ہفتہ، 7 نومبر، 2026

خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ

 

خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ

 تقوی و پرہیز گاری کا عالم یہ تھا کہ ساری زندگی بوسیدہ جھونپڑی میں گزار دی ۔ آپ ؓ فرماتے اے اللہ میں تجھ سے بھوکے جگر اور ننگے بدن کی معافی چاہتا ہوں ۔ جو لباس میں نے پہنا ہے اور جو غذا میرے پیٹ میں ہے اس کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں ۔ ( تذکر ةلاولیا )۔
حضور نبی کریم ﷺ جب صحابہ کے سامنے حضرت اویس قرنی ؓ کا ذکر کرتے تو صحابہ نے عرض کی ہم میں سے ان کی ملاقات کا کوئی شرف حاصل کر  سکے گا۔ آپﷺ نے فرمایا عمرؓ اور علی ؓکی ان سے ملاقات ہو گی اور ان کی پہچان یہ ہے کہ ان کے پورے جسم پر بال ہیں اور ہتھیلی کے بائیں پہلو پر ایک درہم کے برابر سفید رنگ کا داغ ہے ۔  حضرت عمر رضی اللہ عنہ دس سال سیدنا اویس قرنی کی تلاش میں رہے اور آخر کار سیدنا فاروق اعظم ؓ کو جب حضرت اویس قرنی کے متعلق معلوم ہوا تو  حضرت عمر اور حضرت علی جب وہاں پہنچے تو حضرت اویس قرنی نماز پڑھ رہے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ان کا نام دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا عبدا للہ یعنی اللہ کا بندہ۔ توحضرت عمر نے کہا عبداللہ تو سب ہی ہیں آپ اپنا اصلی نام بتائیں ۔ تو آپ نے فرمایا اویس ۔پھرحضرت عمر نے کہا کہ اپنا ہاتھ دکھائیں آپ نے ہاتھ دکھایا تو جو نشانی نبی اکرم ﷺ نے بتائی تھی وہ نشانی موجود تھی ۔
 حضرت عمر نے جب وہ نشانی دیکھی تو نبی کریم ﷺ کا پیراہن مبارک دیا اور حضو ر ﷺکا سلام بھی پیش کیا ۔اور حضور ﷺ کی امت کے حق  میں دعا کرنے کا پیغام دیا ۔ حضرت اویس قرنی نے کہا اے عمر تمہاری عمر مجھ سے بہتر ہے اور فرمایا کہ میں تو دعا کرتا ہی رہتا ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا لیکن آپ کو دعا کرنے کا حکم ملا ہے۔  حضرت اویس قرنی نے حضور ﷺ کا جبہ مبارک تھوڑی دور لے جا کر اللہ تعالی سے دعا کی اے اللہ تعالی میں اس وقت تک حضور ﷺ کا جبہ مبارک  نہیں پہنوں گا جس وقت تک ساری امت کی بخش نہیں ہو جاتی ۔ دعائے مغفرت کے لیے یہ تیرے حبیب کی وصیت ہے پس تو میری التجا سن لے ۔ (تذکرۃ الاولیا )۔
حضرت سیدنا اویس قرنی زندگی کے آخری بیس سال گوشہ گمنامی میں رہے ۔آپ ؓ کو اللہ تعالی کی راہ میں شہید ہونے کی بڑی تمنا تھی اس لیے اللہ تعالی  سے شہادت کی موت کی دعائیں کرتے تھے۔اللہ تعالی نے آپ ؓ کی دعا کو قبول فرمایا اور حضرت علی ؓ کے عہد خلافت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے  ساتھ جنگ صفین میں شامل ہوئے اور جام شہادت نوش فرمایا ۔
حضرت اویس قرنی ؓ کی شخصیت صبر ، وفا ، ایثار اور محبت رسول ﷺ کا حسین امتزاج ہے ۔آپ نے خواہشات کو اللہ تعالی کی رضا پر قربان کیا ، والدہ  کی خدمت کو عبادت سمجھا ، شہرت سے کنارہ کش رہے اور اخلاص کو اپنی زندگی کا شعار بنایا ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ

  خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ  تقوی و پرہیز گاری کا عالم یہ تھا کہ ساری زندگی بوسیدہ جھونپڑی میں گزار دی ۔ آپ ؓ فرماتے اے اللہ میں تجھ سے ...