توبہ (2)
تیسری صورت یہ ہے کہ حاضر و موجود خدا کی شرم اسے دامن گیر ہو جائے اور وہ اس کی مخالفت پر اپنے آ پ نادم ہونے لگے ۔ان تینوں میں پہلا تائب ، دوسرا منیب اور تیسرا اواب ہے ۔
توبہ کے بھی تین مقام ہیں پہلا توبہ ، دوسرا انابت اور تیسرا اوبت ۔توبہ عذاب کے خوف کی وجہ سے ہوتی ہے ، انابت طلب ثواب کی خاطراور اوبت تعمیل حکم کے لیے ۔توبہ عام مسلمان کا درجہ ہے اور یہ گناہ کبیرہ سے ہوتی ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے : ”اے ایمان والواللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کے لیے نصیحت ہو جائے “۔ ( سورۃ التحریم )۔
انابت اولیائے کاملین اور مقربین کا مقام ہے ۔سورۃ ق میں ارشاد باری تعالی ہے : ”جو رحمن سے بے دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع کرتا ہوا دل لایا “ ۔ اور اوبت انبیائے کرام اور مرسلین کا شیوہ ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :” کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا “۔ ( سورۃ ق ) انابت صغیرہ گناہوں سے محبت کی وادی میں قدم رکھنے کانام ہے جبکہ اوبت کے معنی اپنی ذات کو نظر انداز کر کے اللہ تعالی کی طرف کامل رجوع کے ہیں ۔
تو بہ کی حقیقت اللہ تعالی کی منع کردہ باتوں سے رکنے ، دل کو خواب غفلت سے بیدار کرنے اور فوری طور پر اپنے عیوب پر مطلع ہو جانے کا نام ہے ۔ جب انسان اپنی برائی اور بد اعمالی کا احساس کر لیتا ہے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے خود بخود توبہ کا دروازہ کھول دیتا ہے اور آخر کار اسے گناہوں کی بد بختی سے نکال کر اپنی عبادت کی چاشنی عطا فرما دیتا ہے ۔ حضرت ذالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ توبہ کی دو قسمیں ہیں توبہ انابت اور توبہ استحیاءتوبی انابت یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی کے عذاب کے خوف سے توبہ کرے اور توبہ استحیاءیہ ہے کہ کرم خدا وندی کے شرم سے بندہ توبہ کرے ۔خوف جلال کے اظہار سے پیدا ہوتا ہے اورحیانظارہ جمال سے پیدا ہوتی ہے پس ایک جلال میں خوف کی آگ سے جلتا ہے اور دوسرا س کے نور جمال میں حیا کے نور سے منور ہوتا ہے ۔ (کشف المحجوب )۔
سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :”بیشک اللہ پسند رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کوا ور پسند رکھتا ہے ستھروں کو “۔
اللہ تعالی ہمیں سچی توبہ نصیب فرمائے ، گناہوں سے بچنے کی توفیق دے ، اگر کوئی گناہ سر زد ہو جائے تو فوری اپنی بارگاہ میں رجوع کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں