اللہ تعالی کی طرف سے بہت ہی آسان فلاح کا راستہ سنیے اور عمل کیجئے تاکہ ہم سب فلاح پا لیں . ہر قسم کی تفرقہ بازی اور مسلکی اختلافات سے بالاتر آسان اور سلیس زبان میں
جمعہ، 12 جنوری، 2024
جمعرات، 11 جنوری، 2024
نماز میں دل لگانے کا طریقہ
نماز میں دل لگانے کا طریقہ
جب بندہ نماز میں داخل ہوتا ہے تو ایسے وسوسے اور خیال آنا شروع ہو جاتے ہیں جن سے توجہ نماز سے ہٹ جاتی ہے اور نماز میں یکسوئی نصیب نہیں ہوتی ۔ امام غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نما ز میں دل لگانے ، شیطانی وسوسوں سے بچنے ، خشوع خضوع برقرار رکھنے اور حضور قلبی حاصل کرنے کے لیے درج ذیل تدابیر بیان کرتے ہیں ۔ ۱: جیسے ہی انسان اذان کی آواز سنے تو دل میں تصور کرے کہ مجھے میرے خالق و مالک کی بارگاہ اقدس میں حاضری کا بلاوا آیا ہے اور اب میں اس ہر کام پر اس حاضری کو ترجیح دوں گا ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’(اللہ کے اس نور کے حامل) وہی لوگ ہیں جنہیں تجارت اور خریدو فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے اور نہ نماز قائم کرنے سے‘‘۔ (سورۃ النور) ۔
سورۃ الجمعہ میں ارشاد باری تعالی ہے : ’’اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن (جمعہ کی) نماز کے لیے اذان دی جائے تو فورا ً اللہ کے ذکر (یعنی خطبہ و نماز) کی طرف تیزی سے چل پڑو اور خرید و فروخت ترک کر دو‘‘۔ ۱:خشوع خضوع کے لیے ضروری ہے کہ مئوذن کی صدا سننے کے بعد نماز کے سوا کوئی بھی کام دل کو بھلا نہ لگے ۔ دل بار بار اپنے خالق و مالک کی طرف متوجہ ہو اور خوش ہو کہ مالک نے اسے بلایا ہے اور میں حاضر ہو کر اسے اپنی تمام مناجات عرض کرو ں گا ۔اپنے گناہوں کی معافی مانگوں گا ۔ شوق اور محبت کے ساتھ قیام ، رکوع اور سجود کے ذریعے سے دلی سکون حاصل کرو ں گا ۔ اور اپنے تمام غموں اور صدمات ہجر و فراق کا ازالہ کروں ۔ میں اپنے مالک حقیقی کے سامنے پیش ہونے کے لیے طہارت کروں گا ، اچھے کپڑے پہنوں گا اور خوشبو لگائوں گا ۔
۲: نماز میں دل لگانے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ نماز کے معانی و مفہوم انسان کو یاد ہو۔جیسے ہی نماز شروع کرے تو اس کا دل ان معانی کی طرف مائل ہو جائے ۔ مثلا جیسے ہی لفظ ’’ سبحان ‘‘ ادا کرے تو خدا کی بڑائی ، پاکیزگی اور تقدس کاتصور دل و دماغ میں ٹھہر جائے اور نما زی پر یہ خٰیال حاوی ہو جائے کہ وہ سب سے بڑے باد شاہ کے دربار میں حاضرہے جو ہر عیب اور نقص سے اس طرح پاک ہے کہ اس سے زیادہ پاکیزگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔
۳:جب اللہ تعالی کی کبریائی کا ذکر آئے تو آسما ن اور زمین میں موجود کائنات کی ہر شے سے اسے بڑا جانے اور ساری مخلوق کواس کی عظمت کے آگے حقیر جانے ۔
۴: نماز شروع کرنے سے پہلے نمازی کا دل باقی تما م چیزوں سے بیگانہ ہو کر اپنے رب کی طرف مائل ہو جائے ۔
بدھ، 10 جنوری، 2024
نماز کے معاشرتی فوائد(۲)
نماز کے معاشرتی فوائد(۲)
صبح خیزی : رات کو جلدی سونا اور صبح کو سورج طلوع ہونے سے پہلے جاگنا انسان کی صحت کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔جو لوگ نماز کی پابندی کرتے ہیں وہ لوگ اس اصول کی خلاف ورزی کبھی نہیں کر سکتے ۔ جب تک ہم رات کو جلدی نہیں سوئیں گے اس وقت تک صبح جلدی آنکھ نہیں کھل سکتی ۔ اس لیے حضور نبی کریم ﷺ نے رات کو بے کار باتیں کرنے سے منع فرمایا تا کہ انسان وقت پر سوئے اور صبح وقت پر جاگے اور صبح جلدی جاگنے کی مسلمانوں کو عادت ہو جائے ۔ مئوذن اذان میں بھی پکارتا ہے ۔ سونے سے نماز بہتر ہے ۔
خوف خدا : مسلمان جو نماز پڑھتا ہے جب غلطی یا کمزوری کی وجہ سے اس کا قدم ڈگمگا جائے تو رحمت الہی اس کا ہاتھ تھام لیتی ہے ۔ انسان کو اپنے فعل کی وجہ سے ندامت ہوتی ہے اور خدا کے حضور پیش ہونے سے شرم آتی ہے اس کا ضمیر اس کو ملامت کرتا ہے اور لوگوں سے بھی شرماتا ہے کہ لوگ کہیں گے کہ نمازی ہو کر کس طرح کے کام کر رہا ہے ۔نمازی کے پائوں بدی کی طرف جانے سے کانپتے ہیں اور انسان برائیوں سے بچ جاتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : بیشک نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے ۔
ہشیاری : نماز عقل ، ہوش ، بیداری اور آیات الہی میں غورو فکر کرنے ، خدا کی تسبیح و تہلیل اور اپنے لیے دعائے مغفرت کرنے کا نام ہے ۔ اس لیے وہ تمام چیزیں جو انسان کی عقل و ہوش اور فہم و احساس کو کھو دیں نماز کی حقیقت کے منافی ہے ۔ اس لیے جب شراب کی ممانعت نہیں ہوئی تھی تب بھی نشہ کی حالت میں نماز پڑھنا جائزنہیں تھا ۔
ارشاد باری تعالی ہے : ’’نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جائو یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو کچھ تم کہتے ہو‘‘ ۔ اس لیے نمازی ان تمام چیزوں سے جو اس کے ہوش کو گم کر دے پرہیز کرتا ہے اور ان کے قریب تک نہیں جاتا ۔الفت و محبت : نماز مسلمانوں میں باہمی الفت و محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے ۔ محلہ کے تمام مسلمان جب کسی ایک جگہ دن میں پانچ مرتبہ جمع ہوتے ہیں باہم ایک دوسرے سے ملیں گے تو ان کی ایک دوسرے سے پہچان ہو گی اور آپس میں الفت ومحبت پیدا ہو گی ۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’ خدا سے ڈرتے رہو اور نما ز کھڑی رکھو ، اور مشرکین میں سے نہ بنو ، ان میں سے جنہوں نے اپنے دین میں پھوٹ ڈالی اور بہت سے جتھے ہو ں گے ‘‘۔ (سورۃ الروم) ۔
اس سے معلوم ہوا کہ نمازکا اجتماع مسلمانوں کو جتھا بندی اور فرقہ آرائی سے بھی روک سکتا ہے ۔ جب ایک دوسرے سے ملاقات ہوتی رہے گی تو غلط فہمیوں کا موقع کم ملے گا۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
حکمت و دانش
حکمت و دانش حکمت کا ایک کلمہ انسان کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے ۔ دانش کی کہئی ہوئی ایک بات انسانی فکر کو تبدیل کر دیتی ہے اور بصیرت بھرا ای...
-
ذکر الٰہی کی فضیلت و فوائد (۲) حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’نبی رحمتﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہترین عمل ک...
-
سیر ت النبی ﷺ سچائی اور عہد وفا حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ہمیشہ صدق اور ایفائے عہد کا درس دیا چاہے وہ کسی فرد واحد کے ساتھ ہو ...
-
ولادتِ سرور کونین ﷺ (۱) عید میلا دالنبی ؐ اسلامی تاریخ کا ایک مبارک اور نورانی دن ہے جو غلامانِ مصطفی ﷺ کے دلوں میں عشق و محبت ، عقیدت و...

