مومن (۲)
سورۃ السجدہ میں اللہ تعالی مومن کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : اُ ن کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے ہوئے اور ہمارے دیے ہوئے میں سے کچھ خیرات کرتے ہیں۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی مومن کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ راتو ں کو اٹھ کر نوافل ادا کرتے ہیں اور اپنے رب کو پکارتے ہیں اس سے ڈرتے ہوئے اور اس کی رحمت کی امید سے اور یہ لوگ صدقہ و خیرات کرتے ہیں ۔
جیسا کہ ترمذی شریف میں حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت میں بالا خانے ہیں جن کے بیرونی حصے اندر سے اور اندر والے حصے باہر سے نظر آتے ہوں گے ۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ ﷺ یہ کس لیے ہو ں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو اچھی گفتگو کرے، کھانا کھلائے ، ہمیشہ روزہ رکھے اور رات میں نماز ادا کرے جب لوگ سوئے ہوئے ہوں ۔ سورۃ الفرقا ن میں اللہ تعالی نے مؤمنین کے تقریبا 12 اوصاف بیان فرمائے ہیں۔ارشاد باری تعالی ہے :”اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ اور وہ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام میں ۔ اور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہم سے پھیر دے جہنم کا عذاب بیشک اس کا عذاب گلے کا غُل ہے ۔ بیشک وہ بہت ہی بُری ٹھہرنے کی جگہ ہے ۔ اور کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں
کے بیچ اعتدال پر رہیں ۔ اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی نا حق نہیں مارتے
اور بد کاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا “۔(آیت ۳۶ تا۸۶)۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا تیز چلنا ایمان والوں کی ہیبت ختم کر دیتا ہے ۔ ( حلیۃ الاولیا )۔ نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں ایک شخص نے دوسرے شخص کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا ، دوسرے نے آ گے سے کہا تم پر سلام ہو ۔ اس پر آپ
ﷺ نے فرمایا سنو تم دونوں کے درمیا ن ایک فرشتہ ہے جو بُرا بھلا کہے گئے شخص کا ردکرتا ہے جب یہ تمہیں بُرا بھلا کہتا ہے تو وہ اس سے کہتا ہے نہیں تم ایسے ہو اور تم اس کے زیادہ حق دار ہو اور جب تم اس سے کہتے ہو تم پر سلام ہو تو فرشتہ کہتا ہے نہیں بلکہ تمہارے لیے سلامتی ہو
اور تم اس کے زیادہ حق دار ہو ۔ ( مسند احمد )

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں