منگل، 27 اکتوبر، 2026

اصلاح معاشرہ

 

 اصلاح معاشرہ  

انسانی معاشرہ جب بھی بگاڑ ، نا انصافی اور اخلاقی پستی کے اندھیروں میں ڈوبتا ہے تو اسے کسی ایسے رہنماکی ضرورت ہوتی ہے جو دلوں کو بدل کر ایک پُر امن معاشرے کی بنیاد رکھ سکے ۔ بنی نو ع انسانیت کی اصلاح کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور اللہ تعالی کے برگزیدہ نبیوں سے ہوتا ہوا حضور نبی کریم ﷺپر اختتام پذیر ہوا اور اس کے بعد اللہ تعالی نے امت کی اصلاح کا کام صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اولیاء کاملین سے لیا ۔انسان نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے معاشرتی امن و سلامتی کو خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرتا ہے اور پھر مصائب و آلام میں مبتلا ہو کر اپنی زندگی کو عذاب بنا لیتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے :خشکی اور تری میں ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تا کہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے ،کہیں وہ باز آجا ئیں ۔ ( سورۃ الرو م)
جب حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم معاشی خوشحالی کے باوجود کاروبار میں بددیانتی اور ناپ تول میں کمی کرنے لگے تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا : ناپ اور تول میں کمی نہ کرو بیشک میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں اور مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب کا ڈر ہے ۔ ( سورۃ ھود )
 حضرت شعیب علیہم السلام نے اپنی امت کی اصلاح کرتے ہوئے انہیں فرمایا :اے میری قوم مجھے بتائو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل یعنی علم و حکمت ، ہدایت و رہنمائی اور نبوت سے نوازا گیا ہے اور اللہ تعالی نے مجھے اپنے کرم سے رزق اور مال و دولت کی فراوانی عطا کی ہے تو کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں اپنے فرائض کی ادائیگی یعنی اس کا پیغام تم لوگوں تک پہنچانےمیں کوتاہی کروں ۔ اور میں یہ نہیں چاہتا کہ جس بات سے تمہیں منع کرو ں اور میں اس کے خلاف کرنے لگوں بلکہ حقیقت تو یہ ہےکہ میں زبان سے وہی کہتا ہوں جس پر خود عمل کرتا ہوں ۔میں تو جہاں تک بنے سنوارنا ہی چاہتا ہوں اور میری توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں ۔ ہادی برحق نبی اکرم شافع محشر حضور ﷺ کی ذات گرامی کائنات کا وہ کامل ترین نمونہ ہے جنہوں نے طاقت یا جبر کے بغیر صرف اور صرف اپنی بے مثال حکمت عملی اور اعلیٰ اخلاق سے ایک بیمار معاشرے کو شفاء بخشی ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اصلاح معاشرہ

   اصلاح معاشرہ   انسانی معاشرہ جب بھی بگاڑ ، نا انصافی اور اخلاقی پستی کے اندھیروں میں ڈوبتا ہے تو اسے کسی ایسے رہنماکی ضرورت ہوتی ہے جو دل...