جمعرات، 12 ستمبر، 2024

Surah Al-Anbiya Ayat 16-18 Part-01.ہم کیا صرف دنیاوی کامیابی کو ہی اصل ک...

خاتم النبین ﷺ

 

خاتم النبین ﷺ


للہ تعالیٰ نے انبیاءکرام علیہم السلام اور رسولوں کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا تھا وہ حضور نبی کریم ﷺ پر آ کر ختم ہو گیا ہے۔ آپ کے بعد قیامت تک نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ ہی کوئی نبی دنیا میں آ ئے گا۔یہ بات قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے اورتمام صحابہ کرام ، محدثین،اور تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔اور جو کوئی اس میں ذرہ برابر بھی شک کرے گا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ 

ارشاد باری تعالیٰ ہے :”محمد (ﷺ) مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاءکے آخرمیں ( سلسلہ نبوت ختم کرنے والے ) ہیں۔ اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے “۔(سورة الاحزاب )۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح اعلان فرما دیا ہے کہ حضورنبی کریم رﺅف الرحیم ہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ سورة المائدہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا “۔اللہ تعالیٰ نے آپ پر دین کی تکمیل کر دی ہے اور اب قیامت تک اسلام ہی بطور دین اللہ تعالی نے پسند فرمایا۔ اس لیے اب قیامت تک دین اسلام کا کوئی بھی حکم منسوخ نہیں ہو سکتا۔ اس آیت مبارکہ سے بھی یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل کر دیا ہے اور اسلام کو بطور دین پسند فرما لیا ہے لہٰذا اب قیامت تک نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ ہی رسول۔ قرآن قیامت تک کے لیے حجت اور برہان ہے اور اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے قرآن مجید کو کسی بھی ردو بدل سے محفوظ فرما دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حضور نبی کریم کی نبوت رسالت قیامت تک کے لوگوں کے لیے ہے نا کہ کسی مخصوص طبقے یا دور کے لوگوں کے لیے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ”بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں “۔ (سورة الحجر )۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :” اور میری طرف اس قرآن کی وحی ہوئی ہے کہ میں اس سے تمہیں ڈراں اور جن جن کو پہنچے “۔ (الانعام)
یعنی کہ آپ فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ میری نبوت کی گواہی دیتا ہے اس لیے کہ اس نے میری طرف قرآن کی وحی نازل فرمائی ہے۔ اورمیرے بعد قیامت تک آنے والے جن افراد تک یہ قرآن پہنچے میں ان سب کو حکم الٰہی کی مخالفت سے ڈراﺅں۔

قربانی کا فائدہ - Quran Sacrifice Benefits: Powerful Islamic Teaching Yo...

Surah Al-Haj (سُوۡرَةُ الحَجّ) Ayat 78 Part-06 .کیا نجات صرف اتباع رسول ...

بدھ، 11 ستمبر، 2024

Surah Al-Haj (سُوۡرَةُ الحَجّ) Ayat 78 Pt-05 .کیا ہم نے اللہ تعالی کے رن...

حضور نبی کریمﷺ کا حسن معاشرت(۲)

 

حضور نبی کریمﷺ کا حسن معاشرت(۲)

اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریمﷺ کو تمام خزانوں کا مالک بنایا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کی تواضع خود اختیار کردہ تھی ۔
ایک مرتبہ ایک فرشتہ جبرائیل امین کی معیت میں حضور نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہﷺ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار دیا ہے کہ آپ ایسے نبی بنیں جو بندہ ہے یا پھر بادشاہ بنیں ۔ حضور نبی کریمﷺ نے جبرائیل امین کی طرف دیکھا، جبرائیل نے کہا کہ تواضع اختیار فرمائیں ۔ 
حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، نبی مکرمﷺ کا یہ معمول مبارک تھا کہ جب گوشت پکاتے تو اہل خانہ کو حکم دیتے شوربا زیادہ بنانااور اپنے پڑوسیوں کی خیر گیری کرنا ۔ حضور نبی کریمﷺ جب کھانا کھانے کا ارادہ فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو دھو لیتے ۔
 حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریمﷺ ایک بڑے برتن میں صحابہ کرام کے ساتھ کھانہ تناول فرما رہے تھے ایک اعرابی نے اس سادگی کو دیکھا تو کہنے لگا یہ کس قسم کی نشست ہے تو حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا، مجھے اللہ تعالیٰ عزت والا بندہ بنایا ہے مجھے جابر اور مغرور نہیں بنایا ۔ اس کے بعد حضور نبی کریمﷺ نے صحابہ کرام کو کھانا کھانے کا طریقہ بتایا کہ پہلے اطراف سے کھائو اس کے درمیان والی چوٹی یوں ہی رہنے دو اس میں تمھارے لیے برکت ڈالی جائے گی۔ اس کے بعد آپؐ نے کھانے کی اجازت دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں حضور نبی کریمﷺ سخت گرم کھانے کو ناپسند فرماتے یہاں تک کہ اس کی شدت کم ہو جاتی ۔ 
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نہ کھانے کی چیز میں پھونک مارتے اور نہ پینے کی چیز میں ۔ صحابہ کرام نے حضورؐ کی بارگاہ میں عرض کی، ہم کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے ۔ آپؐ نے فرمایا، سب اکٹھے ہو کر کھایا کرو اور کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لیا کرو ۔ اللہ تعالیٰ اس کھانے میں تمھارے لیے برکت ڈال دے گا ۔
 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا جب کھائو تو دائیں ہاتھ سے کھائو ۔ پیو تو دائیں ہاتھ سے پیو۔ اور کوئی چیز پکڑو تو دائیں ہاتھ سے لو اور دو تو دائیں ہاتھ سے دو کیونکہ شیطان کا طریقہ ہے کہ وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے ، پیتا ہے ، بائیں ہاتھ سے دیتا اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے ۔ ( سبل الہدی ٰ) 

خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔

  خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔ اسلامی تاریخ ایسی پاکیزہ اور باکمال شخصیات سے مزین ہے جنہوں نے اپنی بے مثال سیرت ، اعلی کردار اور بے لوث ...