پیر، 4 اپریل، 2022

Shortclip - ہم دنیا میں کیوں آئے ہیں؟

اخلاص ِامیر

 

اخلاص ِامیر

عتبہ بن فرقد علیہ الرحمۃ کہتے ہیں، میں کھجور اور گھی کے بنے ہوئے حلوے کے ٹوکرے لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے استفسار فرمایا یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: کھانے کی چیز ہے۔ آپ صبح سے عوام الناس کی خدمت میں سرگرم ہوجاتے ہیں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ جب آپ کارِ خدمت سے فارغ ہوکر گھر جائیں تو اس میں سے کچھ تناول فرما لیا کریں۔ آپکی جانِ عزیز کو طاقت وتوانائی اور طراوت حاصل ہوجایا کریگی اور آپ مزید تندہی سے مسلمانوں کے امور بجا لائیں گے۔ حضرت عمر نے ٹوکرا کھول کر دیکھا۔ فرمایا: عتبہ! میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے ہر مسلمان کو حلوے کا ایک ایسا ٹوکرا دے دیا ہے۔ میں نے عرض کیا‘ امیرالمومنین! میں قبیلہ قیس کا سارا مال بھی خرچ کردوں یہ پھر بھی ممکن نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: پھر مجھے بھی تمہارے اس حلوے کی ضرورت نہیں ہے۔
کھانے کا وقت ہو چکا تھا‘ آپ نے ایک بڑا پیالہ منگوایا جس میں سخت روٹی اور سخت گوشت کے ٹکڑوں سے بنا ہوا ثرید تھا۔ آپ نے مجھے بھی شریک طعام فرمایا۔ حضرت عمر میرے ساتھ اس سالن کو بڑی رغبت سے تناول فرما رہے تھے۔ میں کوھان کی چربی سمجھ کر ایک سفید ٹکڑے کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو اسے اٹھانے کے بعد پتہ چلتا کہ یہ تو پٹھے کا ٹکڑا ہے۔ میں ناچار گوشت کے اسی ٹکڑے کو چبانے لگتا، لیکن وہ اتنا سخت ہوتا کہ میں اسے نگل نہ پاتا، جب حضرت عمر کی توجہ ادھر ادھر ہوجاتی تو میں گوشت کے اس ٹکڑے کو منہ سے نکال کر پیالے اور دسترخوان کے درمیان چھپا دیتا۔
کھانے سے فارغ ہوکر حضرت عمر نے نبیذ کا ایک ایسا پیالہ منگوایا جس میں ترش شربت تھا جو سرکہ بننے والا تھا۔ انہوں نے مجھے پیش کیا۔ میں اسے لے کر پینے لگا، لیکن بڑی مشکل سے حلق سے نیچے اتار سکا۔ انہوں نے وہ پیالہ مجھ سے لے لیا اور اسے پی گئے۔ پھر فرمانے لگے‘ اے عتبہ سنو! ہم روزانہ ایک اونٹ ذبح کرتے ہیں اور اسکی چربی اور عمدہ ونرم گوشت سے ان مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں۔ جو مدینہ منورہ میں باہر سے تشریف لاتے ہیں۔ اسکی گردن آل عمر کے حصہ میں آتی ہے‘ وہ یہ سخت گوشت کھاتے ہیں۔ اور پھر یہ باسی اورترش نبیذ پیتے ہیں تاکہ یہ پیٹ میں جاکر گوشت کے ٹکڑے ٹکڑے کرے۔ اسے نرم کردے، یہ سخت گوشت ہمیں تکلیف نہ دے سکے اور باآسانی ہضم ہوجائے۔ (کنزالعمال)

ہفتہ، 2 اپریل، 2022

Dars-e-Quran Urdu. Dars No 2037 ( Surah Al-Haaqqa Ayat 13 - 20 ) درس قر...

Shortclip - زندگی کا مقصد

دنیا سے بے نیازی

 

دنیا سے بے نیازی

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ۔ ایک بار وہ حضور آقائے نامدار علیہ التحیۃ والثناء کے ساتھ باہر نکلے ۔ آپ انصار کے ایک باغ میں تشریف لے گئے۔ وہاں زمین پر کچھ کجھوریں گری ہوئی تھیں۔ آپ نے کجھوروں کو چن لیا اورانھیں تناول فرمانا شروع کیا اور مجھ سے بھی پوچھا اے ابن عمر! تم نہیں کھا رہے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ان کجھوروں کو کھانے کی طرف میری تو رغبت نہیں ہورہی ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن میرا دل تو چاہ رہا ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ چوتھی صبح ہے کہ میں نے اب تک کچھ نہیں کھایا (اے ابن عمر)میں چاہتا تو اپنے پروردگار سے دعاء کرتا اور (بلاشبہ)وہ مجھے قیصر وکسریٰ جیسا ملک عطاء فرمادیتا ۔  اے ابن عمر تمھارا اس وقت کیا حال ہوگا ،جب تم لوگ ایسے (آسودہ)ہوجائو گے، جو ایک سال کی روزی ذخیرہ کرکے رکھیں گے اوریقین کمزور ہوجائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں اللہ کی قسم!ہم ابھی اسی باغ میں ہی تھے کہ یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ ’’اوربہت سے جاندار ایسے ہیں جو اپنی غذا جمع کرکے نہیں رکھتے ،اللہ ہی ان کو (مقدرشدہ )رزق پہنچاتا ہے اورتمہیں بھی،اور وہ سب کچھ سنتا ہے اورسب کچھ جانتا ہے‘‘۔(عنکبوت ۶۰) 

پھر جناب رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ نے مجھے نہ تو دنیا جمع کرنے کا حکم دیا ہے اورنہ ہی خواہشات کی پیروی کرنے کا ۔ جو انسان اس ارادے سے دنیا جمع کرتا ہے کہ بقیہ زندگی میں کام آئے گی، تواسے (اچھی طرح )سمجھ لینا چاہیے کہ زندگی (کی باگ ڈور )تو اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے (کیا خبر کب پیغامِ اجل آجائے)اورغورسے سنو میں نہ تو درھم ودینار جمع کرتا ہوں اورنہ ہی کل کے لیے کچھ پس انداز اکرکے رکھتا ہوں۔ (ابن حبان،ابن ابی حاتم)

حضرت عکرمہ بن خالد رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ حضرت حفصہ ،حضرت ابن مطیع اورحضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی گرتی ہوئی صحت پر بڑی تشویش ہوئی۔ ان حضرات نے آپ سے گزارش کی کہ اگر آپ اچھا کھانا کھایا کریں تو اس سے آپ کی صحت بہتر رہے گی اورآپ کو راہِ حق پر چلنے میں زیادہ قوت بھی حاصل ہوگی۔ آپ نے فرمایا مجھے خبر ہے کہ تم میں سے ہر شخص میرا خیر خواہ ہے ۔ مگر میں نے اپنے دونوں ساتھیوں جناب نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم اورحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ایک راستے پر چلتا ہوا چھوڑا ہے۔ اگر میں نے ان دونوں کا راستہ چھو ڑ دیا تو ان کی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکوں گا۔ (عبد الرزاق ،بہیقی )

جمعہ، 1 اپریل، 2022

حضور کا سادہ طرزِ حیات

 

حضور کا سادہ طرزِ حیات

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی سادگی کا بیان فرماتے ہیں :حضور اکرم ﷺ نے اون کا کپڑا پہنا اورٹانکالگا ہوا جوتا استعمال فرمایا،کھردرے ٹاٹ کے کپڑے پہنے اور’’شبع ‘‘ تناول فرمایا۔حضرت حسن بصری سے پوچھا گیا کہ شبع کس کھانے کو کہتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت فرمائی، موٹے پسے ہوئے جو جنہیں حضور سرور کائنات ﷺ پانی کے گھونٹ سے نگل لیا کرتے تھے۔ (ابن ماجہ) حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہااپنا واقعہ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے آٹا چھا ن کر حضور نبی محتشم ﷺ کیلئے ایک چپاتی پکائی ۔جب وہ آپ کی خدمت اقدس میں پیش کی گئی تو آپ نے استفسار فرمایا :یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا یہ کھانے کی ایک قسم ہے جسے ہم اپنے علاقے میں پکایا کرتے ہیں (آپ حبشہ کی رہنے والی تھیں) میرا جی چاہا کہ میں آپ کیلئے بھی اس طرح کی ایک چپاتی بنائوں ۔ آپ نے ارشادفرمایا :نہیں! بلکہ اس چھان کو دوبارہ اسی آٹے میں واپس ملاکر گوند ھواور پھر اس میں سے روٹیاں تیار کرو۔ حضرت رافع رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ حضرت سلمیٰ ؓ فرماتی ہیں۔ حضرت حسن بن علی ، حضرت عبداللہ بن جعفر اورحضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہم) میرے پاس آئے اورمجھ سے فرمائش کی، کہ آج آپ ہمارے لیے وہ کھانا تیار کریں جو ہمارے پیارے رسول ﷺ کو مرغوب تھا۔ میں نے کہا میرے پیارے بیٹو!میں پکا تو دوں گی ،لیکن آج شاید تم اسے آسانی سے کھانہ سکو۔(وہ مُصِر رہے تو )میں اٹھی ،جو لے کران کو پیسا اورپھونک مار کر اس کی موٹی موٹی بھوسی اڑا دی پھر اس آٹے سے ایک روٹی تیار کرلی، اس پر (زیتون کا)تیل لگایا ،اس پر کالی مرچ چھڑک دی اور اسے ان حضرات کے سامنے رکھ دیا ۔ میں نے کہ یہ ہے وہ کھانا جو حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو مرغوب تھا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں۔ حضور سید عالم ﷺ کی خدمت عالیہ میں ایک پیالہ پیش کیاگیا ۔جس میں شہد اوردودھ کاآمیزہ تھا اس پر آنحضور ﷺ نے فرمایا :پینے کی دوچیزوں کوایک بنادیا گیا ہے۔ اورایک پیالے میں دوسالن جمع کردیے گئے ہیں۔ مجھے اسکی ضرورت نہیں، غور سے سنو! میں یہ نہیں کہتا کہ یہ حرام ہے ،لیکن میں یہ نہیں پسند کرتاکہ اللہ تعالیٰ مجھ سے قیامت کے دن ضرورت سے زائد چیزوں کے بارے میں پوچھے۔  میں تو اللہ کے حضور میں تواضع اختیار کرتا ہوں کیونکہ جو بھی اللہ کیلئے تواضع اختیار کریگا ،اللہ اسے سر بلند کردیگااور جو تکبر کریگا اللہ اسے سرنگوں کردیگا اورجو خرچ میں میانہ روی اختیار کریگا اللہ اسے غنی کردیگا اورجو موت کو کثرت سے یاد کریگا اللہ اپنے اس بندے سے محبت کرے گا۔ (طبرانی)

Dars-e-Quran Urdu. Dars No 2036 ( Surah Al-Haaqqa Ayat 06 - 12 ) درس قر...

خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔

  خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔ اسلامی تاریخ ایسی پاکیزہ اور باکمال شخصیات سے مزین ہے جنہوں نے اپنی بے مثال سیرت ، اعلی کردار اور بے لوث ...