نفاق اور اس کی علامات (۴)
ارشاد باری تعالی ہے : اور جب ان سے کہا جائے کہ آئو رسول اللہ تمہارے لیے معافی چاہیں تو اپنے سر گھماتے ہیں اور تم انہیں دیکھو کہ غرور کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں ۔ ان پر ایک سا ہے تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو اللہ انہیں ہر گز نہ بخشے گا بیشک اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا ۔ وہی ہیں جو کہتے ہیں ان پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ کے پاس ہیں یہاں تک کہ پریشان ہو جائیں اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے مگر منافقوں کو سمجھ نہیں ۔ کہتے ہیں ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں ۔ (المنافقون :آیت ۵ تا ۸)۔
منافقین کے احوال بیان کرنے بعد اللہ تعالی مسلمانوں کو خبردار فرماتا ہے کہ اے ایمان والو منافقوں کی طرح تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کریں اور جو ایسے کرے گا وہ ہی نقصان اٹھائے گا اور جو کچھ تمہیں اللہ نے عطا کیا ہے اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو ۔یہ نہ ہو کہ موت کا وقت قریب آجائے اور پھر تم کہو کہ ہمیں مہلت نہ دی کہ ہم تیری راہ میں خرچ کر کے نیکوں میں شامل ہو جاتے ۔
اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں۔ اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا ۔ اور ہر گز اللہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا وعدہ آ جائے اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔(المنافقون:آیت ۹ تا ۱۱)۔
منافق کی ایک علامت یی بھی ہے کہ وہ نیکی سے روکتے اور بُرائی کا حکم دیتے ہیں :منافق مرد اور منافق عورتیں ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں بُرائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں ۔(سورۃ التوبہ )۔ نبی کریم ﷺ نے منافق کی چار علامات بیان کی ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص میں یہ چار علامات پائی جائیں گی وہ خالص منافق ہو گا اور ان میں سے ایک علامت بھی ہوئی تو منافق ہے یہاں تک وہ اسے چھوڑ دے :جب اسکے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ، جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑا کرے توگالی دے ۔ ( بخاری )۔
