اصلاح معاشرہ اور نبی کریم ﷺ کی حکمت عملی
حضور نبی کریم ﷺ کی اسلامی معاشرے کی اصلاح کی بنیاد اللہ تعالی کی واحدانیت کے ازلی اور ابدی اصولوں پر مبنی ہے ۔ایک ایسا معاشرہ جس کے افراد ایک جسم کی مانند ہیں جب کسی جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہے تو اس تکلیف کو پورا جسم محسوس کرتا ہے ۔ اسلامی معاشرے کی مثال ایک خاندان کی طرح ہے اور اسلامی اخوت و بھائی چارے سے جڑا ہے کہ ہر فرد پورے کنبے کی امن و سلامتی کا ذمہ دار ہے ۔
اسلامی معاشرے کی سب سے پہلی بنیاد توحید ہے ۔معاشرے کے ہر فردکے لیے لازم ہے کہ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھے کہ اس کائنات کا خالق و مالک اللہ تعالی وحدہ لاشریک ہے اور ساری کائنات اس کی محتاج ہے جو بھی کام ہوتا ہے اللہ تعالی کے چاہنے سے ہوتا اوراگر وہ نہ چاہے تو کوئی کام نہیں ہوسکتا ۔اللہ تعالی کی تو حید پر جس قدر پختہ یقین ہو گا اسی قدر بندے کا دل بے ایمانی ، خیانت ، خود غرضی ، نفاق اور لالچ سے پاک ہو گا اوروہ دل جو ان چیزوں سے پاک ہوں گے ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھیں گے۔
اللہ تعالی کی وحدانیت کے ساتھ جب تک حضور نبی کریم ﷺ کی اتباع نہ کی جائے اس وقت تک کوئی بھی معاشرہ مکمل نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالی کی واحدانیت کے ساتھ ساتھ اتباع رسول ﷺ لازم و ملزوم ہے ۔ توحید باری تعالی کا رنگ صرف اسی صورت میں صحیح معنوں میں نظر آتا ہے جب معاشرے کا ہر فرد حضور نبی رحمت ﷺ کی سنت کی عملی طور پر پیروی کرے گا ۔ کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ میں تم سے محبت کروں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ تم میرے محبوب ﷺ کی اتباع کرو ۔توحید باری تعالی اور رسالت کے بعد معاشرتی عوامل میں سے تیسرا عامل آخرت پر یقین ہے جس کی وجہ سے انسان ہوشیار رہتا کہ ایک دن آئے گا جس دن مجھے اپنے کیے کی جزا و سزا ملے گی ۔ انسا ن محاسبے اور جوابدہی کے خوف سے ڈرتا رہتا ہے جس کی وجہ سےوہ کبھی گناہ اور شروفساد کے قریب نہیں جاتا ۔جب افراد میں توحید ، اتباع سنت اور فکر آخرت پریقین پختہ ہو جاتا ہے تو ہر فرد فتنہ و فسادکے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے اسلامی معاشرے کی بنیاد تقویٰ ، خدا خوفی ، عدل و انصاف ، احساس ذمہ داری ، حقوق و فرائض کی ادائیگی جیسے سنہری اصولوں پر رکھی ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں