اللہ تعالی کی طرف سے بہت ہی آسان فلاح کا راستہ سنیے اور عمل کیجئے تاکہ ہم سب فلاح پا لیں . ہر قسم کی تفرقہ بازی اور مسلکی اختلافات سے بالاتر آسان اور سلیس زبان میں
جمعہ، 3 مئی، 2024
جمعرات، 2 مئی، 2024
معاشرتی حقوق (۱)
معاشرتی حقوق (۱)
اگر کسی قوم کے دل میں باہمی محبت و ایثار کی بجائے نفر ت و عداوت کے جذبات پرورش پا رہے ہوں وہ قوم کبھی بھی سیسہ پلائی دیوار بن کر برے حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اتحاد و اتفاق جو ہر قوم کی قوت کا سر چشمہ ہے اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب معاشرے کا ہر فرد ایک دوسرے کے حقوق کا محافظ ہو۔ اگر ہم ایک دوسرے کے حقوق کا خلوص دل سے تحفظ نہیں کر سکتے تو بڑے سے بڑا خطیب بھی اپنی نصیحت سے قوم کو رشتہ محبت میں نہیں پرو سکتا۔ حق تلفی کی وجہ سے انتہائی قریبی رشتے بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ سگے بہن بھائی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریمﷺ کو ایک ایسی امت کی تشکیل کے لیے مبعوث فرمایا جس کے پیش نظر کلمہ حق کو بلندکرنا،انسانی معاشرہ کے افراد کو خیر اور فلاح و بہبود کی طرف دعوت دینا اور ایک ایسے نظام حیات کو نافذ کرنا جو انسان کی فلاح و بہبود کا ضامن ہو۔ ایک ایسا نظام کرنا جو تمام غیر فطری اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک ایسے نظام کو رائج کرے جس کی بنیاد انسانی مساوات اور عدل و انصاف پر ہو۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کر دے۔( سورۃ الحجرات )
حضور نبی کریم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا : اے فرزندان اسلام کان کھول کر سن لو ! تمہارے خون ، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تمہارے لیے اتنی مقدس اور محترم ہیں جس طرح اس مقدس مہینے کا یہ دن اس معظم شہر مکہ میں معزز اور حرمت والا ہے۔ پھر فرمایا : اس زندگی کے بعد تم ضرور اپنے رب سے ملاقات کرو گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ایک دن حضور نبی کریم ﷺ بیت اللہ کا طواف فرما رہے تھے تو آپ ﷺ نے بیت اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے کعبہ تو کتنا پاکیزہ ہے اور تیری خوشبو کتنی معطر ہے۔ اے کعبہ تو کتنی عظمت والا ہے اور تیری عزت و حرمت کتنی بلند ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مومن کے جان و مال اور آبرو کی عزت و حرمت تیری عزت و حرمت سے بھی اونچی ہے۔ ( ابن ماجہ )
جو بندہ بھی حضور نبی کریم ﷺ سے محبت کا دعوی کرتا ہے اور آپ ﷺ کے ارشادات کو سنتا ہے وہ غلطی سے بھی کسی کی بھی حق تلفی نہیں کرے گا۔
بدھ، 1 مئی، 2024
حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ(۲)
حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ(۲)
جب جنگ احد کا اعلان ہوا تووحشی بھی قریش مکہ کی طرف سے اس جنگ میں شریک ہوا اوراس کا مقصد صرف اور صرف حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کرنا تھا ۔
جب جنگ کا آغار ہوا تو کافروں کی طرف سے سباع بن عبد العزیز گرجتا ہوا نکلا اور مسلمانوں کو کہا ” ھل من مبارز“یہ کافروں کا بہت بڑا جرنیل تھا جب اس نے عاشقان مصطفی ﷺ کو پکارا تو حضرت سیدنا امیر حمزہ ؓ آگے نکلے اور ایک ہی وار میں اسے واصل جہنم کر دیا ۔ کافروں کی صفوں میں بھگدڑ مچ گیا اور شور برپا ہو گیا کہ ہمارا سردار مارا گیا ۔
پھر آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا پاﺅں پھسلا تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ تیر اندازوں کی پہاڑی کے پاس گر گئے ۔ وحشی بن حرب نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور زہر آلود نیزہ آپ کی طرف پھینکا جو آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے جسم مبارک میں پیوست ہو گیا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا بہت زیادہ خون بہنے لگا جس سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ جام شہادت نوش فرماگئے۔یہ پندرہ شوال کا دن تھا ۔ پھر مشرکین نے آپ ؓ کے جسم کے اعضاءکو کاٹا اور پیٹ چاک کیا ۔
عتبہ کی بیٹی ھندہ بھی قریب آئی اورآپ ؓ کا کلیجہ منہ میں ڈالا اور اسے چبایا لیکن اپنے حلق سے نیچے نہ اتار سکی ۔ جب کافی دیر حضرت سیدنا امیر حمزہ ؓ واپس نہ آئے تو آپ ﷺ نے حضرت سیدنا علی المرتضی ؓ سے کہاکہ جا کر حمزہ ؓ کو تلاش کرو ۔ حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ جب امیر حمزہ ؓکو تلاش کرتے ان کی لاش کے پاس پہنچے اور ان کے اعضاءکٹے دیکھ کر مولا علی ؓ کی چیخ نکل گئی ۔
حضرت علی نے واپس آکر حضور نبی کریم ﷺ کو آپ کی شہادت کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھے ان کی لاش کے پاس لے چلو ۔ جب آپ ﷺ اپنے چچا کی لاش کے پاس پہنچے تو دیکھ کر رو پڑے اور اتنا روئے کہ آپ ﷺ کی ہچکی بندھ گئی ۔ حضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا :
میرے چچا میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اللہ کی راہ میں صدقہ دینے والے تھے ، تم غریبوں اور مسکینوں کی مدد کر نےوالے تھے ، تم بیوہ اور یتیموں کی خبر گیری کرنے والے تھے ۔ آج میں تمہاری شہادت کا گواہ ہوں کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالی کی عدالت لگے گی ۔ جب شہید اٹھیں گے ان میں بدر اور احد کے شہید بھی ہوں گے ۔ جب شہیدوں کا قافلہ حشر کے میدان میں چلے گا تو شہیدوں کی سرداری کا جھنڈا میرے چچا امیر حمزہ ؓ کے پاس ہو گا ۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱)
سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱) ارشاد باری تعالی ہے :”اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی مردوں کے لیے ان...
-
ولادت مصطفی ﷺ حضور نبی کریم ﷺ کی آمد سے قبل عرب اور پوری دنیا کے حالات بہت خراب تھے ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی ۔لوگ کفر شرک میں مبتلا تھے...
-
رحمتِ کونین ﷺ(۲) حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی میں بحثیت رحمۃ اللعالمین بے شمار واقعات ملتے ہیں ۔ آپ رحمۃ اللعالمین ہی ہیں جو مجبور اور بے سہا...
-
ذکر الٰہی کی فضیلت و فوائد (۲) حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’نبی رحمتﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہترین عمل ک...

