شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۱)
اللہ تعالی نے ہر دور میں ایسے بندوں کو پیدا فرمایا ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں ایمان ، تقوی ، اخلاص ، عبادت اور خدمت خلق سے مزین کیں ۔یہ خوش نصیب ہستیاں اولیا ءاللہ کہلاتی ہیں ۔یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے اپنی زندگی کو آخرت کی کامیابی کے لیے وقف کر دیا ۔ان کی گفتگو میں خیر ، کردار میں پاکیزگی ، معاملات میں دیانت ، دل میں خوف خدا اور زندگی میں اتباع رسول ﷺ نمایاں ہوتی ہے ۔ اللہ تعالی کے یہ مقبول بندے دنیاوی نمود و نمائش کے بجائے اللہ تعالی کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بناتے ہیں ۔ان کی عظمت کسی ظاہری منصب ، دولت یا شہرت کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ ان کا اصل مقام ایمان ، تقوی ، اخلاص، اطاعت الہی، مخلوق خداسے محبت اور خیر خواہی ، دنیا کی محبت سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر سے متعین ہوتا ہے ۔
ولی کے لغوی معنی دوست ، مددگار اور قریب ہونے والے کے ہیں ۔ شریعت کی اصطلاح میں ولی وہ شخص ہے جو ایمان اور تقوی کی دولت سے مالامال ہو ، اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے ۔ارشاد باری تعالی ہے : ”سن لو، بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم ۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کرتے ہیں “۔ ( سورۃ یونس)۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت مبارکہ کی تفصیل میں فرماتے ہیں اولیا ءاللہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ تعالی کی یاد آئے ۔جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے اللہ تعالی کا ولی وہ ہے جسے دیکھ کراللہ تعالی یاد آ جائے ۔( کنزالعمال )۔
حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی عظیم ہستیوں میں سے ہیں جن کی ذات علم و عمل ، زہد و تقوی ، اخلاص و عبادت اور محبت و اصلاح کا حسین امتزاج ہے۔
سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ۴۷۰ ہجری کو عراق کے شہر جیلان میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی شخصیت اور علمی و روحانی کمالات کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ آپ کے والد ماجد سیدنا ابو الصالح موسی جنگی دوست رحمۃا للہ علیہ بہت بڑے عالم و عارف اور اکابر مشائخ میں تھے ۔ آپ کے والد زہد و تقوی اور روحانی اور علمی کمالات کے مالک تھے ۔آپ کے والد ماجد نفس کشی اور ریاضت شرعی میں فرد واحد تھے ۔آپ کی والدہ ماجدہ نہایت پرہیز گار اور علوم ظاہری و باطنی سے مرصع و مرقع تھیں ۔ آپ قرآن پاک کی حافظہ اور بہت زیادہ عبادت گزار تھیں ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں