خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۲)
حضور نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین کو حضرت اویس قرنی ؓ کا حلیہ مبارک بھی بتایا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کی آنکھیں نیلگوں ، دونوں کانوں کے درمیان کافی فاصلہ ، قد درمیانہ ، رنگ سخت گندمی ، ٹھوڑی سینے کی طرف جھکی ہوئی ، آنکھیں سجدہ گاہ پر لگی ہوئیں ، سیدھا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے ، ہر وقت روتا ہوا ، اس کے پاس دو کپڑے ہیں جن کو وہ ہمیشہ پہنے رکھتا ہے ۔ایک پشم کا جامہ اور ایک پشم کی چادر ، دنیا میں کوئی بھی اس کو نہیں جانتا مگر آسمانوں میں سب اسے جانتے ہیں ۔ (مستدرک حاکم )
حضورنبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سیدنا اویس قرنی ؓ کو برص کا مرض لاحق ہوا تو آپ ؓ نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں شفا یابی کی دعا فرمائی کہ اے اللہ مجھے اس مرض سے شفاعطا فرما لیکن ایک نشان میرے جسم پر باقی رکھ تا کہ میں تیری رحمت و شفقت کو ہمیشہ یاد رکھ سکوں ۔ ( مسلم )
حضرت سیدنا اویس قرنی ؓ دنیا کی رنگینیوں سے خود کو دور رکھتے اور عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے ۔اگر کوئی لمحہ اللہ تعالی کی یاد کے بغیر گزر جاتا تو اس پر افسوس ہوتا اور اسے بر ا جانتے ۔ آپ ؓ کی راتیں عبادت رکوع و سجود میں گزرتیں اور دن کو روزہ رکھتے ۔ حضرت فرید الدین ؒ فرماتے ہیں ”اکثر ایسا ہوتا کہ افطار کے لیے کچھ نہ ملتا تو کھجور کی گھٹلیاں چن کر بیچتے اور اس کی قیمت سے قوت لایموت حاصل کرتے ۔خشک خرما اگر مل جاتا تو اسے افطار کے لیے رکھ لیتے ۔اگر زیادہ ہوتا تو تھوڑا رکھ کر باقی خیرات کر دیتے ۔ (تذکرۃ الاولیا )
آپ ؓ اس قدر عبادت میں مشغول رہتے کہ ساری ساری رات اللہ تعالی کی یاد میں مشغول رہتے ۔ ایک رات قیام فرماتے اور اگلی رات کہتے کہ آج کی رات رکوع کی ہے ، تیسری رات فرماتے آج کی رات سجدہ کی ہے ۔اسی طرح ساری ساری رات کبھی قیام، کبھی رکوع اور کبھی سجدہ میں گزار دیا کرتے ۔ آپ ؓ سے پوچھا جاتا کہ آپ میں اتنی طاقت ہے کہ دراز راتیں ایک ہی حالت میں گزار دیں ؟آپ ؓ نے فرمایا :
”دراز راتیں کہاں ہیں کاش ازل تا ابد ایک ہی رات ہوتی جس میں ایک سجدہ کر کے نالہ ہائے بسیار اور گریہ ہائے بے شمار کرنے کا موقع نصیب ہوتا ۔ یہاں تو عالم یہ ہے کہ راتیں اتنی مختصر ہیں کہ صرف ایک دفعہ سبحان ربی الاعلی زبان کہ پاتی ہے تو دن نکل آتا ہے “۔ (تذکرۃ الاولیا )۔ رات کیا سار ا دن بھی آپ ؓ کی تسبیح وتہلیل کا سلسلہ جاری رہتا ۔اگر کبھی نیند کا غلبہ آتا تو اللہ تعالی سے رو رو کر عرض کرتے اے اللہ میں سونے والی آنکھ اور بھرنے والے پیٹ سے پناہ مانگتا ہوں صرف تو ہی میرا اس معاملے میں مدد گار ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں