منگل، 5 جنوری، 2021

Dars-e-Quran Urdu. Dars No 1618 ( Surah Al-Ahqaf Ayat 27 ) درس قرآن سُوۡ...

Insaan Ki Tareekh , Maqsad, Nejaat - انسان کی تاریخ ،مقصد، نجات

Kya Hum Bena Kisi Maqsad Kay Zindagi Guzar Saktay Hain?

حضرت ابوالدرداء کا ذوقِ علمی

 

حضرت ابوالدرداء کا ذوقِ علمی

حضرت ضحاک علیہ الرحمۃ بیان کرتے ہیں، حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے اہل دمشق سے ارشادفرمایا :اے دمشق والو! تم میرے دینی بھائی ہو، خطے میں میرے ہمسائے ہواوردشمنوں کے خلاف میرے مددگار بھی ہولیکن کیا وجہ ہے کہ تم مجھ سے دوستی نہیں رکھتے حالانکہ میرے اخراجات بھی تمہارے ذمہ نہیں ہیں بلکہ انھیں بھی دوسروں نے اٹھارکھا ہے،میں مشاہدہ کر رہا ہوں کہ تمہارے علماء اٹھتے جارہے ہیں اورتمہارے ناخواندہ لوگ ان سے علم حاصل نہیں کررہے ، میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ اللہ نے جس رزق کا خود ذمہ لے رکھا ہے تم اسکے پیچھے پڑے ہوئے ہو، جبکہ اللہ نے تمہیں جن کاموں کا حکم دیا ہے تم نے انھیں ترک کر رکھا ہے، غور سے سنو !کچھ لوگوں نے بڑی مضبوط عمارتیں بنائیں ،بہت دولت جمع کی اور بڑی دور کی امیدیں لگائیں لیکن پھر بھی ان کی عمارتیں گر کر قبرستان بن گئیں،انکی امیدیں دھوکہ ثابت ہوئیں اورایسے لوگ خود بھی ہلاک ہوگئے ،غور سے سنو !علم سیکھواورعلم سکھائو، علم سیکھنے والا اورسکھانے والا دونوں اجر میں برابر ہیں اوراگر یہ دونوں نہ ہوں تو پھر لوگوں میں کوئی خیر نہیں ۔حضرت حسان علیہ الرحمۃ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء نے اہل دمشق سے فرمایا:کیا تم اس بات پر رضاء مند ہوگئے ہو کہ سال ہا سال گندم کی روٹیاں پیٹ بھر کر کھاتے ہولیکن تمہاری مجلسوں میں اللہ کا نام نہیں لیا جاتا ، تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تمہارے علماء جارہے ہیں لیکن تمہارے جاہل علم حاصل نہیں کررہے ، اگر تمہارے علماء چاہتے تو ان کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا تھا اوراگر تمہارے ان پڑھ افراد علم کو تلاش کرتے تو وہ اسے ضرور پالیتے ،اے لوگو!نقصان دہ چیزوں کی بجائے نفع دینے والی چیزیں اختیار کرو۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، جو امت بھی ہلاک ہوئی اسکی ہلاکت کے دوہی اسباب تھے ،ایک تووہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے تھے اوردوسرے وہ اپنی تعریف خود کیا کرتے تھے ۔ایک اورموقع پر حضرت ابوالدرداء نے ارشاد فرمایا:اگر تین کام نہ ہوتے تو میں کبھی یہ بات پسند نہ کرتا کہ اس دنیا میں قیام پذیر رہوں ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے استفسار کیا کہ وہ تین کام کون سے ہیں ؟انھوں نے ارشادفرمایا:ایک تو یہ کہ دن اوررات کی ساعتوں میں اپنا سرنیاز اپنے خالق ومالک کے سامنے زمین پر رکھناجو میری آخرت کی زندگی کے لیے میرا اثاثہ بن رہا ہے ،دوسرا موسم گرما کی سخت حدت میں روزہ رکھ کر پیاسا رہنا اورتیسرا ایسا لوگوں کے ساتھ ہم مجلس ہونا جو عمدہ کلام کو اس طرح ذوق وشوق سے چنتے ہیں جیسے خوش ذائقہ پھل چنا جاتا ہے۔(ابونعیم)

پیر، 4 جنوری، 2021

بخشش کے راستے

 


بخشش کے راستے

 حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:میں نے جبرئیل علیہ السلام کو خواب میں دیکھاکہ وہ میرے سرہانے کی طرف کھڑے ہیں اورمیکائیل علیہ السلام میری پاینتی کی طرف کھڑے ہیں،اُن میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا ہے !ان کی کوئی مثال بیان کرو۔۔۔۔دوسرے نے مجھے مخاطب ہوکر کہا!سماعت فرمائیے آپ کے گوشِ انور سنتے رہیں اورآپ کاقلب منور سمجھتا رہے!کہ آپ کی مثال اورآپ کی امت کی مثال ایک ایسے بادشاہ کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنوایااوراس میں ایک کمرہ بنوایااورپھر ایک قاصد بھیجاجو لوگوں کو دعوت پر بلالائے ،پس کچھ لوگوں نے اس دعوت کو قبول کیااورکچھ نے اسے ترک کردیا،پس (اس مثال کی تشریح یہ ہے) کہ اللہ تبارک وتعالیٰ بادشاہ ہے وہ گھر اسلام ہے اوراس میں آراستہ کیا گیا کمرہ جنت ہے اوراے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ اللہ کے قاصد ہیں لہٰذا آپ کی دعوت پر جس نے لبیک کہا وہ اسلام میں داخل ہوگیا،اورجو اسلام میں داخل ہوا،وہ جنت میں داخل ہوگیااورجو جنت میں داخل ہوگیا وہ وہاں کی نعمتوں سے شادکام ہوگا۔(بخاری،ترمذی)

 حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:اللہ تبارک وتعالیٰ کسی مومن کی نیکی کم نہیں فرماتابلکہ دنیا میں بھی اس کا بدلہ عطاکرتا ہے،آخرت میں بھی اس پر ثواب مرحمت فرماتا ہے،مگر کافر کو اس کی نیکیوں کا صلہ دنیا میں نمٹادیتا ہے اورجب وہ آخرت میں پہنچتا ہے ،اس کے پاس ایسی کوئی نیکی نہیں ہوتی ،جس کا وہ اچھا اجر پائے ۔(مسلم،احمد)

 حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں،حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا:اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو عذاب نہیں دیتا مگر اُس سرکش اور اللہ پر جسارت کرنے والے کو جو لاالہ الااللہ کہنے سے انکارکردے۔ ( ا بن ماجہ)

حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اللہ اوراس کے رسول پر ایمان لایا،نماز قائم کی،زکوٰۃ اداکی،رمضان کے روزے رکھے ،تو اللہ پر حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے خواہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرے یا اسی سرزمین پر بیٹھا رہے جہاں اس کی ماں نے اس کوجنم دیا تھا۔(بخاری ،احمد)

اتوار، 3 جنوری، 2021

Mulaqaat-E-Rab (Pashto)

تعلیم اورارشاداتِ نبوی

 

تعلیم اورارشاداتِ نبوی

٭اللہ تبار ک وتعالیٰ نے مجھے جس ہدایت اورعلم کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، اس کی مثال ابر کثیر جیسی ہے کہ وہ زمین کے ایک ایسے ٹکڑے پر برستا ہے ، جو اسے قبول کرتا ہے اوراس سے بہت زیادہ ہریالی اگالیتا ہے اورزمین کا ایک ٹکڑا ایسا ہے جو پانی کو روک لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے لوگوں کو بھی نفع فرماتا ہے۔وہ اس سے خود بھی سیراب ہوتے ہیں مویشیوں کو پلاتے ہیں اورکھیتی باڑی بھی کرتے ہیں اور ایک ایسا (بدنصیب) خطہ بھی ہے جس میں نہ تو پانی ٹھہرتا ہے اورنہ ہی اس سے کوئی سبزہ پیدا ہوتا ہے ۔(بخاری شریف)

امام غزالی فرماتے ہیں، آپ نے پہلی مثال اُن لوگوں کے بارے میں ارشادفرمائی ہے جو اپنے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں دوسری مثال اُن لوگوں کی ہے جو اپنے علم سے دوسروں کو بھی نفع پہنچاتے ہیں اورتیسری مثال اُن محروم لوگوں کی ہے جو اپنے علم سے نہ تو خود فائدہ اٹھاتے ہیں اورنہ دوسروں تک اس کا فیض پہنچاتے ہیں۔٭بہترین عطیہ اورسب سے اچھا تحفہ کیا ہے؟دانائی کی وہ ایک بات جسے تم سنوپھر اسے محفوظ رکھ کر اپنے دوسرے بھائی کے پاس لے جائو اوراسے سکھادو(تمہارایہ عمل)ایک سال کی عبادت کے برابر ہے۔(مجمع الزوئد) ٭بے شک اللہ تعالیٰ اس کے ملائکہ آسمانوں اورزمینوں کی مخلوق حتیٰ کہ چیونٹی اپنے بل میں اورمچھلی دریا میں لوگوں کو نیکی سکھانے والوں کیلئے رحمت کی دعا مانگتے ہیں۔(جامع ترمذی)

٭ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کاشانہ اقدس سے باہر تشریف لائے تو آپ نے دو مجلسیں دیکھیں ، ان میں سے ایک مجلس والے اللہ تبار ک وتعالیٰ سے دعا مانگ رہے تھے اوراُس کی طرف متوجہ تھے اوردوسری مجلس والے اہل حلقہ کی تعلیم وتلقین میں مصروف تھے۔آپ نے ارشادفرمایا:یہ لوگ اللہ تبار ک وتعالیٰ سے سوال کرتے ہیں اگر وہ چاہے تو ان کو عطا کرے ، اگر چاہے تو روک دے، لیکن وہ گروہ لوگوں کو تعلیم دے رہا ہے اوربے شک مجھے بھی معلم بناکر بھیجا گیا ہے پھر آپ ان کی طرف تشریف لے گئے اوران کے درمیان بیٹھ گئے ۔(سنن ابن ماجہ)

٭دوقسم کے انسانوں پر رشک کیا جاسکتا ہے ، ایک وہ شخص جس کو اللہ تبار ک وتعالیٰ نے دین کی بصیرت عطافرمائی اوروہ اسکے ساتھ فیصلہ بھی کرتا ہے اوراسے لوگوں کو سکھاتا بھی ہے اوردوسرا وہ شخص جس کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے مال کی فراوانی عطافرمائی اوراس کو خیر کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق بھی نصیب ہوئی ۔(بخاری)

اصلاح معاشرہ

   اصلاح معاشرہ   انسانی معاشرہ جب بھی بگاڑ ، نا انصافی اور اخلاقی پستی کے اندھیروں میں ڈوبتا ہے تو اسے کسی ایسے رہنماکی ضرورت ہوتی ہے جو دل...