

بیت اللہ (۱)

حج بیت اللہ کی سعادت ہر مومن کی تمنا ہے۔ وہ خوش نصیب ہیں جو حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف ہوتے ہیں۔ بیت اللہ عز ت و عظمت کا نشان ہے۔ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کا مرکز و محور بیت اللہ ہے۔ یہ پہلا گھر ہے جو زمین پر بنایا گیا جو کہ مکہ مکرمہ میں ہے۔قرآن مجید میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : ” بنی نوع انسان کے لیے جو پہلا گھر بنایا گیا وہ کعبةاللہ ہے اور تمام جہان والوں کے لیے برکت اور ہدایت کا سر چشمہ ہے۔ حضرت ابرا ھیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے بیت اللہ کی تعمیر کی۔
ارشاد باری تعالی ہے:” اور اس وقت کو یاد کرو جب حضرت ابرا ھیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی اور کہا کہ اے میرے رب ہماری طرف سے قبول فرما بلا شبہ تو ہی سننےوالا جاننے والا ہے “۔
کعبہ معظمہ کی تعمیر کی بنیاد ایمان و اخلاص کے خمیر سے اٹھائی گئی۔ اگرچہ یہ تعمیر انتہائی سادہ اور ظاہری آرائش سے خالی تھی تاہم اللہ پاک نے اس میں ایسی کشش رکھ دی کہ پوری دنیا سے لوگ جوق درجوق اس کی طرف آنے لگے۔ نوع انسانی کو ایک مرکز پر جمع کرنے کے لیے کعبہ بننے کے بعد حضرت ابراھیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ سب جہان والوں کو اللہ تعالی کے گھر آنے کی دعوت دیں۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : ’ (اے ابراھیم علیہ السلام ) لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ لو گ تمہارے پاس پیدل اور دبلے پتلے جانوروں پر دور دراز سے چلتے آئیں گے “۔حضرت ابراھیم علیہ السلام ابو قیس پر چڑھ گئے اور وہاں سے تمام ساکنان عالم کو بیت اللہ میں حاضر ہونے کی ندا دی۔ یہ ندائے ابراھیمی نہ صرف عالم ارضی کے ہر شخص نے سنی بلکہ عالم ارواح میں بھی اسے سنا گیا اور ہر ایک نے اپنی استعداد کے مطابق لبیک کہا۔ جہاں بیت اللہ کی تعمیر کی گئی ہے وہ پوری زمین کا وسط ہے۔ بیت اللہ ساری دنیا میں فیض پہنچا رہا ہے اور اپنے انوار ہر جگہ بکھیر تا ہے۔ اسی وجہ سے پوری دنیا کے مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں تا کہ ان کی توجہ جا ن و دل سے اس طرف ہو اور اس سے فیض حاصل کر سکیں۔ 
روئے زمین پر بسنے والے تمام مسلمان بیت اللہ سے پیار کرتے ہیں اور اپنے دل میں اس کی زیارت کی تمنالیے بے قرارہوتے ہیں۔ جو شخص جس قدر اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کرے اور متقی و پر ہیز گار رہے وہ اسی قدر اس کی زیارت کا شوق رکھتا ہے۔

اسلام کیا ہے

Surah Al-Kahf Ayat 109 Part-02.کیا ہم نے اللہ تعالی کو چھوڑ کر غیر اللہ ...

ہفتہ، 1 جون، 2024

مدینہ طیبہ میں حاضری کے آداب(۱)

 

مدینہ طیبہ میں حاضری کے آداب(۱)

ہر مسلمان کے دل میں یہ تڑپ ہوتی ہے کہ وہ اپنے آقا و مولا رحمت دو عالم سرور کونین حضور نبی کریم ﷺکی مقدس بارگاہ میں حاضر ہو کر درود سلام کا نذرانہ پیش کرے۔ روضہ رسول پر حاضری دینے کے لیے ضروری ہے کہ یہاں پر کچھ آداب کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ ذرا سی بے ادبی سے ہمارے اعمال ضائع ہو سکتے ہیں اور ہمیں خبر تک نہیں ہو گی۔ 
 سب سے پہلے جو بندہ روضہ رسول پر حاضری دینے کے لیے جا رہا ہے اسکی خالصتاً زیارت کی نیت سے جائے کیونکہ سارے کے سارے اعمال و افعال کا دارومدار نیت پر ہے۔ جب زائر سفر میں ہو تو سارے راستے عبادت و اطاعت میں مشغول رہے فرئض ، واجبات میں کو تاہی نہ کرے اور کثرت سے درود و سلام کا ورد کرے۔ اور اپنے اندر عشق مصطفی کی شمع کو روشن کرے اور جیسے جیسے قریب ہوتا جائے شوق و محبت کی اس آگ کو تیز کر دے۔جب مسجد نبوی کے مینار نظر آنے لگ جائیں اور گنبد خضرا پر نظر پڑے تو نہایت عشق و محبت اور عقیدت کے ساتھ ”الصلوة والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ “ کی کثرت کرے۔ اور نہایت ادب ، عقیدت و محبت کے ساتھ آنکھوں سے آنسو بہاتے ہو ئے چلے۔
ہاں ہاں یہ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ 
اور پاﺅں رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہے 
زائر کو اس بات کا اچھی طرح خیال رکھنا چاہیے کہ یہ حضور نبی کریمﷺ کا شہر اقدس ہے اس شہر کے گلی کوچوں میں حضور ﷺ چلتے پھرتے رہے ہیں اس لیے یہاں کی ساری زمین اور ہر چیز تعظیم کے لائق ہے۔ حضرت قاضی عیاض رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :” جس سر زمین کی مٹی کو حضور نبی کریم ﷺ کے جسم اقدس کے ساتھ لگنے کا شرف حاصل ہوا ہے لازم ہے کہ اس کے میدانوں کی بھی تعظیم کی جائے اور اس کی ہواﺅں کو سونگھا جائے اور اس کے درو دیوار کو بوسا دیا جائے۔ 
شہر اقدس میں داخل ہونے سے پہلے غسل کرے اور اچھے کپڑے پہن کر خوشبو لگائے اور عاجزی و انکساری کے ساتھ حضور ﷺ کی مقدس بارگاہ میں حاضری دے۔ اور کچھ صدقہ کر لے تو یہ مستحب عمل ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”اے ایمان والو ! جب تم رسول صلی اللہ علیہ و سلّم سے تنہائی میں کوئی بات عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ کر لو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے ، پھر اگر تم (اس کی طاقت ) نہیں رکھتے تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا ، بڑا مہر بان ہے “۔(سورة المجادلہ 
زائر کو چاہیے کہ مسجد میں اعتکاف کی نیت کرے اور مسجد میں داخل ہو کر نہایت عاجزی و انکساری کے ساتھ اور با ادب ہو کر حجرہ شریف کے پیچھے سے سیدھا سر انور کی طرف سے ریاض الجنہ میں آئے اور دو رکعت نفل تحیة المسجد کی نیت سے ادا کرے۔

1866 اللہ تعالی کی ملاقات کی اہمیت

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 109 Part-01.کیا آخرت کی زندگی حقیقی ...

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 107-108 Part-03.کیا ہمارا ایمان بالغ...

باطنی بیماریا ں اور ان کا علاج

  باطنی بیماریا ں اور ان کا علاج آج کے دور میں انسان اپنی جسمانی بیماریوں کا علاج تو بڑی فکر اور بہترین ڈاکٹر سے کرواتا ہے اور انسان ظاہری ...